سماج و معاشرہگوشہ خواتین

مضبوط خاندان، مضبوط معاشرہ

تحریر: سیدہ دردانہ عتیقہ
بیدر، کرناٹک
JIH, women’s wing

ایک ایسا خواب جسے ہر دور میں، ہر باشعور شخص نے دیکھا لیکن اسے شرمندۂ تعبیر نہ کر سکا. حیرت ہے کہ اشرف المخلوقات کہلانے والا انسان اپنے معاشرے کو فلاح و بقا کی جانب راغب کرنے میں ناکام ہی رہ جاتا ہے. ہر بار، ہر دور میں، ہر مذہبی قائد اپنے مقلدین کو فلاح کی جانب پکارتا ہے اور ہر بار بے راہ روی کا شور مچتا رہتا ہے.
میرے ذہن میں یہ سوال اکثر اٹھتا ہے کہ ہم ایک صحت مند، مضبوط معاشرہ کیوں نہیں بنا پاتے؟

      مجھے لگتا ہے کہ مضبوط خاندان کا عمل ماں باپ کے کردار سے شروع ہوتا ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "ماں کے قدموں تلے جنت ہے”، نیز یہ کہ "باپ جنت کے دروازوں میں بیچ کا دروازہ ہے. ” ہم نے سکول میں نمبر کمانے کے لیے یہ حدیث رٹ تو لی لیکن کہاں اپنے ماں باپ کی ویسی خدمت و عقیدت و محبت نبھائی جس کا تقاضہ اسلام کرتا ہے. اللہ سبحان و تعالٰی نے قرآن میں کتنی مرتبہ والدین کے حقوق سمجھائے. سورۃ الاسراء کی آیت 23 میں اللہ نے اپنی عبادت کے بعد والدین کے ساتھ صلح رحمی کی تلقین کی.

سورۃ الاسراء کی آیت 24 میں معافی طلب کرنے اور رب کی اطاعت کرنے پر پچھلے قصور معاف کرنے کا یقین بھی دیا. اسی سورۃ میں آگے اللہ نے رشتے دار، پڑوسی، ضرورت مند، مسافر، یتیم ہر کسی کے حقوق واضح کیے. جو ہمیں ایک ذمہ دار فردِ معاشرہ ہونے کا احساس دلاتے ہیں. جیسے جیسے میں نے قران اور احادیث کا مطالعہ کیا میرا سوال مستحکم ہوتا گیا کہ قران اور احادیث کے اتنے بڑے خزانوں کے ہوتے ہوئے ہمارے خاندان خالی کیوں ہیں؟

ہم میں سے اکثر لوگ عمل کے میدان میں آگے ہوتے ہوئے بھی ناقص الوجود کیوں ہیں؟ ہمارا وجود رشتوں کی میزان میں  ہلکا کیوں پڑ جاتا ہے ؟ کیوں ہم اپنے خادان کا ایک بوسیدہ سا ستون ہیں؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے.
صاف نیت والے دل ہر حال میں خدا کے مشکور اور اس کے بندوں کے لیے فراخ ہوتے ہیں. بغض، کینہ، تنگ دلی جیسے منفی جذبات سے پرے یہ دل اعلیٰ ظرف اور نرم ہوتے ہیں. رشتوں کو نبھانے کا سلیقہ ان میں خوب ہوتا ہے. عفو و در گزر ان کی سرشت ہوتی ہے.
اور ہم نے نیت میں ملاوٹ کی تو ان ساری خصوصیات سے محروم ہو گئے اور یوں اپنے خاندان کے بوسیدہ ستون ٹہرے.
علم نے ہمیں معتبر کیا تو نیت کی کھوٹ نے مغرور کر ڈالا. عمل نے سرخرو کیا تو نیت کی کھوٹ نے معزول.

         جو بات اپنے کچھ تجرباتِ زندگی سے میں نے سیکھی وہ یہ ہے کہ ہم کو انفرادی طور پر نیت کی اصلاح پر سب سے پہلے کام کرنا ہے. اگر ہماری نیت صاف ہوگی تو ہمارے افکار خود بخود مثبت رخ اپنا لیں گے. امر بالمعروف و نہی عن المنکر، وتواصو بالحق وتواصو بالصبر کو ادفع باالتی حی احسن کے طرز پر کرنا سیکھ لیں گے. تنقید و طنز سے بچ جائیں گے جو رشتوں کو دیمک کی طرح کھا جاتے ہیں.

       ایک بار ہم خود کی اصلاح کر لیں تو ہمارے اطراف پھیلا منفی خول ٹوٹ جائے گا اور ہم ایک مضبوط خاندان کے مضبوط ستون کی حیثیت پا لیں گے. اگر ہر نیکی فی سبیل اللہ کرنے کی نیت کر لیں تو پھر اللہ بھی اپنی رسی ہمارے سہارے کے لیے دراز کر دیں گے یعنی قران کے احکام کو سمجھنا اور ان پر صدق دل سے عمل کرنا ہمارے لیے آسان ہو جائے گا اور ہم اس کی رسی کو تھامے اپنی منزل یعنی مضبوط معاشرہ تک کا سفر شروع کر لیں گے۔ ان شاء اللہ

ہما اکبر آفرین

محترمہ ہما اکبر آفرین صاحبہ گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولا بازار سے تعلق رکھنے والی بہترین قلم کار ہیں۔ فی الحال موصوفہ ہماری آواز کے گوشہ خواتین و اطفال میں ایڈیٹر ہیں۔ ہماری آواز

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button