اولیا و صوفیایوپی

سیرت مخدوم شیخ حسام الدین مانکپوری رحمۃ اللہ علیہ تاریخ کے آئینہ میں

ازقلم: محمد شاہ نواز عالم مصباحی ازہری
بانی وسربراہ اعلی: جامعہ حنفیہ رضویہ مانکپور شریف کنڈہ پرتاپ گڑھ

اللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ شکر واحسان ہے کہ اسنے کرۂ ارض پر لاکھوں کروڑوں مخلوقات کو پیدا فرمایا اور انہیں میں کچھ ایسی ہستیاں وپاکیزہ نفوس قدسیہ کو بھی پیدا فرمایا جن کے صدقے میں وجودکائنات ہے، جن کی خدمت کرنے اور در پہ جانے سے انسان کو انسانیت کا درس ملتا ہے اور اسی سے زندگی کے ایک خوشگوار اور تہذیب وتمدن کے زیور سے آراستہ وپیراستہ ہوجاتا ہے، تو وہیں دنیائے فانی کے عصائب وآلام سے دست بردار ہوکر قوت وہمت کے دامن سے وابستہ ہوجاتا ہے، کیونکہ ایسی ہستیاں لوگوں کو خدا وحدہ لاشریک کے قریب کے اداب سے روشناس کراتی ہیں وہی دوسری طرف رسول کی رسالت ورسول پاک کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی تلقین بھی کرتی ہیں، جہاں یہ نفوس قدسیہ حسن واخلاق کے عظیم الشان پیکر لوگوں کو اخلاق ذمیمہ وعادات قبیحہ سے اعراض واہمال کا درس بھی دیتا ہے، اور اخلاق حسنہ واسوہ رسول کے مطابق زندگی کے لمحات کو گزارنے کا جذبہ بھی عطا کرتا ہے، الغرض، ان نفوس قدسیہ وحسن اخلاق کے عظیم پیکر واسوہ رسول کے عظیم نمونہ کی بارگاہ سے وہ اصول وعبرت ودرس ملتے ہیں جن پر عمل کرنے سے بندہ اللہ رب العزت کا مقرب ہوجاتا ہے اور محبوبان خدا کی قربت میں اسکی شمولیت ہوجاتی ہے، اللہ رب العزت نے ان نفوس قدسیہ کے چہروں کو ایسا معزز وروشن بنایا ہے جس کو دیکھ کر کے خدا یاد آجاتا ہے. جو دل برسوں سے اللہ رب العزت کی یاد سے غافل ہو جو عبادات وریاضت کی پاکیزہ لذتوں سے ناواقف ہو جو شریعت غرہ کو پامال کرنے میں کوئ قصر نہ چھوڑا ہو جو حلال وحرام کے مابین تمیز نہ کرنے کا عادی ہو اخلاق حسنہ وصبر وتحمل کے دامن سے نا آشنا ہو، مگر جیسے ہی وہ ان بزرگوں کے دامن کو مضبوطی سے تھام کر ان نفوس قدسیہ کی بارگاہ میں حاضری سے مشرف ہوجاتا ہے تو انکے چہرے سے نکلنے والی نوری شعائیں جب انکے دل پر نظر ڈالتی ہیں تو جو دل اب تک افعال شنیعہ کے ارتکاب کرنے میں اپنے آپ کو فرحت و مسرت محسوس کرتا تھا اب وہی دل خوف خدا سے لرزہ ہوتا ہوا نظر آتا ہے جو آنکھیں اشیاء محرمات پر نگاہ مرکوز کرنے کو باعث فخر محسوس کرتی تھی آج وہی آنکھیں اپنے کئے ہوئے گناہوں کو یاد کرکے اشک ندامت پر آنسو بہاتی ہوئی نظر آتی ہیں، اللہ رب العزت نے اپنے معززومکرم بندوں کو وہ مقام ومرتبہ عنایت فرمایا ہے کہ دنیا کی کسی بھی چیز کا انہیں نہ کوئی خوف ہے نہ غم جیسا کہ اللہ رب العزت نے خود قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے :کہ بیشک اللہ کے ولیوں کو نہ کوئی خوف ہے نہ غم یعنی یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنی زندگی میں کسی چیز کا خوف وغم نہیں، وہ عظیم ہستیاں ہیں جن کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت کی زندگی میں بھی، جو بھی ان سے دنیا میں محبت وعقیدت سے پیش آئے گا تو اپنے عقیدت ومحبت کا صلہ میدان محشر میں شفاعت ورفاقت وصحبت سی مشرف ہوگا، جیسا کہ حدیث شریف میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :قیامت میں ان لوگوں کی محبت ورفاقت حاصل ہوگی جن سے وہ دنیا کی زندگی میں محبت کرتا تھا، ہم کہتے ہیں خوش نصیب ہیں کہ آج ہمارے دلوں میں اللہ کے مقرب ونیک بندوں کی محبت والفت وعقیدت گامزن ہے جن کے صدقے میں اللہ تعالی نے ہمارے قلوب واذہان کو منور کر رکھا ہے، ہمارا دل خدائے عزوجل کے معزز ومقرب بندوں کی الفت وعقیدت سے جگمگا رہا ہے بلکہ یوم آخرت میں اس نور والفت ومحبت کی کرنیں خانہ دل وقبر کو منور کرتی رہے گی وہ جب دنیائے فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرے گا تو وہاں بھی اسکی نورانیت کو محسوس کرےگا،(نام وولادت تاریخ) اب آئیے آپ کو ایسی عظیم الشان وتقوی واخلاص کے عظیم پیکر وجود سخا کے بحروبر شریعت وطریقت ومکارم اخلاق حسنہ کے نیر تاباں تصوف کے علمبردار عبادات وریاضت کے عظیم مرد قلندر آسمان ولایت کے مہر جبیں، منصب قطبیت پر مسند نشیں دنیا مافیہا سے بے نیاز شخصیت اللہ رب العزت کے مقرب بندوں میں سے ایک مقرب بندہ اللہ کے جلیل القدر ولی کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں جن کے آنے کی تیاری فرشتہ کررہے تھے جنہیں دنیا قطب المشائخ حضرت مخدوم نور قطب عالم پنڈوی کے دل کے سکون اکسیر عشق حضرت خواجہ مخدوم حسام الحق والدین کے نام سے جانتی وپہچانتی ہے، آپ کی ولادت پاک 773ہجری بعہد سلطان فیروز شاہ تغلق ہوئی۔ آپ نسبا فاروقی یعنی امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد امجاد میں سے ہیں جیسا کہ مؤرخین آپ کے مورث اعلی کی ہندوستان میں تشریف آوری کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں، کہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب یزید کی فوجوں نے مدینہ طیبہ میں غارت گری کی تو اس وقت امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت سیدنا امیر حسن رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ سے ہجرت کرکے ملک یمن تشریف لے آئے پھر جب سلطنت عباسیہ میں انقلاب آیا تو حضرت سیدنا امیر حسن کی اولاد ملک یمن سے سرزمین فارس میں آکر بودباش اختیار کی پھر ایک روایت کے مطابق سیدنا مخدوم حسام الحق والدین کے مورث اعلی حضرت سیدنا جلال الدین قدس سرہ سلطان قطب الدین ایبک کے زمانہ میں مانکپور تشریف لائے، اور دوسری روایت کے مطابق سیدنا جلال الدین کے فرزند ارجمند حضرت سیدنا محمد اسمعیل قدس سرہ سلطان شمس الدین التمش کے دور میں ہندوستان تشریف لائے اور چند روز دہلی میں قیام فرمایا پھر وہاں سے مانکپور شریف تشریف لائے، اور مانکپور ملک بٹین موضع چوکاپور میں سکونت پذیر ہوئے حضرت سیدنا اسمعیل قدس سرہ کا روضہ بھی اسی مقام پر ہے، پھر جب یہ مقام ویران ہوگیا تو آپ کی اولاد نے جہاں اس وقت خانقاہ شریف ہے مانک پور شریف میں بود باش اختیار کی، سلطان شمس الدین التمش نے کم وبیش ساٹھ بیگھہ زمین خانقاہ ومسجد کے لئے دی تھی، مخدوم حسام الحق والدین قدس سرہ ۔انتہائ قوی احوال اور بلند مرتبہ پر فائز تھے عشق وصفا زہدوتقوی وروع میں بے نظیر تھے، توکل اللہ کے ساتھ آپنے کئ سالوں تک مجاہدہ فرمایا جس کو بیان کرنے سے بندہ ناچیز عاجز ہے اور قلم قاصر ہے، مراۃ الاسرار میں حضرت شیخ عبد الرحمن چشتی بیان کرتے ہیں :کہ آپ نور قطب عالم پنڈوی بنگال کے بزرگ ترین خلیفہ اور مرید ہیں اپنے مرشد گرامی وقار کے بعد مسند قطبیت پر فائز ہوکر ارشادوہدایت فرماتے اور ایک عالم کو ہدایت بخشتے رہے یہاں تک حضرت نور قطب عالم کے جانشین کے بڑے لڑکے اپنے والد گرامی کے حکم کے مطابق شیخ حسام الدین قدس سرہ کے لڑکے سے خرقہ پاکر مسند ارشاد پر مامور ہوئے، آپ کا وطن مانکپور ہے ۔حضرت مخدوم حسام الحق قدس سرہ کی ولادت سے تقریبا سو سال پہلے حضرت سیدنا خواجہ کڑک ابدال قدس سرہ نے پیشن گوئی کی تھی اور مانکپور میں جگہ جگہ گھومتے گھومتے ایک مقام پر اپنے ساتھ والوں سے صاف کروائے اور اسی جگہ بیٹھ گئے اور فرمایا یہ جگہ ایک اللہ رب عزت کے ایک ولی کامل جو اپنے وقت کے مخدوم ہونگے انکی آرام گاہ ہوگی اور زمین کے اتنے حصہ کو بحکم الہی فرشتہ روزانہ نور سے منور کرتے ہیں ،شیخ عبد الرحمن چشتی فرماتے ہیں کہ میں 1005ہجری میں مشائخ چشت کی زیارت کے لئے دہلی گیا تو واپسی میں نظام الدین اولیا قدس سرہ نے فرمایا کہ شیخ حسام الدین مانکپوری کی زیارت کرکے گھر واپس جانا چناچہ میں مانکپور شریف حاضر ہوا اور مخدوم حسام الحق قدس سرہ اور راجی حامد شاہ قدس سرہ کی زیارت سے فیضیاب ہوا اس وقت عجب ذوق حاصل ہوا اور ان دونوں حضرات نے اس فقیر کو اس قدر نعمت عطا کی جسے ناچیز بیان کرنے سے قاصر ہے ۔ غرض کہ علم ظاہری سے فراغت کے بعد شیخ حسام الدین قدس سرہ نے پیر کی خدمت کو اختیار کرلیا اور ولایت مانکپور کے خرقہ خلافت ولایت سے شرفیاب ہوئے آپ نے پیر ومرشد سے عرض کیا کہ شیخ نصیر الدین آپکے والد محترم کے خلیفہ ہیں مجھے انکی صبحت کس طرح راس آئے گی، حضرت نورقطب عالم نے فرمایا نصیر الدین تا نصیر الدین ۔حسام الدین تا قیامت ،پھر مانکپور آکر مسند ارشاد پر فائز ہوگئے، آپ کے کمالات کا شہرہ مشرق ومغرب چہار جانب پھیلاہوا ہے آپ کی کرامتیں محتاج بیان نہیں ۔اخبار الاخیار میں شیخ عبد الحق قدس سرہ لکھتے ہیں کہ سیدنا مخدوم حسام الحق اپنے وقت کے بڑے مشائخ میں سے تھے علم شریعت وطریقت کے ماہر عالم تھے، آپ کے پیر ومرشد نور قطب عالم پنڈوی قدس سرہ نے اپنے پاس رکھ کر تعلیم وتربیت فرمائی اور خرقہ خلافت اور مشائخ چشت کی امانت عطا فرماکر مانکپور شریف کی طرف رخصت فرمایا اور اس علاقہ کا صاحب ولایت بنایا، آپ کے خلفاء کی ایک لمبی فہرست ہے آپ کے ایک سو ایکس مکتوبات آپ کی تصنیف ہے ،15رمضان المبارک 853ہجری کو آپ کا وصال ہوا آپ کا مزار محلہ خانقاہ شریف مانکپور شریف ضلع پرتاپگڑھ یو۔ پی میں مرجع خلائق ہے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button