غزل

غزل: وہ دیتے ہیں سوالوں کا جواب آہستہ آہستہ

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاک

وہ دیتے ہیں سوالوں کا جواب آہستہ آہستہ
بنا کے دوں تو پیتے ہیں شراب آہستہ آہستہ

نہیں کہتے کبھی کھل کے تمنا کیا چھپی دل میں
سناتے ہیں مجھے وہ جھوٹے خواب آہستہ آہستہ

نہیں رہتا ہے قابو دل پہ اپنے جب وہ آتے ہیں
ہٹاتے ہیں وہ جب رخ سے نقاب آہستہ آہستہ

گھرا خاروں میں ہے یہ گل نزاکت پہ نہ جانا تم
نہ کرنا جلدی تم توڑو گلاب آہستہ آہستہ

محبت جو بھی کرتے ہیں یہی انداز رکھتے ہیں
دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ

بہت ہی خوبصورت ہیں نہیں ثانی کوئی ان کا
رکھیں بند کھولیں دل کا باب آہستہ آہستہ

بہت ہی ناز ہے ان کو کہ دیوانے ہزاروں ہیں
فیضان کرتے ہیں خون دل جناب آہستہ آہستہ

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button