خواجہ غریب نواز گوشہ خواتین

کردار خواجہ غریب نواز کے تابندہ نقوش (قسط چہارم)

تحریرؒ بنت مفتی عبدالمالک مصباحی، جمشیدپور

❼ ـــ آج آٹھویں صدی میں بھی عاشقانِ خواجہ کی کثرت کیسے؟
اس کی بے شمار وجوہات ہیں جن میں سے تین یہاں ذکر کی جاتی ہیں :
1__ آپ – رحمة الله عليه – کو اللہ اور اس کے رسول – ﷺ – نے ہمارے لیے، بس ہم تک اسلام پہنچانے کے لیے اتنے دور دراز کا سفر کروا کر بھیجا اور آپ ہی کے صدقے نیز آپ کی محنت و مشقت سے ہم میں سے اکثر کے اجداد مسلمان ہوئے اس لیے بھی آج تک بلکہ جب تک مسلمانان ہند (ایشیاء) رہیں گے تب تک آپ کا عشاق رہیں گے؛ ہر ایک اپنے محسن سے محبت ہوتی ہے اور ہمارے بڑے محسن ہمارے خواجہ ہیں پھر بھلا ان سے کیوں کر محبت نہ ہو – آپ کی ذات کے متعلق علامہ آسی پیا یہ شعر بڑا اچھا ہے :
مکان کفر میں ایمان بن کے جو چمکے
چراغ خانئہ حیدر میرے غریب نواز

2__ ایک وجہ یہ بھی آپ – رحمة الله عليه – کو اس دنیا سے پردہ فرمائے ہوئے آٹھ سو سے زائد سال ہونے کے باوجود آج بھی لوگ ان کے نام اور ان کے فیوض سے برکتیں پاپا رہے ہیں، مرادیں پوری ہو رہی ہے، آپ کے صدقے بگڑیاں بنتی نظر آ رہی ہیں اسی لیے عشاق کی تعداد کبھی کم نہیں ہوتی بلکہ جن کے در سے بگڑیاں بنتی ہیں ان کی محبتیں دلوں میں بستی ہے، آپ – رحمة الله عليه – کے در با برکات سے فیض پانے والے یعنی استاذ زمن نے کیا خوب کہا ہے:
خواجئہ ہند وہ دربار ہے اعلٰی تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا

3__ عشاق کی کثرت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ – رحمة الله عليه – بھی اپنے مردین و محبین سے بے پناہ محبت فرماتے ہیں اور صرف حیات ظاہری ہی میں نہیں بلکہ بعد وفات بھی قیامت تک ہونے والے مردین و محبین کے لیے اس وقت دعا فرمایا جب آپ رحمتہ اللہ علیہ حرم کعبہ میں مصروف عبادت تھے اور آواز آئی کہ "اے معین الدین! میں تجھ سے خوش ہوں، تجھ کو بخش دیا، جو کچھ تمھاری خواہش ہے مانگو تاکہ میں تم عطا کروں” – آپ نے دعا فرمائی :”اے اللہ! میرے مریدوں کو بخش دینا“ – آواز آئی :، "اے معین الدین! تو میرا مخصوص و برگزیدہ بندہ ہے تیرے تمام مرید جو بھی تیرے شجرے میں شامل ہوں گے سب کو بخش دوں گا ” –
اس کے بعد خواجہ غریب نواز – رحمة الله عليه – اکثر فرمایا کرتے تھے کہ: "جب تک میرے مرید اور مریدوں کے مرید جنت میں قدم نہیں رکھ لیں گے میں بہشت میں داخل نہیں ہوں گا” – {سیر الاقطاب مترجم تذکرہ خواجگان چشت، ص ١٣٩،مطبع نفیس اکیڈمی کراچی}

نکتہ : _ یہاں خواجہ غریب نواز – رحمة الله عليه – کے اس فرما کے ذکر کرنے کے یہ واضح کر دینا ضروری کہ اولیاء کرام کے اس قسم کے فرمودات اور جملے جو تاریخ میں مذکور و مشہور ہیں ان کی وجہ سے کوئی مسلمان اور مرید یہ سوچ کر خود کو ہلاک نہ کر دے ہم فلاں بزرگ سے مرید ہو گئے تو بس ہمارا بیڑا پار؛ معاذ اللہ ہمیں اب علم و عمل کی کوئی حاجت نہیں؛ اس خیال باطل کی تردید میں ڈاکٹر غلام زرقانی صاحب نے دفاعی تحریک نام سے مضمون لکھا ہے جس کا یہ اقتباس پڑھنے کے لائق ہے، آپ لکھتے ہیں : یاد رہے کہ اولیاء اور صوفیاء کے ایسے اقوال کا مفہوم ایسا ہی جیسے "اللہ کے ولی کو نہ کوئی خوف ہے نہ حزن و ملال” یعنی جس طرح بے عمل اللہ کا دوست نہیں ہو سکتا، اسی طرح بے عمل "مرید خواجہ یا مرید غوث اعظم” کیوں کر ہو سکتا ہے؟ اب بات یہ ہوئی کہ میرا مرید جنتی ہے، یعنی وہ شخص جو حقیقت میں میرے نقش قدم پر ہے وہ جنتی ہے – اور اس کوئی شک و شبہ نہیں کہ جسے اولیاء کی عنایات کے صدقے ان کے طرز حیات کو اپنانے کی سعادت میسر آئیں وہ دونوں جہاں میں کامیاب و کامران ہے – (ملتقطا سہ ماہی فیضان جمشیدپور، جولائی، اگست، ستمبر 2006)
_
اس قسم کے جملے کو اگر بیان کیا جائے تو اتنی وضاحت ضروری ہو جاتی ہے سو ہم کر دیا –

بہر حال یہ ہے خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی سِجْزِی اجمیری – رحمة الله عليه – کی حیات کے تابندہ نقوش کی چند جھلکیاں جس کی روشنی میں روز روشن کی طرح یہ عیاں ہو گیا ہے کہ ”من جھد وجد“ آپ – رحمة الله عليه – کو اگر آج بھی خواجہ ہند کہا جاتا ہے تو یوں ہی نہیں بلکہ ایران سے ہندوستان آنے میں بے پناہ دشواریوں کا سامنا کیا، راہ حق میں بے نظیر قربانیاں دی جس کی گواہی خود غیب سے ملی "حَبِیْبُ اللّٰـهِ مَاتَ فِی حُبِّ اللّٰـهِ” یعنی جس نے اپنی پوری زندگی اللہ کے لیے وقف کر دی حتی کہ روح بھی اللہ کی محبت میں جسم عنصری سے ٦/رجب المرجب ٢٣٦؀ء میں پرواز کر گئی –
اب ہم اتنے ہی پر بات سمیٹتے ہیں کہ آپ – رحمة الله عليه – کی ذات کو کما حقہ بھلا ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں جب بڑے بڑوں نے یہ کہہ کر اپنی بات مکمل کر دی کہ…..
ہے تیری ذات عجب بحر حقیقت پیارے
کسی تیراک نے پایا نہ کنارا تیرا (حسن رضا)

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم تمامی کو فیضان خواجہ سے فیض یاب فرمائے نیز سلطنت خواجہ کو پر امن و سلامت بنائے-

ترے در کی ہو خیر شہِ اجمیر
مٹے غم کی اندھیر شہِ اجمیر
(فریدی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے