تعلیم

حیرت ہے کہ تعلیم و ترقی میں ہے پیچھے جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا

تحریر: محمد دلشاد قاسمی

آج ہمارے معاشرے کے اندر ایک غلط فہمی نے رواج پا لیا ہے کہ تعلیم کا تعلق بچوں سے ہے بڑوں سے نہیں ،، بچے نہیں پڑھتے ،، بچوں کو تعلیم کی اہمیت نہیں ، اور اس مہنگائی کے دور میں زیادہ بچے ہو جائیں گے تو تعلیم کیسے دو گے، جبکہ سب سے زیادہ علم کا تعلق بڑوں سے ہے بچوں کو تو ہم اسکول اس لیے بھیجتے ہیں کہ وہ پڑھنا سیکھ جائیں علم حاصل کرنے کا ان کو طریقہ معلوم ہوجائے لیکن جس کو علم حاصل کرنے کا طریقہ معلوم ہوگیا ہے وہ علم حاصل کرنا چھوڑ دے تو اس سے بڑی بیوقوفی کیا ہوسکتی ہے ؟
مثلا کوئی High اسکول کرتا ہے، انٹر کرتا ہے اور ڈاکٹر کی تعلیم حاصل کر کے کلینک نہ کھولے تو اس سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں ! کیونکہ صرف ڈاکٹر بننا تو مقصد نہیں ہے ڈاکٹر بن کے لوگوں کا علاج کرنا مقصود ہے بچے تو علم حاصل کرنا، سیکھنے جاتے ہیں کیونکہ علم حاصل کرنے کے لئے (Language) لینگویج کی ضرورت ہوتی ہے عربی، ہندی، اردو، انگلش، وغیرہ لیکن جب ہم طریقہ سیکھ جاتے ہیں تو اس کے بعد کتاب بند کر دیتے ہیں آخر ایسا کیوں ؟
آج بھی مسلمان دنیا میں انقلاب لا سکتے ہیں اور صرف 10 سال کے اندر اندر ،شرط یہ ہے کہ ہم یہ pattern بدل دیں کہ علم کا (Relation) بڑے سے نہیں ۔ اور یہ pattern بنالیں کہ علم کا زیادہ تعلق سمجھدار اور بڑوں سے ہیں ۔
آج اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بچوں کے ہاتھ میں کتاب نہیں ہے تو ہمیں اتنا تعجب نہیں ہے لیکن آپ کے ہاتھ میں کتاب نہیں تو ہمیں بے حد افسوس ہے ،، بچے ایک مہینے میں ایک کتاب ختم نہیں کرتے تو اس میں مجھے کوئی تعجب نہیں لیکن آپ ایک ہفتے میں ایک کتاب نہیں ختم کر رہے ہیں تو تعجب کی بات ہے !!! بچے تاریخ نہیں پڑتے، نیوز نہیں پڑھتے ، تو کوئی حیرت کی بات نہیں لیکن آپ نہیں پڑھتے تو بہت ہی افسوس کی بات ہے !!
بھلا وہ قوم کیسے ترقی کر سکتی ہے کہ اس کو پڑھنا سکھایا جائے اور جب وہ پڑھنا سیکھ جائے تو وہ پڑھنا چھوڑ دے آج عام طور سے یہ excuse کرتے ہیں کہ ہماری عمر نکل چکی ہے تو سنیے جیسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی ویسے ہی اقرا بسم ربک الذی خلق کا پروانہ سنادیا age کا کوئی difference نہیں رکھا ،، یہ نہیں دیکھا کہ ابوبکر کون ہے ، عبدالرحمن کون ہے ، پہلے ابوبکر کو پڑھایا پھر ان کے بیٹے عبد الرحمن بن ابوبکر کو پڑھایا پھر ان کے پوتے کو پڑھایا پہلے حضرت عمر کو پڑھایا پر عبداللہ بن عمر کو پڑھایا کیونکہ بڑے ہو کر شعور بڑھ جاتا ہے اور understanding power بھی develop ہوجاتی ہے آج جو علم میں دو مہینے میں حاصل کر سکتا ہوں بچے اس کو حاصل کرنے میں دو تین سال لگا دیں گے تو ہم خود جو دو مہینے میں حاصل کر سکتے ہیں ، نہیں کر رہے ہیں۔ اور جو بچے دو تین سال میں اسے حاصل کریں گے ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ؟ پھر دوسری بات یہ ہے کہ بچپن میں کیا ہم نے سارے علم حاصل کرلیے ؟ of course نہیں آپ سب جانتے ہو کہ جب ہم اپنا پورا وجود علم کو دیتے ہیں تب جاکے علم ہمیں تھوڑا سا حصہ دیتا ہے تو پھر آپ 20 ۔ 25 سال کے بعد Finish کیسے کر سکتے ہو ؟ لہذا اس کے لیے دوسری تحریکوں کے ساتھ ساتھ ایک یہ بھی تحریک چلاؤں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پر عمل کر لو تو قوم دس سال کے اندر Develop ہو کر کھڑی ہو جائے گی اور پوری دنیا سے ٹکر لے گی اور وہ حديث ہے ۔
 اطلبوا العلم من المهد إلى اللحد
” علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر کی گود تک” اس حدیث کا مفہوم change کر دیا اس طرح سے کہ علم حاصل کرو ماں کی گود سے (Graduation) گریجویشن تک یہ بہت خطرناک غلطی ہے جو ہمارے معاشرے میں رائج ہو چکی ہے اس کو ختم کرنے کی فکر کریں اور آج سے ہی پڑھنا شروع کریں اور یہ معذرت کرنا چھوڑ دیں کہ ہماری عمر نکل گئی ہے اور ہمارے پاس وقت نہیں ہے اگر آپ ڈاکٹر ہیں ،انجینئر ہیں (Businessman) مزدور ہیں یا کاشتکار ہے تو کوئی مسئلہ نہیں وقت نکال کر پڑھئے دوپہر کو پڑھئے رات کو سونے سے پہلے پڑھئے جب بھی آپ کو وقت ملے تو پڑھئے کیونکہ آپ کے پڑھنے سے ہی قوم ترقی کرے گی علم کی بدولت ہی قوموں نے عروج پایا ہے ۔ علم نے آدمیت کو انسانیت کے رنگ میں ڈھالا ۔ انسان تہذیب وثقافت سے عاری تھا۔ نیکی اور بدی کی تمیز سے نابلد تھا۔ علم نے تہذیب سکھائی اور اچھائی اور برائی کی تمیز سکھائی ۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button