Uncategorized

"فتنۂ گوہر شاہی" کی بیخ کنی کے لیے علماے اہلسنت(رام گڑھ) کی اہم نشست

رام گڑھ/جھارکھنڈ: 18 مارچ، ہماری آواز(پریس ریلز) کل بروز بدھ "نور ایمان” تنظیم علماے اہلسنت جموا رامگڑھ کی طرف سے جموا ، کرما رامگڑھ میں "فتنئہ گوہر شاہی”کی بیخ کنی کے لئے رضوی دارالافتاء کے بانی مفتی رضوان احمد مصباحی کی حمایت میں تنظیم نور ایمان کے علما کی اہم نشست رکھی گئی جس کی سرپرستی جناب ڈاکٹر عبدالباری صاحب اور صدارت حضرت مولانا محمد یعقوب مصباحی اور قیادت حافظ شبیر احمد رضوی فرما رہے تھے ، اس میں شریک تمام علما کرام مثلاً مولانا محمد یعقوب مصباحی ، مولانا نثار احمد مصباحی ، مولانا اسد اللہ مصباحی ، مولانا انعام الحق حمیدی ، مولانا سراج الدین نعمانی نے فتنۂ گوہر شاہی کی عقائد و نظریات کی بھر پور مذمت کی اور اس کے عقائد کو کفر و شرک پر محمول بتایا ۔ خصوصیت کے ساتھ حضرت علامہ مفتی رضوان احمد مصباحی خادم رضوی دارالافتاء رامگڑھ نے اس کے کفریہ اور شرکیہ عقائد و نظریات پر روشنی ڈالتے ہوئے بیان دیا کہ یہ دین و ایمان کے لٹیرے ہیں اس لیے اس کے عقائد و نظریات کو ہر عوام وخواص تک پہنچایا جائے اور سختی سے اس کا مقاطعہ کیا جاۓ ورنہ وہ دن دور نہیں کہ ہمارے اہل و عیال اس کے دام تزویر میں پھنس کر اپنا دین و ایمان کھو بیٹھیں گے ۔ بعدہ صلوٰۃ و اور دعا کے بعد مجلس اختتام پزیر ہوا ۔ اس میں میں مندرجہ ذیل علماء کرام اور عمائد قوم نے شرکت فرمائی۔
مولانا محمد اسرافیل احمد رضوی خطیب وامام جموا، مولانا نثار احمد مصباحی، مفتی رضوان احمد مصباحی، مولانا انعام الحق حمیدی، مولانا اسداللہ مصباحی، مولانا سراج الدین نعمانی، حافظ شعیب رضا، حافظ محمد عابد حسین، مولانا محمد ناظم کوثر رضوی، محمد وسیم کوثر رضوی، حاجی محمد سراج، جناب محمد حنیف صاحب، جناب راحت حسین، جناب مبارک حسین صاحب وغیرھم۔
واضح رہے کہ اس فتنہ گوہر شاہی سے مولانا اسد اللہ مصباحی اور مولانا انعام الحق حمیدی کو منسلک بتایا جا رہا تھا لیکن ان دونوں حضرات نے اس میٹنگ میں اس سے اپنا اظہار برأت بھی پیش فرمایا ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ تمام مومنین و مسلمین کے ایمان و عقائد کی حفاظت فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ ۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button