سیرت و شخصیات

دامودر ساورکر اور اس کے نظریات

تحریر: محمد ابوذر، عمرکھیڑ

وِنائک دامودر ساورکر جسے ہندتوا نظریہ کے پیروکار ویر ساورکر کے نام سے جانتے ہے اور جنگ آزادی کی تحریک سے جوڑ کر پیش کرتےہے ۔ جب کے اگر ہم دامودر ساورکر کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ بات دیکھنے کو ملتی ہے کہ یقینا یہ بات حقیقت ہےکہ ساورکر نے جنگ آزادی تحریک میں حصہ لیا تھالیکن جب وہ انگریز تشدد کا شکار بنا تو اسکی ہمت پست ہوگئ اور اسنےجیل سے برٹش حکومت کو کئ سارےمعافی نامے اور عہد نامے ارسال کردیے جس میں وہ اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ انگریز حکومت اگر اسکی جان بخش دیں اور اسےرہا کردیں تو وہ آخری سانس تک انکا مطیع و فرماں بردار بن کر زندگی بسرکریگا اورجنگ آزادی کی تحریک سے اپنے آپ کو بالکل الگ کردے گا۔ یہی وہ عہد نامہ جس نے ساورکر کو انگریز حکومت کا آلہ کار بنا دیا اور یوں ایک تحریک آزادی کا مجا ہد "ویر” انگریزوں کا وفادار بن گیا۔ دامودر ساورکر مونجے کا وارث تھا ۔ ساورکر نے مونجے کے بعد ہندو مہا سبھا کی کمان سنبھالی ۔ساورکر نظریاتی طور پر متشدد خیالات کا حامل شخص تھا ۔ اس نے ہندو مہاسبھا کے انتہا پسندی میں مزید اصافہ کیا ۔ساورکر سیاستداں ہونے کے ساتھ ساتھ ڈرامہ نگار ، مصنف ،شاعر ،تاریخ داں اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھا۔ وہ پیشہ سے بیریسٹر تھا۔ساورکر ملحد تھا جس نے لفظ Hindu Atheism”” کو فروغ دیا۔ ہندو مذہب میں ذات پات ،چھوت چھات ،گائے کا تقدس اور اسطرح کے رسم و روایات کی اس نے شدید مخالفت کی لیکن باوجوداس کے اسنے اپنے نظریے کو فروغ دینے کے لیےہندو مذہب کا ہی استعمال کیا۔

کاسٹ سسٹم کا وہ شدید مخالف تھا جس پر تنقید کرتے ہوئے وہ لکھتا ہیکہ "ہر ہندو کے بچے کی ایک ہی کاسٹ ہوتی ہے اور وہ ہے ہندو اس کے علاوہ اس کی کوئی کاسٹ نہیں ہو سکتی ۔مردم شماری میں ہم لوگ خود کوہندو ہی لکھوائے جیسےمسلمان خود کومسلم اور عیسائی، عیسائی درج کرواتے ہے۔ ” مزید لکھتا ہیکہ "کاسٹ کو آپ پیشہ درج کرواسکتے ہے۔” ساورکر نے تین اصطلاھات کو فروغ دیا جو آج ہندتوا کی بنیاد سمجھی جاتی ہے جسکے اطراف ہندتوا کا نظریہ گردش کرتا ہے وہ یہ ہے۔۔۔

1)ہندوازم
2)ہندتوا
3)ہندوقوم

ساورکر نے ہندو قوم کا تصور پیش کیا۔جس طرح ملمان، مسلم دنیا کی بات کرتے ہے۔ ساورکر نے نیشنلزم کی تعریف کچھ یوں بیاں کی، "کمیونلزم پر تنقید کی جانی چاہیے وہ اقلیتی فرقہ کا ہو یا اکثریتی فرقہ کا ۔ لیکن اقلیتی فرقہ کا کمیونلزم ، کمیونلزم ہی رہتا ہے اور اکثریتی فرقہ کا کمیونلزم Nationalism بن جاتا ہے۔ ہندوستان میں اکثریتی طبقہ ہندو ہے ملک میں یہی حکومت کرنے کا خواہش مند بھی ہے۔اس طبقہ کو یہاں غیر معمولی اکثریت حاصل ہے ، جو یہاں کی نیشنل کمیونٹی ہے دراصل یہی ملک کا نیشنلزم طئے کرے گی۔”ڈاکٹر امبیڈکر ساورکر کی فکر سے متعلق لکھتے ہیکہ "اتنا کافی ہوگا کہ ساورکر کی اسکیم سے ہندؤں کی حکومت ان کے غرور کا سامان ہوگی تو سہی لیکن اس سے کبھی بھی ہندؤں کو امن و استحکام حاصل نہیں ہوگا اس لئے کے مسلمان ایسی ذلت کے لئے کبھی آمادہ نہیں ہوگے جو ہندتوا کے پیروکار چاہتے ہے”۔

ساورکر کو گاندھی جی کے قتل کے معاملے میں گوڈسے کے قریبی ہونے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا بعد میں ناکافی ثبوت کی بناء پر اسےرہا کردیا گیا ۔
رہائی کے بعد بھی وہندتوا کے لیے کام کرتا رہا۔انڈین نیشنل کانگریس اور ساورکر میں ہمیشہ تناؤ کا ماحول رہا۔نہرو نے ساورکر کی بھرپور مخالفت کی ۔ نہرو کی موت کےبعد لال بہادر وزیراعظم بنیں تو انہونے ساورکر کو ماہانہ پینش دینا شروع کیا ، 1966 میں ساورکرنے دوائی کھانا بند کردی جسے وہ "آتم نرپن ” (Fast Until Death) کانام دیتا تھا۔موت سےقبل ساورکر نے اپنا آخری آرٹیکل لکھا جسکا عنوان تھا "Aatmahatya Nahi Atmaarpan” جس میں ساورکر نے اس بات پر بحث کی ہے کہ "جب انسان کا مقصد مکمل اور کام کرنے کی صلاحیتں ختم ہوجاتی ہیں تو اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ اپنا آتمارپن کے ذریعےاختتام کرلیں ناکہ فطری موت کا انتظار کریں ۔” اسطرح ہندتوا فکر کے اس بانی اور پرتشدد خیالات کے حامی شخص نے اپنے زندگی کے اختتام پر پہنچا۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button