سماج و معاشرہ

خودکشی مسائل کا حل نہیں

تحریر: گل گلشن، ممبئی

چند روز قبل عائشہ نامی لڑکی نے خودکشی کر لی۔اس طرح کے حادثے ہر انسان کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔اس خودکشی کے پیچھے دو باتیں ہیں۔بے شک کچھ وجوہات رہی ہوں گی ۔لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہر مسلمان موت کے بعد کی زندگی سے واقف ہے اور ہم کبھی بھی دوسرے گھر میں شفٹ ہونے کے لئے پہلا گھر نہیں توڑیں گے۔ اس دنیا کی تکلیف تو پھر بھی عارضی ہیں۔زیادہ سے زیادہ ٧٠ ۔٨٠ برس۔لیکن اُس دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے اور قرآن میں صاف طور پر لکھا ہے کہ "”تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے”
اس آیت کے مفہوم سے واضح ہو جاتا ہے کہ ہم پر اپنے جسم و جان اور تمام اعضاء حفاظت کی ذمداری ہے۔
در حقیقت انسان کا اپنا جسم اور زندگی اس کی ذاتی ملکیت نہیں ہے بلکہ اللّه پاک کی عطاء کردہ امانت ہے۔زندگی بہت بڑی نعمت ہے۔
قرآن کی ایک آیت کا مفہوم ہے کہ "اور اپنی جانوں کو ہلاک مت کرو بے شک اللّه تم پر مہربان ہے۔”
اور کیا کوئی بھی احساس، جذبات یا کوئی بھی رشتہ انسانی عزم سے بڑھ کر ہے۔کوئی بھی سوچ ہم پر تب تک اثر انداز نہیں ہوگی جب تک ہم اس سوچ کو ذہن پر حاوی نہ کر لیں۔ہمیں ذہنی طور پر خود کو مضبوط بنانا ہوگا۔تبھی ہم اس دنیا میں سکون سے جی پائیں گے۔کسی بھی سوچ کو خود پر حاوی نہ کریں اور جذباتی طور پر خود کو بہت مضبوط کر لیں اور یقین رکھیں۔کہ جس اللّه نے بچپن سے جوانی تک پہنچایا بیشک وہی آگے کی زندگی کا بھی مالک ہے۔اس پر بھروسہ رکھیں اور اللّه نے خود فرمایا ہے کہ میں میرے بندوں کے گمان جیسا ہوں۔تو اچھا سوچیں اچھا ہوگا اور خدارا خود کو ایک معمولی سی تکلیف سے نجات دینے کے لئے اپنے عزیز و اقارب کو عمر بھر کی تکلیف میں مبتلا نہ کریں کیونکہ تمہارا غم وقتی ہے اور وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا لیکن تمہارے اپنے جب تک جییں گے تمہارے لئے روئیں گے۔اور حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے جس نے آپ کو دکھ دیا ۔بیشک اللّه سب دیکھتا ہے۔

کسی شاعر نے کہا ہے

ذرا ٹھوکر لگے تو خودکشی کی بات کرتا ہے
بشر اس دور کا کچھ الجھنوں سے کتنا ڈرتا ہے

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button