قوموں کی حیات ان کے تخیل پہ ہے موقوف

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

از قلم : محمدطفیل احمد مصباحی

قوموں کی حیات ان کے تخیل پہ ہے موقوف
یہ ذوق سکھاتا ہے ادب مرغِ چمن کو

شاعرِ مشرق ، مفکرِ قوم ، فلسفیِ دوراں ڈاکٹر اقبال نے اس شعر میں بڑا فکر انگیز پیغام دیا ہے ، جو زوال آمادہ اور ترقی یافتہ اقوام کے لیےمشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ قوموں کے عروج و زوال میں فکر وتخیل کی بلندی اہم رول ادا کرتی ہے ۔ تخیل انسان کو زندگی و بندگی کے آداب سکھاتا ہے اور تعمیر و ترقی کے نت نئے منصوبے بنانے پر آمادہ کرتا ہے ۔ قوتِ فکر و عمل کے ساتھ تخیل کا فقدان قوموں کے زوال و انحطاط کا پیش خیمہ ہے ۔ جب تخیل بلند اور فکرعرش پرواز ہوا کرتی ہے تو قومیں عروج و ارتقا کی نصف منزل خود بخود طے لیتی ہیں ۔ باقی نصف منزل ، یقیں محکم اورعمل پیہم کے سہارے طے کی جاتی ہے ۔ قوموں کے عروج و زوال کا ان کےتخیل کی بلندی پرمنحصر ہونا ، ایک ایسا مسلم الثبوت اور بدیہی امر ہے جو کسی دلیل کا محتاج نہیں ۔ کسی بھی قوم سے اس کی قوتِ فکر و تخیل ختم کردو ، اس کا اعلیٰ و ارفع خواب چھین لو اور اسے اس کے مقصدِ حیات سے غافل کردو ، وہ کچھ ہی عرصے میں تڑپ تڑپ کر مر جائے گی ۔ آج امتِ مسلمہ تاریخ کے جس نازک اور سنگین موڑ پر کھڑی ہے ، شاید وہ ملی تاریخ کا سب سے بحرانی دور اور تاریک ترین عہد ہے ۔ ایسے نا مساعد حالات میں قومِ مسلم کے اربابِ حل و عقد کی ذمہ داریاں پہلے سے کئی گنا زیادہ بڑھ گئی ہیں ۔ مختلف شعبہ ہائے حیات میں آج منظم طریقے سے نہایت بیدار مغزی کے ساتھ کام کرنا ، قومی و ملی فلاح و بہبود کے لیے لائحۂ عمل تیار کرنا ، ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ آج دینی ، تعلیمی ، تہذیبی ، سماجی ، سیاسی اور معاشی سطح پر مسلمانوں کو مضبوط و مستحکم ہونے کی ضرورت ہے ، تاکہ وہ دوبارہ تعمیر و ترقی کی شاہراہوں پر گامزن ہو سکیں ۔ آج مسلمان مختلف شعبہ ہائے حیات میں اس لیے پسماندہ اور دیگر اقوام کے مقابل پیچھے ہیں کہ ان کے پاس نہ مستقبل کی کوئی پلاننگ ہے اور نہ واضح خطوط ۔ ہمیں کیا کرنا ہے اور کس سمت اپنے قافلۂ حیات کا رخ موڑنا ہے ، اس کا ہمیں شعور نہیں ہے ۔ بس کسی طرح زندگی کے شب و روز گذار رہے ہیں ۔ زندگی بے ہنگم سمت کی طرف رواں ہے ۔ راقم کے ناقص اندازے کے مطابق مسلمانوں کی تمام پسماندگیوں کی واحد وجہ ان کےتخیل کا بلند نہ ہونا ہے ۔تخیل بلند نہ ہونے کے سبب سب سے پہلے ہم تعلیم سے دور ہوئے اور تعلیم سے دوری نے ہمیں ہر قسم کی ترقیوں سے محروم کر دیا اور انحطاط و تنزل کے سارے دروازے ہمارے اوپر کھول دیے ۔ علم ، تعمیر و ترقی کی کنجی اور فلاح و بہبود کا پہلا زینہ ہے ۔ علم ہے تو سب کچھ ہے اور علم نہیں تو کچھ بھی نہیں ہے ۔ آج وہی قوم دنیا کی قیادت و سیادت کے فرائض انجام دے رہی ہے ، جس کے پاس علم کا زیور اور علم کا ہتھیار ہے ۔ دینی مدارس میں مسلم طلبہ ماضی کی بہ نسبت آج کم تعداد میں علم حاصل کرتے ہیں ۔ اعلیٰ عصری تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ کی نمائندگی آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں ، اپنا محاسبہ کریں ۔ سب سے پہلے ہم اپنا شعور و تخیل بیدار کریں ۔ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں ۔ اپنی قیادت مضبوط کریں ۔ دین و شریعت کے دامن کو مضبوطی سے تھام لیں ۔ اتحاد و اتفاق کے ساتھ زندگی گزاریں ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ماضی کی طرح مسلمان ایک بار دنیا کی عظیم ترین طاقت اور کامیاب ترین قوم بن کر ابھریں گے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

یوپی الیکشن: نہیں ہے کسی کو بھی سیاست کے معیار کو گرنے کی فکر !!

تحریر: جاوید اختر بھارتی اترپردیش میں الیکشن کی ہوا چلنے لگی ، بیان بازی ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔