غزل

جیل نامہ

خیال ناطق

عابد شب گزار جیل میں ہے
رحمت کردگار جیل میں ہے

بےگناہی کی سزا پرخوش ہے
سیکڑوں کا وقار جیل میں ہے

خانقاہوں میں آج کچھ بھی نہیں
خانقاہی بہار جیل میں ہے

دن میں روزہ نماز کاجلوہ
دیکھو تقوی شعار جیل میں ہے

شب میں ذکر خفی کی مستی ہے
ذکر رب کا خمار جیل میں ہے

پاس انفاس ہی کی برکت ہے
طے کا اب روزہ دار جیل میں ہے

رب کے اسماء کے ورد سے روشن
روشنی کا مینار جیل میں ہے

آج روحانیت کی جلوہ گری
دیکھو ناطق بہار جیل میں ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے