مذہبی مضامین

اسلام میں صفائی ستھرائی اور ہم مسلمان

تحریر: ابومعاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی
خادم تدریس: جامعہ نعمانیہ، ویکوٹہ، آندھرا پردیش

موجودہ دور میں ہم مسلمانوں کی جہاں بہت ساری کم زوریاں دنیا بھر میں مشہور ہیں، ان میں ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں پاکی صفائی پر توجہ نہیں دی جاتی ہے، جو لوگ مذہب اسلام سے ناآشنا ہوتے ہیں وہ عام طور پر یہی سمجھتے ہیں کہ اس مذہب میں صفائی ستھرائی کے بارے میں کوئی تعلیم نہیں ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مسلمانوں نے ان کو یہ سوچنے پر مجبور کئے ہیں ، ہماری شناخت بھی یہی ہوگئی ہے کہ اگر کوئی محلہ، یامحلے کی گلیاں اور نالیاں گندگیوں سے اٹی پڑی ہیں، جہاں گندگیاں بھری پڑی ہوں اور معلوم نہ ہو کہ یہ محلہ کن لوگوں کی ہے تو یقین کرلینا چاہئے کہ یہ مسلمانوں کا محلہ اور انہیں کی بستی ہے کیونکہ ان کے علاوہ کوئی اور قوم اس طرح گندگیوں میں رہنا پسند نہیں کرتی ہے۔
اس طرح سے یہ پیغام جاتا ہے کہ مذہب اسلام میں صفائی ستھرائی کا کوئی اصول و ضوابط نہیں ہے، اور غیروں کے ذہن و دماغ میں یہ بات گھر کرتی ہے کہ یہی اسلام اور مسلمانوں کی حقیقی تصویر ہے۔
جب کہ ایسا بالکل نہیں ہے کہ مذہب اسلام میں صفائی و ستھرائی کا کوئی نظم و نسق نہیں ہے بلکہ مذہب اسلام میں تو طہارت و نفاست کو وہ حیثیت حاصل ہے کہ اس کے بغیر اسلام کا تصور نہیں کیا جاسکتا، اللہ تعالی اپنے ان بندوں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں جو پاک صاف رہتے ہیں ارشاد باری تعالی ہے:
ان الله يحب التوابين ويحب المتطهرين(البقرة:222)
بے شک اللہ تعالی خوب توبہ کرنے والوں اور خوب پاک رہنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔
صفائی ستھرائی کے بارے میں اس سے بڑھ کر اور کیا اہمیت ہوگی کہ نبی کریم ﷺ نے اس کو آدھا ایمان قرار دیا ہے:
الطهور شطرالايمان (مسلم:223)
صفائی ستھرائی نصف ایمان ہے۔
اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ طہارت و پاکیزگی کی اسلام میں کس قدر اہمیت ہے بلکہ صاف صفائی کو آدھا ایمان کہا گیا ہے، صاف ستھرے رہنے والوں سے اللہ تعالی محبت کرتے ہیں۔
اسلام کی نظافت پسندی اور طہارت پسندی میں ظاہر وباطن جسمانی و روحانی سب شامل ہے، بلکہ اسلام انسان کو ولادت سے وفات تک پاک صاف رہنے کی تعلیم دیتا ہے،بلکہ وفات کے بعد بھی صفائی ستھرائی کے بعد ہی میت کو دفن کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہی حقیقی مسلمانوں کی اسلامی تصویر ہے۔
لیکن افسوس کہ ہم مسلمانوں نے اس تعلیم کو بھولا دی ہے، اور دیگر قوموں نے اس اچھائی کو اپنالیاہے، ان کے محلے اور علاقے صاف ستھرے، اور ہمارے محلے اور آبادی کی پہچان گندگی بن گئی ہے، ان کے ہاں لوگ صبح سویرے بیدار ہوکر گھر آنگن کی صفائی ستھرائی کرتے ہیں اور ہمارے ہاں دن چڑھے سوتے رہتے ہیں یہ ایسی تلخ حقیقت ہے جو بیان کی محتاج نہیں ہے۔
اس وقت ہمیں اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کی ضرورت ہے اور وہ یہی ہے کہ ہم مسلمان اپنے علاقے و محلے اور جسمانی و روحانی ہر ایک کو پاک صاف رکھیں، اللہ تعالی ہمیں صفائی ستھرائی کا پابند اور اس کا عَلَم بردار بنائے۔ (آمین)

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button