سیاست و حالات حاضرہ

دعوتِ فکر

ازقلم: محمد ایوب مظہر نظامی

موجودہ خانقاہی نظام اور مشائخ عظام کا غیر ذمہ دارانہ کردار پر سوشل میڈیا سے لے کر پرنٹ میڈیا تک مختلف قلم کاروں کے مختلف انداز میں ناقدانہ تحریریں نظر نواز ہوتی رہتی ہیں، سب اپنے اپنے انداز میں اس موضوع پر اظہار خیالات کرتے رہیں ہیں، کسی نے خانقاہوں کو ان کے اصل ذمہ داری کا احساس دلانے کی کوشش کی ہے، تو کسی نے مشائخ عظام کے دینی و مسلکی ذمہ داریوں کا تنقیدی جائزہ لیا ہے، کسی نے جماعتی و مسلکی منافرت کا اصل ذمہ دار ٹھہرایا ہے، تو کوئی ان کی دست بوسی اور نذرانہ پر معترض ہیں، اور ہونا بھی چاہیے
کہ موجودہ خانقاہیں اپنے قیام و وجود کے بنیادی اغراض و مقاصد فراموش کر چکی ہیں اور مشائخ عظام بہت حد تک اپنے اصل مقاصد و اہداف سے منحرف ہو چکے ہیں، لیکن مجھے حیرت اس پر ہوتی ہے کہ جہاں خانقاہی نظام اور موجودہ مشائخ کی بات ہوتی ہے تو بعض "دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں” صاحبانِ جبہ و دستار آج کے مشائخ کا موازنہ چوتھی، پانچویں صدی ہجری کے صوفیاء اور مشائخ سے کرتے ہیں، میرے ناقص خیال سے یہ موازنہ نہایت غیر ذمہ دارانہ اور بنیادی طور پر غیر منصفانہ ہے،اس لئے کہ اہل مدرسہ کو اگر یہ حق حاصل ہے کہ وہ آج کے مشائخ کا موازنہ حسن بصری اور ابراہیم بن ادہم سے کریں، تو پھر اہل خانقاہ کو بھی یہ حق دیا جانا چاہیے کہ وہ آج کے علماء کو غزالی اور رازی کی علمی و فکری کسوٹی پر پرکھیں، اگر اہل مدرسہ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ خانقاہی نظام جس نے ماضی میں نظام الدین اولیاء جیسے اصحابِ توکل و قناعت پیدا کئے آج ذخیرہ اندوز پیر ہی کیوں پیدا کر رہا ہے، تو اہل خانقاہ کو بھی اس سوال کی اجازت دی جائے کہ جس درس نظامی نے ملا عبد العلی فرنگی محلی، فضل حق خیرآبادی جیسے نابغۂ روزگار قوم کو دئیے وہ آج محض دو رکعت کا امام ہی کیوں پیدا کر رہا ہے، اگر یہ درست ہے کہ آج بھی درسگاہوں میں بعض ایسی شخصتیں موجود ہیں جن کو دیکھ کر حافظ ابن حجر اور علامہ سیوطی کی یاد تازہ ہو جاتی ہیں، تو پھر یہ حقیقت بھی تسلیم کیا جانا چاہیے کہ اس گئے گزرے دور میں بھی خانقاہوں کی ٹوٹی چٹائی پر بعض ایسی ہستیاں جلوہ افروز ہیں جو اپنی آستینوں میں ید بیضا رکھتی ہیں،
در حقیقت کھلے دل سے ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہیے کہ ہماری ملت زندگی کے ہر شعبے میں زوال و پستی کا شکار ہے، یہی وجہ ہے کہ رسم آذاں باقی ہے مگر روح بلالی رخصت ہوئی، مدرسوں میں فلسفہ آج بھی پڑھایا جاتا ہے مگر تلقین غزالی ندارد، مولوی بہت ہیں مگر مولائے روم نظر نہیں آتا، اسی طرح خانقاہ بھی ہر قدم پر ہیں مگر شمس تبریز کی مسند خالی ہے، جب اجتماعی طور پر ہمارا یہ حال ہے تو سارے بگاڑ اور فساد کی جڑ خانقاہ اور مشائخ کو قرار دینا کسی بھی صورت صحت مندانہ انداز فکر نہیں کہا جا سکتا، اس لئے ہم سب کو گہرائی سے اپنا اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اور اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button