اصلاح معاشرہ سیاست و حالات حاضرہ کالم

لاک ڈاون اور سسکتی انسانیت

ازقلم: آصف جمیل امجدی (انٹیاتھوک،گونڈہ)
9161943293

کل رات میرے پیٹ میں درد اٹھا، میں درد سے کراہنے لگا،میری سانس رکنے لگی۔ میں لڑکھڑاتے ہوئے اٹھا
آنکھوں میں آنسوں تھے کانپتے ہاتھوں سے نیم گرم پانی ہاتھوں سے لگایا، پانی حلق سے اترتے کانٹوں کی طرح لگ رہا تھا میں بے بس ہوکر بیڈ کے پاس گرگیا
اس وقت میرا کوئی اپنا میرے پاس نہ تھا میری عمر چالیس سال ہوچکی ہے میرا بڑا بیٹا فوج میں تھا۔
اللہ نے مجھے دو بیٹے اور ایک سندر سی گڑیا دی تھی
میری بیوی NRC,NPR,CAA کے احتجاج میں دلی پولیس کی بربریت کا نشانہ بن کر جاں بحق ہوگئی، میری بیوی بہت نیک تھی ہمیشہ خوفِ خدا کا غازہ اپنے سر پر سجائے رکھتی تھی وہ میری زندگی میں اس طرح گھل مل گئی تھی کہ میں ہمیشہ خوش رہنے لگاتھا۔ درد و الم رنج و غم مجھ سے ایسے دور ہوگئے تھے گویا میں نے ان سے دشمنی کرلی ہو۔
میری ننھی منی سندر گڑیا ابھی تتلائی ہوئی میٹھی زبان میں بولنا سیکھی تھی، اب تو میری گڑیا کافی بڑی ہوگئ ہے۔ گھر میں اور رشتے داروں میں شادی کے چرچے ہورہے ہیں۔ میرا چھوٹا بیٹا اکثر کہا کرتا تھا
جوکہ ۲۰/ سال کا ہوچکا تھا ابھی بھی میری گود میں ننھا منھا بچہ بن کر بیٹھ جاتا اور میری سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتا بابا میں اپنی بہن کی شادی دھوم دھام سے کروں گا۔ بہن کی شادی کی خوشی میں اپنے ارمانوں کی بارات لے کر کمانے کے لئے عروس البلاد ممبئ چلا گیا۔ وہ بہن کی شادی کو لے کر بہت خوش رہتا تھا۔ اس کو گئے ابھی ۳/ مہینے ہوئے تھے۔ کبھی کام چلتا اور کبھی وہ بھی کئی کئی ہفتے بند رہتا ابھی اپنا پیٹ بھر نے بھر کا کما پاتا تھا۔اچانک حکومتِ ہند نے لاک ڈاون کا اعلان کردیا۔ جس سے معاشی حالات اور بدتر ہو گئے۔ چند لوگوں کے ساتھ ۲۵/ مارچ ( سن ۲۰۲۰ع) کو ممبئ سے پیدل آرہا تھا۔ (سواریاں سب بند ہوچکی تھیں) بھوک سے نڈھال ہوگیا تھا پریشانی میں کوئی ساتھ نہیں دیتا ہے یہاں تک کہ 65/ روپئے کی خریدی ہوئی وہ غریبی کی چپل بھی ٹوٹ چکی تھی . میں برابر رابطے میں تھا پیر کا چھالا پھوٹ کر زخم بن گیا تھا ویڈیو کال پر میرا بیٹا سسک سسک کر روتے ہوئےاپنے پیر کا چھالا اور زخم دکھایا تھا۔ کافی دور پر کھڑی ہوئی پولیس کو بھی دکھایا تھا۔
ان میں کچھ خاکی وردی میں تھے اور کچھ سادے وردی میں مجھے کچھ ایسا لگا کہ پولیس کے ساتھ میں کچھ باہری لوگ بھی تھے۔ اور تو اور ان میں کئی ایسے تھے جنکی وردی پر بِلّا ہی نہیں تھا میں اپنے رونے کا احساس اپنے لعل کو نہیں ہونے دیا۔ ابھی ویڈیو کال چالو تھا۔ میں نے اس دن آخری بار اپنے بیٹے کی آواز سنی تھی کہہ رہا تھا صاحب! مجھے مت مارو
وہ رو رہا تھا زور زور سے چلا رہا تھا میرا کلیجہ پھٹا جارہا تھا………صاحب…………!!!!!پہلے میری بات سن لو
پلیز صاحب ….. صاحب صاحب پلیز صاحب!
وہ آخری بار چلایا،بہت تیز چلایا تھا
صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر میرے بیٹے کی آواز ہمیشہ کے لئے دب گئی دور پڑے فون پر میں پولیس کی گندی گندی گالی گلوج اور بے ساختہ لاٹھیوں سے پیٹے جانے کی آواز آرہی تھی میں خوب طاقت کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھوں سے سینے کو جکڑ لیا، گویا سینہ پھٹا جارہا ہو۔ میں بے ساختہ زور زور سے چلانے لگا۔
ہائے! ………. میرا بیٹا۔ لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہوگیا پھر بھی میں اکیلا تھا۔ سینے پر ہاتھ مار مار کر چلا رہا تھا گویا میرا کلیجہ پھٹا جارہا ہو۔
……………ہائے! میرا بیٹا کوئی میرے بیٹے کو پولیس سے بچالو۔ میں پاگل سا ہوگیا تھا سب کے سامنے ہاتھ جوڑ جوڑ کر کہہ رہا تھا۔ بھیا میرے بیٹے کو بچالو
پولیس والے اسے مار رہے ہیں۔ دور پڑے فون کو میری سندر گڑیا نے دیکھ لیا جس میں ابھی بھی ویڈیو کال چالو تھا۔ پولیس لاٹھی ڈنڈے، لات گھونسے سے اس کے بھیا کو مار رہی تھی۔ میری پری جیسی ننھی گڑیا بے ساختہ چلائی بھیا
مڑ کر دیکھا میری ننھی پری اپنے بوڑھے باپ کو
تنہا ٹوٹی پھوٹی جھوپڑی میں چھوڑ کر کہیں اڑ گئی

شاید وہ اپنے اللہ سے اپنے بھیا کے بارے میں بتانے گئی ہے۔ نہیں! نہیں! میری گڑیا پری اپنے مظلوم بھیا کو بچانے گئی ہے۔ گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہ ہونے کی وجہ ۱۲/سال کی میری ننھی گڑیا ۲۵/مارچ سے کچھ کھائ پی نہ تھی۔ شاید وہ اپنے اللہ کو راضی کرنے کے لئے روزہ رکھ لی تھی۔ میری گڑیا پری اپنے بھیا کے ساتھ روزہ افطار کرنے گئی ہے۔ اس کا بھیا بھی ۵/ دن سے کچھ کھایا پیا نہ تھا۔جب میں ۲۸/سال کا پورا کا پورا مکمل جوان تھا۔ اچانک ایک دن میری کمر جھک گئ پھر دوبارہ کبھی سیدھی نہ ہوئ میرے بڑے بیٹے کو پاکستانی فوج نے گولیوں سے بھون ڈالا تھا۔ اسی دن میری کمر ٹیڑھی ہوگئ تھی اور میں جوانی میں ہی بوڑھا ہوگیا۔میں نے روزنامہ انقلاب لکھنؤ میں اپنے شہید بیٹے کا زندہ و مردہ دونوں فوٹو دیکھا تھا۔ لکھا تھا یہ نوجوان شہید اپنے ملکِ عزیز ہندوستان کی آزادی کا جشن ۱۵/اگست (سن ۲۰۱۹ع) کو باڈر پر کھڑے ہوکر ترنگا فہـرا کر منارہا تھا۔ یہ جوان ایک گیت گاتے ہوئے شہادت پائی۔
"ســـارے جہـاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا”

۲۹/مارچ ہوگیا آج بھی میں کچھ کھائے پیئے ۵/دن سے بھو کا ہوں۔ میں ابھی چند لمحوں میں بھوک سے تڑپ تڑپ کر مرجاؤں گا جبکہ میرے بچے بیوی سب وطن کی حفاظت کرتے کرتے شہید ہوگئے لیکن حکومت ابھی بھی اپنے عیش و عشرت میں مگن ہے۔

نوٹ: اس کا براہِ راست میری زندگی سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں، بس ملکِ عزیز کے حالاتِ حاضرہ پر خامہ فرسائی کرنے کی باشوق جسارت کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے