سیرت و شخصیات

جوبادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں

حضرت قاضی عبدالجلیل صاحب رح کاسانحۂ ارتحال قضاءکےایک زریں عہد کا خاتمہ

ازقلم: احمد حسین قاسمی مدنی
معاون ناظم امارت شرعیہ

موجودہ وقت میں منصب قضاءکے جملہ تقاضوں اور ضرورتوں کوپوراکرنے والے ممتاز عالم دین, اس باب کی بےپناہ علمی وتجرباتی نزاکتوں کوسمجھنےوالی منفردگوناگوں صفات کی حامل شخصیت اورقضاءکےباب میں عہدماضی کی آخری سنہری کڑی وہ حضرت مولاناعبدالجلیل صاحب قاسمی علیہ الرحمہ قاضی شریعت بہاراڈیشہ وجھارکھنڈکی ذات گرامی تھی کارقضاءکےتمام پہلؤوں پرآپ موصوف کی یکساں نظر تھی بہت باریک بینی سے آپ معاملات کوسمجھتے, مسلوں کاتفصیلی مطالعہ فرماتے,پوری گہرائی سےہرایک کاجائزہ لیتے اور قرآن وسنت وشرعی مسلمات کی روسےفیصلے صادرفرماتے آپ کی نظر علوم عربیہ نحووصرف کےعلاوہ نصوص اسلامیہ پرکافی گہری تھی مبادیات سےلےکر منتہیٰ درجے کےاصول وقواعد پر حددرجہ کی گرفت تھی معاملہ چھوٹاہویا بڑا بڑی یکسوئی اوردقت نظر سےکام لےکر اسے حل فرماتے اور پھراپنے فیصلوں پر پورے وثوق واعتماد کےساتھ جم جاتےاس میدان میں اللہ عزاسمہ نے حضرت قاضی صاحب کو بلا کی حکمت اور اولو العزمی عطاء کی تھی ابھی کل کی بات ہے کہ امارت شرعیہ کے کہنہ مشق اور صاحب بصیرت قاضی شریعت مولانا قاسم صاحب مظفرپوری اور قاضی حبیب اللہ قاسمی قاضی شریعت مدہوبنی علیہما الرحمہ کاوصال ہواتھا اور آج حضرت قاضی عبدالجلیل صاحب قاسمی رح بہار اڈیشہ جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے چیف قاضی کاسانحہ ارتحال پیش آیا جوامارت شرعیہ سمیت پوری ملت اسلامیہ کیلئے ایک بڑا حادثہ ہے اب ایسے طویل تجربات رکھنےوالے قضاۃ نہیں رہےانحطاط کےاس دور میں ان اٹھنےوالےاساتذہ علم کا نعم البدل توبہت مشکل ہے ہاں ان کے ہاتھوں سے اللہ نے بہت سے جوہر بھی تیار کرائے ہیں جو ملک وبیرون ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور کار قضاء کی خدمات انجام دےرہےہیں یہ رخصت ہونےوالی ان علمی شخصیتوں کی جانب سےخداکےحضورایک مقبول صدقہ جاریہ ہے جودفتری مرکزسےلےکرملک کی مختلف ریاستوں میں دارالقضاءکے کاموں کو سنبھالےہوئےہیں یوں تو آپ کی شخصیت وخدمات پر ملک وبیرون ملک کےمقتدراہل قلم لکھیں گے اور جس نے جتناقریب سے دیکھا ہےاسی قدر
آپ کی خدمات کامفصل ومتنوع تذکرہ بھی کریں گے مگر راقم سطور نےمختصر دنوں میں جوآپ کو دیکھاہے اس کا خلاصہ یہ ہیکہ اس دور پرتکلف میں آپ اکابرین کی سی سادگی وتواضع رکھتے تھے آپ کےذوق ومزاج میں حددرجہ سادگی تھی جس بات کو حق سمجھتے بےباک ہوکرسادہ اندازمیں کہہ دیتے کہیں کوئی تکلف وتصنع نہیں بڑی خندہ روئی اور مسکراتے ہوئے عام وخاص سے ملاقات فرماتے مگر قضاء کے اصول میں قابل توجہ امور کا پورا خیال رکھتے جوایک قاضی کی شان ہوتی ہے اس سے ہرگزمداہنت نہ فرماتے اور اپنے شاگردوں کوبھی اس حوالے سے متوجہ کرتےرہتے رہناسہنا بالکل عام شخص کاساتھا موجودہ زمانے کی چمک دمک نےہرگز آپ کےطرزحیات کو متأثر نہیں کیاتھا باتوں میں اتنی مٹھاس اور نرمی تھی کہ آپ کےلب و لہجہ سے بات کرنے والا آپ کی علمی قدرومنزلت کا پتہ نہیں لگاسکتاتھا معاملات کے بڑے صاف وشفاف واقع ہوئے تھے بات کرتے تو پوری بات کرتے اور باتوں کی گہرائی تک پہنچتے آپ اعلٰی اخلاق واقدار کے مالک عالم دین تھے اس زمانےمیں تقوٰی وپرہیزگاری کی مثال تھےآپ میں جماعت کی پابندی انتہاء درجہ کی تھی آپ کی تکبیراولیٰ شاید ہی کبھی فوت ہوتی تھی ذاتی زندگی میں بھی آپ کا نمایاں مقام تھا اوراجتماعی کاموں میں بھی اعلیٰ شان رکھتے تھے حضرت قاضی مجاہدالاسلام صاحب اور مفتی جسیم الدین صاحب رحمہمااللہ کے بعد قضاء کے کاموں کو مضبوط کرنے اور اس شعبے کو وسعت دینے میں بھی آپ کی گراں قدر خدمات رہی ہیں۔کارکنان امارت شرعیہ سے بڑی محبت فرماتےآج ہی کاواقعہ ہےبندہ ظہرکے بعد حسب معمول دفتر جارہاتھابندہ نےحضرت موصوف کوسلام کیا آپ نےمسکراتےہوئے جواب دیااورفورااپنا ہاتھ مصافحہ کےلئے بڑھادیاخیریت دریافت کرنے پرآپ نے اللہ کاشکراداکیااورایک رخصت اورالوداع کرنےوالےکی طرح دعاء دینےلگےایسا محسوس ہوا کہ دوسرے دن کی بنسبت آج طبیعت میں زیادہ فرح وانبساط تھا مولٰی ہی بہتر جانےکیا بات تھی ۔اللہ حضرت کو کروٹ کروٹ راحت نصیب فرمائے اور آپ کی تمام دینی خدمات کوآپ کی مغفرت ونجات اوربلندئ درجات کاذریع بنائے۔ آمین

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button