غزل

غزل: بھوکے مزدور کو رلاتا رہا

نتیجۂ فکر: ناطق مصباحی

کامیابی کا گیت گاتا رہا
بھوکے مزدور کو رلاتا رہا

بےکسوں کوجودیکھاسڑکوں پر
سرجھکاکروہ مسکراتا رہا

اچھی ڈگری ھےروزگار نہیں
جوبھی مانگاوہ مارکھاتارہا

اچھے اچھوں کو کیا ھےبدحال
فتح کا جشن وہ مناتا

بینک جولوٹااماں اسکوملی
پوری جنتاکووہ ستاتارہا

اپنی سازش سے بندکی تعلیم
محنتی بچہ بھی آوارارہا

جوبھی حامی ہے اس کا اے ناطق
تھپکیاں دے کےوہ سلاتا رہا

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button