مذہبی مضامین

درگاہ بن رہے ہیں لغوی”مزار“؟

ازقلم: انصار احمد مصباحی، اتردیناج پور

ابھی ذرا دیر پہلے، لال گنج برج کے اوپر ایک ڈی جے بج رہا تھا، یہ کسی دیوی کے پوجا کا موقع تھا۔ ارد گرد پچاسوں لڑکیاں ناچ رہی تھیں، اکثر لڑکیاں مستی میں دھت تھیں۔

میں نے حیران کرنے والی بات یہ دیکھی کہ ان خوبصورت دوشیزاؤں میں نوجوان لڑکے نام کے نہیں تھے۔ صرف چار پانچ لڑکے ہوں گے، جو ڈی جے کی دیکھ بھال میں لگے تھے۔

دو دن پہلے محمد پور کے عرس میں جانا ہوا تھا۔ وہاں کی بے حیائیاں لکھنا میری طاقت سے باہر ہے۔ چھیڑ خانی، لڑکی بازی، دھکا مکی جیسے غیر مہذت افعال کھلے عام انجام دیے جا رہے تھے۔ مغرب کے قریب عرس کی تقریبات کے اختتام کا اعلان کیا گیا۔ اعلان کے ساتھ ہی دست درازی، چھیڑ خانی ، آپسی لڑائیوں نے اتنا زور پکڑ لیا کہ دیکھ کر کسی بھی مذہب کے ماننے والے مہذب انسان کا سر شرم سے جھک جائے۔
جہاں دو تین لڑکیاں کسی مرد کے بغیر دیکھی، اوباشوں کے گروہ نے دو تین طرف سے گھیر کر ان سے مستیاں کرنی شروع کردی۔

میں نے وہیں ارادہ کیا تھا کہ ایک طویل خط لکھ ڈاکٹر ریحان قادری صاحب کے حوالے کیا جائے؛ پتا چلا حضرت کا تعلق دربھنگہ سے ہے۔

اب آپ سوچیے! یہ ہندو قوم ہے، جو کہ اپنی خرافات میں بھی تہذیب کا دامن دھامی ہوئی ہے۔ اور ایک ہم ہیں کہ مذہبی رسوم ہی کو خرافات کی آماجگاہ بنا رکھیں ہیں۔

کیا قوم مسلم کو اس قوم سے سبق سیکھنے کی ضرورت پڑ گئی، جن کی مشابہت کو بھی گمراہی سے تعبیر کیا گیا ہے؟
ہر گز نہیں۔ کیا سہی ہے کیا غلط ہے! ہم سب جانتے ہیں۔

ایک بات یاد رکھیے! جو نوجوان عرسوں اور میلوں ٹھیلوں میں لڑکیاں چھیڑ نے جاتے ہیں، وہ بھی اپنے لئے کسی ایسی شریف لڑکی کو ترجیح دیتا ہے، جو عرسوں اور میلوں کے لئے گھر سے نہیں نکلتی ہو

یہ خرافات اہل عرس ختم نہیں کریں گے۔ ہمیں اور آپ کو ختم کرنے ہیں۔ خدا کے واسطے اپنی بہن، بیٹی، بیوی اور گھر کی عورتوں کو میلوں کی زیارت گاہ بننے کی اجازت مت دیجیے!

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button