تاریخ کے دریچوں سے مذہبی مضامین

شردھانند سے نرسنگھانند تک

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

یہ آستان یار ہے صحن حرم نہیں
جو رکھ دیا ہے سر تو اٹھانا نہ چاہئے

بعض علمائے کرام سوشل میڈیا پر آتشیں امتحان(اگنی پریکچھا) پر بحث کر رہے ہیں اور یہ سوچ رہے ہیں کہ اگر خدا نخواستہ کوئی حادثہ درپیش ہو گیا تو پھر کیا ہو گا؟

پس پردہ حقیقت یہ ہے کہ نرسنگھانند نے اس لئے یہ چیلنج قبول کیا ہے کہ یہ مباہلہ ہونے والا نہیں ہے,کیوں کہ حکومت پرمیشن ہی نہیں دے سکتی ہے۔

نہ نومن گھی ہو گا,نہ رادھا ناچے گی

اگر کسی جان کار اور با شعور اہل باطل کو ظن خفیف بھی ہو کہ آتشیں امتحان ہو سکتا ہے تو وہ ہرگز چیلنج قبول نہیں کرے گا۔اہل باطل کو معلوم ہوتا ہے کہ باطل کبھی فتح یاب نہیں ہوتا۔

اہل باطل میں سے جو ان پڑھ جاہل اور جہل مرکب میں مبتلا ہو جسے اپنے دعوی اور اپنے باطل نظریات کے بطلان کا علم نہ ہو تو وہ جذبات سے بے قابو ہو کر میدان میں اتر سکتا ہے۔

تعلیم یافتہ جاہل جو اپنے دعوی اور اپنے نظریات کے بطلان سے بخوبی واقف ہو,وہ میدان میں ہرگز نہیں اتر سکتا۔

مسئلہ حاضرہ میں تاریخ مقررہ سے قبل ہی کوئی ایسا مانع منظر عام پر آئے گا کہ اگنی پریکچھا نہ ہو سکے۔یہی سب سوچ کر نرسنگھانند نے چیلنج کو قبول کیا ہے۔

ایسی صورت میں ہماری جانب سے قدم پیچھے ہٹا لینا یقینا ہماری بہت بڑی غلطی اور اسلام ومسلمین کی تضحیک کا سامان ہو گا,نیز بہت سے کمزور دل مسلمان بھی شک و شبہہ میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

ہماری جانب سے اگنی پریکچھا کا چیلنج ایک اعلی درجہ کی تدبیر ہے جس کا اظہار ایک مومن کی زبان سے ہوا۔ان شاء اللہ تعالی ہم سرخرو ہوں گے اور دشمن سرنگوں اور شرمسار ہو گا۔اسلام کا بول بالا ہو گا۔باطل کا منہ کالا ہو گا۔

گرچہ دشمن نے ہمارا چیلنج قبول کر لیا ہے,لیکن یا تو وہ پیچھے ہٹے گا,یا اس کے حامیان و طرفداران کوئی ایسی چال چلیں گے کہ یہ کام نہ ہو سکے۔

آتشیں مقابلہ اور امثال و نظائر

بعض احباب آتشیں مقابلہ کے جواز و عدم جواز سے متعلق بھی بحث فرما رہے ہیں۔

سلسلہ رفاعیہ میں اس قسم کے بہت سے خارق عادت امور موجود ہیں۔وہ حضرات روز مرہ اس قسم کے امور کو انجام دیتے ہیں۔یہ امور انجام دینے والے عام افراد ہوتے ہیں۔صاحب سلسلہ حضرت سیدنا سید احمد رفاعی رضی اللہ تعالی عنہ کا فیض ان پر جاری ہوتا ہے۔

روایت کے مطابق اسلام کی حقانیت کے اظہار کے لئے ہی سلسلہ رفاعیہ میں ایسے خارق عادت مشاغل جاری ہوئے ہیں۔کوئی ناواقف شخص ان مشاغل کو دیکھے تو سخت حیرت میں مبتلا ہو گا۔

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کے عہد مسعود سے ہی اس قسم کے کارنامے انجام دیئے جا رہے ہیں تاکہ اہل باطل کو اسلام کی حقانیت کا یقین حاصل ہو۔

1-صحابی رسول حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ نے مقام حیرہ میں زہر قاتل پی لیا اور اس کے برے اثرات سے محفوظ رہے۔یہ دیکھ کر اہل حیرہ بلا جنگ صلح کر لئے اور کشت و خون کی نوںت نہیں آئی۔

2-حضرت عثمان ہارونی علیہ الرحمۃ والرضوان مجوسیوں کی جلائی ہوئی آگ میں داخل ہو گئے اور صحیح وسالم واپس آئے,یہ دیکھ کر بہت سے مجوسی داخل اسلام ہو گئے۔

3-تحریک شدھی کے عہد میں آریہ سماجیوں نے بہت سے مسلمانوں کی گھر واپسی کی کوشش کی۔مختلف مقامات پر علمائے اہل سنت و جماعت نے ان سے مناظرے کئے اور پنڈتوں کو شکست فاش سے دو چار ہونا پڑا۔

موضع آنور ضلع متھرا کے مسلمانوں کو آریہ سماجیوں نے بہکا دیا تھا۔وہ لوگ جلد ہی مرتد ہونے والے تھے۔شدھی کرن کی تیاری ہو رہی تھی کہ اسی درمیان جماعت رضائے مصطفے کا تبلیغی وفد وہاں پہنچا۔علمائے کرام نے تقریریں کیں۔اس وفد میں حضور مفتی اعظم ہند اور حضور شیر بیشہ اہل سنت علیہما الرحمۃ والرضوان بھی تھے۔

دوسرے دن پنڈت شردھانند بھی وہاں پہنچ گیا۔حضور شیر بیشہ اہل سنت نے شردھانند کو مناظرہ کی دعوت دی۔اس نے انکار کر دیا,کیوں کہ مناظروں میں ہر جگہ ان لوگوں کی ہزیمت ہو چکی تھی۔

اس کے بعد حضور شیر بیشہ اہل سنت علیہ الرحمہ نے شردھانند کو پیغام بھیجا کہ ایک گڈھا کھودا جائے۔اس میں آگ جلائی جائے اور ہم دونوں اس میں داخل ہوں۔ان شاء اللہ تعالی اس سے حق و باطل اور صادق و کاذب کا فرق ظاہر ہو جائے گا۔شردھانند نے اس سے بھی انکار کر دیا۔

اس واقعہ کو حضورمفتی اعظم ہند قدس سرہ نے بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اس سے وہاں کے لوگ بہت متاثر ہوئے اور آریہ سماجیوں کے بہکاوے میں نہ آئے۔

یعنی اس چیلنج کا اثر یہ ہوا کہ اس گاؤں کے لوگ مرتد ہونے سے محفوظ رہے۔تفصیل "تاریخ جماعت رضائے مصطفے”(ص:255)میں مرقوم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے