سیرت و شخصیات

تیرے ساتھ گزرے ہوئے پل یاد آئیں گے

ازقلم: عبدالرحمن الخبیر قاسمی بستوی
ترجمان:تنظیم ابنائے ثاقب ورکن شوریٰ مرکز تحفظ اسلام ہند

محترم قارئین کرام!
ہندوستان کےمشہور ومعروف عالم دین مفسر قرآن حضرت مولانا محمدسالم اشرف صاحب قاسمی مدظلہ العالی (مہتمم مدرسہ دارلعلوم اشرفیہ دیوبند) کی بنگلور آمد کے موقع پر حضرت ہی کے ادارہ کے نوجوان فاضل مفتی محمد سعد صاحب اشرفی بنگلوری کی رہبری میں بغرض عیادت بندہ کےغریب خانے پر تشریف لائے، یہ میرے لئے بہت بڑی سعادت اور قابل صد افتخار امرہے، یوں تو حضرت سے کئی مرتبہ فون پر گفت وشنید ہوئی اور استفادہ کا موقع میسر ہوا، مگر بالمشافہہ ملاقات کا پہلا موقع تھا، ماشاءاللہ آپ کی شخصیت تواضع انکساری، شستہ وشگفتہ اخلاق کے حامل ہے، حضرت والانے اپنے مخصوص انداز میں تقریباً بیس منٹ ہم تمام حاضرین کو اپنے جامع نصائح عالیہ سے محظوظ فرمایا۔

حضرت مولانا نے اپنے بیان میں اہل علم کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری تعارف کی جتنی بھی نسبتیں ہیں سب روحانی ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور قرآن وحدیث حضرات صحابہ کرام اولیاء کرام سے ہے لہذا علماء کو مادیت کے جال اور باطل کے نظام سے ہرگز ہرگز متأثر نہیں ہونا چاہئے، اور اس نسبت کی تقدس کو حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے استسناد کرتے ہوئے اس نسبت کا لحاظ قلب اطہر سے جو جڑا ہواہے ہر عالم دین کو اپنی ذاتی زندگی میں لانا چاہئے، حضرت نے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے فرمایا کہ ملکی حالات پر نظر رکھتے ہوئے امت کو آگاہ کرکے رہبری کرتے رہنا چاہئے، کیونکہ بقول شیخ الہند رحمۃاللہ علیہ اگر سارے لوگ تہجد گزار ہوجائیں اور سیاسی بصیرت حاصل نہ ہو تو ممکن ہے کہ فرائض پر بھی پابندی لگنےکی شکلیں بن جائے، اس لیےتسوسھم الانبیاءاس سےاستناد کرتے ہوئے علماء کودوررس اوربیدارمغزہوناچاہیے،
علاوہ ازیں حضرت نے فرمایاکہ علماء کمپاس کی طرح ہیں جس طرح قبلہ نماکسی بھی موقع پراپنےفرض منصبی کونہیں بھولتااسی طرح ہمیں خداکےنبی کی نسبت ،دعوتی مزاج، اوراصلاح وانقلاب کی فکرکےساتھ زندہ رہناچاہیے، اور آخر میں حضرت ہی کے دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔

بعد ازاں مولانا عبید الرحمن صاحب قاسمی بستوی کے ہاتھوں مفتی محمد سعد صاحب اشرفی، مولانا خالد قاسمی، انجینئر عطاء الرحمٰن صاحب و دیگرحاضرین کی موجودگی میں حضرت کی شال پوشی کی گئی اور ناچیز کی ترتیب شدہ کتاب "کشکول کلیمی ” بھی حضرت والا کی خدمت میں پیش کی گئی حضرت نے اسے بنظر استحسان دیکھا اور خوب دعاؤں سے نوازا۔

اللہ تعالی حضرت والا کی آمد کو قبول فرمائے اور ان کی نصیحتوں پر ہم حاضرینِ مجلس کو عمل کی توفیق عطا فرمائے…… آمین ثم آمین

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button