خواجہ غریب نواز منقبت

منقبتِ سلطان الہند خواجۂ خواجگاں خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

نتیجۂ فکر: عبدالمبین حاتم فیضی، مہراج گنج

ہم ان کا دیکھنے روضہ، چلو اجمیر چلتے ہیں
جگانے بختِ خوابیدہ، چلو اجمیر چلتے ہیں

زہے قسمت کبھی ہم کو ملے موقع یہ، ہم بولیں
"بلاتے ہی ہمیں خواجہ چلو اجمیر چلتے ہیں”

غریبو ! بد نصیبو ! ناشکیبو ! حوصلہ رکھو
بدلنے ہاتھ کی ریکھا، چلو اجمیر چلتے ہیں

جومنگتوں کوہمیشہ جھولیاں بھربھر کےدیتا ہے
وہاں ہے ایسا اک داتا، چلو اجمیر چلتے ہیں

زمینِ ہند کا حاکم بہت تکلیف دیتا ہے
سنانے درد کا قصہ ، چلو اجمیر چلتے ہیں

گداؤ ! بے نواؤ ! غیر کا در کھکھٹاؤ مت
کہ ہیں حاجت روا خواجہ،چلو اجمیر چلتے ہیں

فقیر و بادشہ اک ساتھ ہوتے ہیں جہاں حاتم
نظَارہ کرنے اس در کا، چلو اجمیر چلتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے