قطعیات میں ایک قول حق:دیگر اقوال باطل

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

قسط اول میں بیان کیا گیا کہ قطعیات میں اجتہاد کی اجازت نہیں۔ قسط دوم میں امام غزالی قدس سرہ القوی کی عبارتوں سے اس مفہوم کی مزید تفہیم پیش کی گئی ہے۔

امام غزالی نے تین اقوال نقل کیے ہیں،پھر ان کے جوابات رقم فرمائے ہیں۔

قول اول:بشربن غیاث مریسی معتزلی(م۸۱۲؁ھ) کا قول ہے کہ جس طرح اصول (قطعیات)میں اجتہاد کی اجازت نہیں،اسی طرح فروع (ظنیات)میں بھی اجتہادجائز نہیں اور ظنیات میں بھی ایک ہی حق ہے،اور ظنیات میں خطا کرنے والا بھی گنہگار ہے۔

قول دوم:عبید اللہ بن حسن عنبری بصری معتزلی(م۸۶۱؁ھ) نے کہا کہ فروع (ظنیات)کی طرح اصول (قطعیات)میں اجتہاد کرنے والا بھی حق پر ہے،اور قطعیات میں بھی صرف ایک حق نہیں،بلکہ متعدد صورتیں حق ہیں۔

قول سوم:جاحظ بصری معتزلی(م۵۵۲؁ھ) نے کہا کہ قطعیات میں صرف ایک حق ہے،لیکن ان میں خطا کرنے والا معذور ہے،گنہ گار نہیں ہے۔

امام غزالی نے ان تینوں اقول کے رد کے لیے جداگانہ مباحث رقم فرمائے۔ یکے بعد دیگرے وہ تینوں ابحاث نقل کیے جاتے ہیں۔یہ اس باب کی بہت مفید بحثیں ہیں۔

قال الغزالی:(وقد ذہب بشر المریسی إلی إلحاق الفروع بالأصول -وقال فیہا حق واحد متعین والمخطیء آثم
وقد ذہب الجاحظ والعنبری إلی إلحاق الأصول بالفروع-وقال العنبری:کل مجتہد فی الأصول أیضا مصیب ولیس فیہا حق متعین۔

وقال الجاحظ:فیہا حق واحد متعین لکن المخطیء فیہا معذور غیر آثم کما فی الفروع-فلنرسم فی الرد علی ہؤلاء الثلاثۃ ثلاث مسائل)
(المستصفٰی جلددوم:ص407-مؤسسۃ الرسالہ بیروت)

توضیح:منقولہ بالا عبارت میں مریسی،عنبری وجاحظ کے اقوال پیش کیے گئے ہیں۔

جاحظ معتزلی کا مذہب:

جاحظ بصری کے قول کی تفصیل اور اس کی تردید مندرجہ ذیل ہے۔

قال الغزالی:(مسألۃ:مخالفۃ أہل الکتاب للإسلام
ذہب الجاحظ إلی أن مخالف ملۃ الإسلام من الیہود والنصاری والدہریۃ إن کان معاندًا علٰی خلاف اعتقادہ فہو آثم۔
وإن نظر فعجز عن درک الحق فہو معذور غیر آثم۔

وإن لم ینظر من حیث لم یعرف وجوب النظر فہو أیضا معذور۔
وإنما الآثم المعذب ہو المعاند فقط لأن اللّٰہ تعالی لا تُکَلَّفُ نَفْسٌ إِلاَّ وُسْعَہَا(البقرۃ:من الآیۃ233)وہؤلاء قد عجزوا عن درک الحق ولزموا عقائدہم خوفًا من اللّٰہ تعالی إذ استد علیہم طریق المعرفۃ۔

وہذا الذی ذکرہ لیس بمحال عقلا لو ورد الشرع بہ وہو جائز-و لو ورد التعبد کذلک لوقع-ولکن الواقع خلاف ہذا فہو باطل بأدلۃ سمعیۃ ضروریۃ-فإنا کما نعرف أن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم أمر بالصلاۃ والزکاۃ ضرورۃ-فیعلم أیضًا ضرورۃ أنہ أمر الیہود والنصاری بالإیمان بہ واتباعہ وذمہم علٰی إصرارہم علٰی عقائدہم-ولذلک قاتل جمیعہم وکان یکشف عن مؤتزر من بلغ منہم ویقتلہ۔

ویعلم قطعًا أن المعاند العارف مما یقل وإنما الأکثر المقلدۃ الذین اعتقدوا دین آباۂم تقلیدا ولم یعرفوا معجزۃ الرسول علیہ السلام وصدقہ والآیات الدالۃ فی القرآن علی ہذا لا تحصی کقولہ تعالی:ذَلِکَ ظَنُّ الَّذِینَ کَفَرُوا فَوَیْلٌ لِلَّذِینَ کَفَرُوا مِنَ النَّارِ(صّ:من الآیۃ27)وقولہ تعالی: وَذَلِکُمْ ظَنُّکُمُ الَّذِی ظَنَنْتُمْ بِرَبِّکُمْ أَرْدَاکُمْ (فصلت:من الآیۃ23)وقولہ تعالی:(إِنْ ہُمْ إِلاَّ یَظُنُّونَ)(الجاثیۃ:من الآیۃ24)وقولہ تعالی:(وَیَحْسَبُونَ أَنَّہُمْ عَلٰی شَیْءٍ (المجادلۃ:من الآیۃ18)وقولہ تعالی:فِی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ (البقرۃ: من الآیۃ10) أی شک۔

وعلی الجملۃ: ذم اللّٰہ تعالی والرسول علیہ السلام المکذبین من الکفار مما لا ینحصر فی الکتاب والسنۃ۔

وأما قولہ”کیف یکلفہم ما لا یطیقون“ قلنا:نعلم ضرورۃ أنہ کلفہم أما أنہم یطیقون أو لا یطیقون فلننظر فیہ بل نیہ اللّٰہ تعالی علٰی أنہ أقدرہم علیہ بما رزقہم من العقل ونصب من الأدلۃ وبعث من الرسل المؤیدین بالمعجزات الذین نبہوا العقول وحرکوا دواعی النظر حتی لم یبق علی اللّٰہ لأحد حجۃ بعد الرسل)(المستصفٰی جلددوم:ص408-مؤسسۃ الرسالہ بیروت)

توضیح:جاحظ معتزلی کا مسلک یہ ہے کہ جوغیر مسلم ہے،مثلاً یہودی ونصرانی وغیرہ۔
اس کی تین صورتیں ہیں۔

(1) اگر وہ اسلام کی حقانیت سے آشنا ہوکر اسلام کی مخالفت کیا تووہ گنہ گارہے۔

(2)اگروہ غو ر وفکر کیااور اسلام کی حقانیت سمجھنے سے عاجز رہاتووہ معذور ہے۔

(3)اگر وہ غور وفکر نہیں کیا،کیوں کہ اسے غوروفکر کے وجوب کا علم نہ تھا تو معذور ہے۔

امام غزالی نے فرمایا کہ یہ تینوں صورتیں عقلاً جائز ہیں،لیکن شریعت اس کے برخلاف واردہوئی۔ اللہ ورسول (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)نے اسلام قبول نہ کرنے والوں کی مذمت فرمائی،پس یہ صورتیں شرعاً باطل ہیں،اور غیر مسلمین معذور نہیں ہیں،کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کوعقل عطا فرمائی جومدار تکلیف ہے۔

حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃوالسلام معجزات ظاہر فرمائے جو ان کی حقانیت کے دلائل ہیں۔معجزہ کے ذریعہ ان کی حقانیت کو سمجھنا بہت مشکل نہیں،لہٰذا کوئی صاحب عقل معذور نہیں،نہ ہی اللہ ورسول (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)نے کسی کو معذورقرار دیا، پس کوئی غیر مسلم معذورنہیں ہوگا۔قرآن مجید میں صرف اسلام کوقبول کرنے کا حکم نازل ہوا۔

(1)(اِنَّ الدِّینَ عِندَ اللّٰہِ الاِسلَامُ)(سورہ آل عمران:آیت 19)

ترجمہ:بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔(کنزالایمان)

(2)(وَمَن یَّبتَغِ غَیرَ الاِسلَامِ دِینًا فَلَن یُّقبَلَ مِنہُ وَہُوَ فِی الاٰخِرَۃِ مِنَ الخٰسِرِینَ)(سورہ آل عمران:آیت 85)

ترجمہ:اورجواسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا،وہ ہرگزاس سے قبول نہ کیاجائے گا،اوروہ آخرت میں زیاں کاروں میں سے ہے۔ (کنزالایمان)

(3)(یٰٓاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا ادخُلُوا فِی السِّلمِ کَآفَّۃً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیطٰنِ اِنَّہٗ لَکُم عَدُوٌّ مُّبِینٌ)(سورہ بقرہ:آیت 208)

ترجمہ:اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہوجاؤ،اور شیطان کے قدموں پرنہ چلو۔ بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔(کنزالایمان)

عنبری معتزلی کا مذہب:

قال الغزالی:(مسألۃ: الاجتہاد فی العقلیات:

ذہب عبد اللّٰہ بن الحسن العنبری إلی أن کل مجتہد مصیب فی العقلیات کما فی الفروع۔

فنقول لہ: إن أردت أنہم لم یؤمروا إلا بما ہم علیہ وہو منتہی مقدورہم فی الطلب فہذا غیر محال عقلا ولکنہ باطل إجماعا وشرعا کما سبق ردہ علی الجاحظ۔

وإن عنیت بہ أن ما أعتقدہ فہو علی ما اعتقدہ-فنقول کیف یکون قدم العالم وحدوثہ حقا وإثبات الصانع ونفیہ حقا وتصدیق الرسول و تکذیبہ حقا-ولیست ہذہ الأوصاف وضعیۃ کالأحکام الشرعیۃ إذ یجوز أن یکون الشیء حراما علٰی زید وحلالا لعمرو إذا وضع کذلک۔

أما الأمور الذاتیۃ فلا تتبع الاعتقاد بل الاعتقاد یتبعہا۔
فہذا المذہب شر من مذہب الجاحظ-فإنہ أقر بأن المصیب واحد ولکن جعل المخطیء معذورًا-بل ہو شر من مذہب السوفسطائیۃ لأنہم نفوا حقائق الأشیاء-وہذا قد أثبت الحقائق ثم جعلہا تابعۃ للاعتقادات فہذا أیضا لو ورد بہا الشرع لکان محالا بخلاف مذہب الجاحظ۔
وقد استبشع إخوانہ من المعتزلۃ ہذا المذہب فأنکروہ وأولوہ وقالوا أراد بہ اختلاف المسلمین فی المسائل الکلامیۃ التی لا یلزم فیہا تکفیر کمسألۃ الرؤیۃ وخلق الأعمال وخلق القرآن وإرادۃ الکائنات لأن الآیات والأخبار فیہا متشابہۃ وأدلۃ الشرع فیہا متعارضۃ-وکل فریق ذہب إلی ما رآہ أوفق لکلام اللّٰہ وکلام رسولہ علیہ السلام وألیق بعظمۃ اللّٰہ سبحانہ وثبات دینہ فکانوا فیہ مصیبین ومعذورین۔

فنقول:أن زعم أنہم فیہ مصیبون فہذا محال عقلا-لأن ہذہ أمور ذاتیۃ لا تختلف بالإضافۃ بخلاف التکلیف فلا یمکن أن یکون القرآن قدیما ومخلوقا أیضا بل أحدہما،والرؤیۃ محالا وممکنا أیضا۔

والمعاصی بإرادۃ اللّٰہ تعالٰی وخارجۃ عن إرادتہ-أو یکون القرآن مخلوقا فی حق زید،قدیمًا فی حق عمرو-بخلاف الحلال والحرام فإن ذلک لا یرجع إلی أوصاف الذوات۔

وإن أراد أن المصیب واحد لکن المخطیء معذور غیر آثم فہذا لیس بمحال عقلا لکنہ باطل بدلیل الشرع-واتفاق سلف الأمۃ علی ذم المبتدعۃ ومہاجرتہم وقطع الصحبۃ معہم وتشدید الإنکار علیہم مع ترک التشدید علی المختلفین فی مسائل الفرائض وفروع الفقہ-فہذا من حیث الشرع دلیل قاطع۔

وتحقیقہ أن اعتقاد الشیء علی خلاف ما ہو بہ جہل-والجہل باللّٰہ حرام مذموم-والجہل بجواز رؤیۃ اللّٰہ تعالی وقدم کلامہ الذی ہو صفتہ وشمول إرادتہ المعاصی وشمول قدرتہ فی التعلق بجمیع الحوادث کل ذلک جہل باللّٰہ وجہل بدین اللّٰہ فینبغی أن یکون حراما۔

ومہما کان الحق فی نفسہ واحدا متعینا کان أحدہما معتقدا للشیء علی خلاف ما ہو علیہ فیکون جاہلا۔

فإن قیل:یبطل ہذا بالجہل فی المسائل الفقہیۃ-وبالجہل فی الأمور الدنیویۃ کجہل إذا اعتقد أن الأمیر فی الدار ولیس فیہا-وأن المسافۃ بین مکۃ والمدینۃ أقل أو أکثر مما ہی علیہا۔

قلنا:أما الفقہیات فلا یتصور الجہل فیہا إذ لیس فیہا حق معین- وأما الدنیویات فلا ثواب فی معرفتہا ولا عقاب علی الجہل فیہا۔

أما معرفۃ اللّٰہ تعالی ففیہا ثواب وفی الجہل بہا عقاب-والمستند فیہ الإجماع دون دلیل العقل-وإلا فدلیل العقل لا یحیل حط المأثم عن الجاہل باللّٰہ فضلًا عن الجاہل بصفات اللّٰہ تعالی وأفعالہ۔

فإن قیل:إنما یأثم بالجہل فیما یقدر فیہ علی العلم ویظہر علیہ الدلیل والأدلۃ غامضۃ والشبہات فی ہذہ المسائل متعارضۃ۔

قلنا:وکذلک فی مسألۃ حدوث العالم وإثبات النبوات وتمییز المعجزۃ عن السحر-ففیہا أدلۃ غامضۃ-ولکنہ لم ینتہ الغموض إلی حد لا یمکن فیہ تمییز الشبہۃ عن الدلیل۔

فکذلک فی ہذہ المسألۃ عندنا أدلۃ قاطعۃ علی الحق ولو تصورت مسألۃ لا دلیل علیہا-لکنا نسلم أنہ لا تکلیف علی الخلق فیہا)
(المستصفٰی جلددوم:ص408-مؤسسۃ الرسالہ بیروت)

توضیح:جو لوگ تکفیر کلامی میں اختلاف کے قائل ہیں، ان پر وہ تمام اعتراض وارد ہوتے ہیں،جومنقولہ بالا اقتباس میں عبید اللہ بن حسن عنبری معتزلی پر وارد ہوئے ہیں۔

کفر کلامی، کفرقطعی بالمعنی الاخص ہے۔ اس میں اختلاف کا حکم وہی ہے جو ضروریات دین میں اختلاف کا حکم ہے۔قطعیات میں نفس الامری حقیقت کے مطابق اعتقادکا حکم ہے۔ تحقیق واجتہادکے ذریعہ اختلاف کا حق نہیں۔

عبید اللہ بن حسن عنبری معتزلی کا مذہب یہ ہے کہ عقلیات (قطعیات)میں بھی ہر مجتہد حق پر ہے،جیسا کہ فروع (ظنیات)میں ہر مجتہد حق پر ہے۔

قال الغزالی: إن أردت أنہم لم یؤمروا إلا بما ہم علیہ:الخ
امام غزالی نے فرمایا کہ اگر عنبری کی مراد یہ ہے کہ مجتہدین کو اسی کا مکلف بنایا گیا ہے، جو وہ اپنی محنت وکوشش سے معلوم کرسکیں،پس یہ عقلاً محال نہیں ہے،لیکن یہ امر شرعاً اور اجماعاً باطل ہے،جیسا کہ اس کا رد جاحظ معتزلی کے مذہب کے رد میں گزر چکا ہے۔

قال الغزالی:وإن عنیت بہ أن ما أعتقدہ فہو علی ما اعتقدہ:الخ
اوراگر عنبری کی یہ مراد ہے کہ وہ جو اعتقاد کرلے،وہی اس کے حق میں حق عقیدہ تسلیم کرلیا جائے گا تو یہ نظریہ باطل ہے،کیوں کہ دنیا کا قدیم ہونا اور حادث ہونا دونوں حق نہیں ہو سکتے۔اسی طرح خالق کا وجود اور اس کا عدم دونوں حق نہیں ہوسکتے۔رسول کی تصدیق اور اس کی تکذیب دونوں حق نہیں ہوسکتے۔دونوں حق ہوں تو اجتماع متضادین لازم آئے گا۔

قال الغزالی:أما الأمور الذاتیۃ فلا تتبع الاعتقاد بل الاعتقاد یتبعہا:الخ
امام غزالی نے احکام کی دوقسم بیان فرمائی:(1)وضعی حکم(2)ذاتی حکم۔
(1) وضعی حکم: ایسا حکم ہے جس کی بنیادکسی امر کے وصف پر ہو،اسی لیے اس میں متعددومتضاداحکام ہوسکتے ہیں،مثلاً سونا پہننا مردوں کوناجائز ہے،اور عورتوں کو جائز ہے۔ یہاں عورتوں ومردوں کے لیے الگ الگ حکم ہیں۔یہ دونوں حکم صحیح وحق ہیں۔

دراصل قانون یہ ہے کہ مردوں کو زینت ناجائز ہے اور سونا زینت کا سامان ہے،پس یہ مردوں کے لیے حرام ہے۔عورتوں کو زینت جائز ہے،پس ان کوسونا پہننا جائز ہے۔

(2) ذاتی حکم:ایسا حکم ہے،جس کی بنیاد کسی امر کی ذات پر ہے۔چوں کہ کسی امر کی حقیقت اور ذات دونہیں،اسی لیے وہاں متضاد احکام کی گنجائش نہیں۔کسی امر کی نفس الامری حقیقت اور ذات ایک ہی ہوتی ہے تو وہاں حکم بھی ایک ہی ہوگا،مثلاً کوئی امر یا توممکن بالذات ہوگا،یا محال بالذات ہوگا۔وہ ممکن بالذات بھی ہو، اور محال بالذات بھی۔

یہ نہیں ہو سکتا۔ قطعیات میں نفس الامری حقیقت پر حکم عائد ہوتا ہے۔وہاں دوحکم کی گنجائش نہیں۔

احکام ذاتیہ اعتقاد کے تابع نہیں ہوتے،بلکہ اعتقاد،احکام ذاتیہ کے تابع ہوتا ہے۔

احکام وضعیہ میں کسی امر کے وصف کے اعتبارسے حکم ہوتا ہے۔ وہ وصف کسی کے لیے موافق ہوگا،اور کسی کے لیے مخالف،پس اس وصف کے لحاظ سے حکم مختلف ہوگا۔

جیسے گوشت کسی کے لیے مفید ہے اور کسی کے لیے مضر ہے تو اشخاص متعددہ کے اعتبار سے گوشت کا حکم بدل جائے گا،کیوں کہ یہ حکم گوشت کی نفس حقیقت کے اعتبارسے نہیں،بلکہ اس کے وصف کے اعتبارسے ہے۔

اسی طرح اجتہادی احکام ہرمجتہد کے اصول وقوانین کے تابع ہوتے ہیں۔کسی مجتہد کے اصول کے اعتبارسے کوئی امر ناجائز ہوسکتاہے،پھر وہی امر دوسرے مجتہدکے اصول کے اعتبار سے جائز ہوسکتا ہے۔

اجتہادی احکام میں اس طرح کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔

قال الغزالی:فہذا المذہب شر من مذہب الجاحظ:الخ
امام غزالی نے فرمایا کہ عنبری کا مذہب جاحظ کے مذہب سے بھی زیادہ غلط ہے۔ جاحظ نے صرف ایک کو حق قراردیا اور دوسروں کومعذور قرار دیا،جب کہ عنبری نے متضاد عقائد کوحق قرار دیا۔امام غزالی نے فرمایا کہ عنبری کا مذہب سوفسطائیہ کے مذہب سے بھی زیادہ غلط ہے،کیوں کہ ان لوگوں نے اشیا کے حقائق کی نفی کردی، جب کہ عنبری نے حقائق کو ثابت کیا اور اس کواعتقاد کے تابع کردیا، یعنی اگر کوئی شیر کو بلی مان لے تو وہ بلی ہے،اور کوئی بلی کو شیر مان لے تو وہ شیر ہے۔یہ بات عقلاً ونقلاً باطل ہے۔

امام غزالی نے فرمایا کہ شریعت بھی اس بارے میں وارد ہوتی توبھی یہ امرعقلاً محال ہوتا، اور جو عقلاً محال ہو، وہ شرعاً بھی محال ہوتا ہے،لہٰذا یہ مذہب عقلاً وشرعاً باطل ہے۔

قال الغزالی:وقد استبشع إخوانہ من المعتزلۃ ہذا المذہب:الخ
امام غزالی نے فر مایا کہ بعض معتزلہ نے عنبری کے قول کی تاویل میں کہا کہ اس کی مراد وہ کلامی مسائل ہیں جومسلمانوں کے درمیان مختلف فیہ ہیں اور جن میں تکفیر لازم نہیں آتی ہے، جیسے مسئلہ رویت باری، مسئلہ خلق اعمال،مسئلہ خلق قرآن،مسئلہ ارادۂ افعال عباد وغیرہ۔

کیوں کہ ان امور سے متعلق آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ متشابہ (غیر واضح) ہیں اور ان سے متعلق شرعی دلائل متعارض ہیں،اور ہرفریق نے اس کو اختیار کیا جوان کی فہم میں قرآن وحدیث کے زیادہ موافق اور عظمت الٰہی اوران کے دینی مضبوطی کے زیادہ لائق تھا، پس وہ سب لوگ ان مسائل میں مصیب و معذور ہیں۔

امام غزالی نے جواب دیا کہ یہ خیال کہ وہ تمام لوگ مصیب ہیں،یہ عقلاً محال ہے، کیوں کہ یہ ذاتی احکام ہیں،کسی شخص کی طرف نسبت کے سبب مختلف نہیں ہوتے ہیں، برخلاف وضعی احکام کے۔یہ ممکن نہیں کہ قرآن قدیم بھی ہو، اور مخلوق بھی ہو،بلکہ ان دومیں سے ایک ہی بات صحیح ہوگی۔اسی طرح رویت باری تعالیٰ محال بھی ہو، اور ممکن بھی ہو۔
معاصی اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے بھی ہو، اور اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے خارج بھی ہو۔

یا قرآن زیدکے حق میں مخلوق ہو، اور عمر وکے حق میں غیر مخلوق ہو۔

برخلاف حلال وحرام کے،کیوں کہ ذاتی احکام کسی ذات کے وصف کی طرف منسوب نہیں ہوتے،اور وضعی احکام،ذات کے وصف کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔

قال الغزالی:وإن أراد أن المصیب واحد لکن المخطیء معذور:الخ
امام غزالی نے فرمایا کہ اگر تاویل کرنے والوں کی مراد یہ ہے کہ مصیب ایک ہی ہے، لیکن خطا وار معذور ہے،وہ گنہ گار نہیں تو یہ عقلاً محال نہیں، لیکن شرعاً باطل ہے۔

اسلاف کرام کا اجماع ہے،اہل بدعت کی مذمت اور ان سے ترک تعلق،ترک صحبت اور ان کے شدید رد وانکار پر،حالاں کہ اسلاف کرام فقہی مسائل میں اختلاف کرنے والے مجتہدین پر رد وانکار نہیں کرتے،پس اس سے ظاہر ہوگیا کہ قطعیات واجتہادیات میں فرق ہے۔ اس پر شریعت کے قطعی دلائل موجود ہیں۔

قال الغزالی: وتحقیقہ أن اعتقاد الشیء علی خلاف ما ہو بہ:الخ

اس کی تحقیق یہ ہے کہ کسی امر کے بارے میں اس کی نفس الامری حقیقت کے خلاف عقیدہ رکھنااس سے جہالت ولاعلمی ہے، اور اللہ تعالیٰ سے ناواقف وجاہل ہونا حرام اور قابل مذمت ہے،اور اللہ تعالیٰ کی رویت سے جاہل ہونا،اس کی صفت یعنی اس کے کلام کی قدامت سے ناواقف ہونا، اس کے ارادہ کے معاصی کی شمولیت سے جاہل ہونا،تمام حوادث کو اس کی قدرت کی شمولیت سے جاہل ہونا،یہ تمام اللہ تعالیٰ اواس کے دین سے جاہل ہونا ہے، پس یہ جہالت حرام ہوگی۔

اور جب حق فی نفسہ ایک اور متعین ہے،تو دومجتہد میں سے ایک کسی امرکی نفس الامری حقیقت کے برخلاف عقیدہ رکھنے والا ہوگا،پس وہ جاہل وناواقف ہوگا۔

قال الغزالی:فإن قیل:یبطل ہذا بالجہل فی المسائل الفقہیۃ:الخ
امام غزالی نے فرمایا کہ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مذکورہ بالا اصول کے مطابق مسائل فقہیہ میں بھی جہالت ہوتی ہے کہ ایک مجتہد دوسرے مجتہدکے خلاف کہتا ہے۔

اسی طرح دنیوی امورمیں جہالت ہوتی ہے، جیسے اعتقاد کر لیا کہ حاکم گھر میں ہے، حالاں کہ وہ گھر میں نہیں ہے۔ اسی طرح حرمین طیبین کے درمیان جومسافت ہے،اس سے کم یا زیادہ کا اعتقاد کرلے تو یہ سب بھی جہالت ہے۔

الحاصل جس طرح فقہی مسائل اوردنیاوی امور میں جہالت ناجائز نہیں،اسی طر ح قطعیات میں بھی جہالت ناجائز نہیں ہونا چاہئے۔

امام غزالی نے جواب دیا کہ فقہیات میں جہالت کا تصور نہیں،کیوں کہ وہاں بندوں کے حق میں کوئی ایک صورت معینہ حق نہیں،اوردنیاوی امور میں جہالت پر نہ کوئی عذاب ہے، نہ ہی ان کی معرفت پر ثواب ہے،لیکن اللہ تعالیٰ کی معرفت میں ثواب اور اللہ تعالیٰ سے جہالت میں عذاب ہے،اور اس بارے میں دلیل اجماع متصل ہے، نہ کہ عقل،ورنہ عقل تو یہ بھی جائز قرار دیتی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی ذات پاک سے ناواقف ہو، وہ بھی قابل مغفرت ہو، پھر جو صفات الٰہی وافعال الٰہی سے لاعلم اور ناواقف ہو، وہ بدرجہ اولیٰ قابل مغفرت ہوگا۔

قال الغزالی:فإن قیل:إنما یأثم بالجہل فیما یقدر فیہ علی العلم:الخ

امام غزالی نے فرمایا کہ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جہالت کے سبب اس وقت گنہ گار ہونا چاہئے جب جان بوجھ کر جہالت کی راہ اختیار کرے،او ر دلائل اس کے لیے واضح ہوں،حالاں کہ ان امور (مسئلہ خلق قرآن اور اس کے امثال ونظائر)میں دلائل غیر واضح ہیں اور ان مسائل میں شبہات موجود ہیں جو اصل امر کے تیقن سے مانع ہیں۔
امام غزالی نے جواب دیا کہ جس طرح ان امور (مسئلہ خلق قرآن اور اس کے امثال ونظائر)کے دلائل دقیق اورقابل غوروفکر ہیں،اسی طرح حدوث عالم، نبوت کے اثبات اور معجزہ وجادوکے درمیان فرق وتمیز کے دلائل بھی دقیق وقابل غوروفکر ہیں،لیکن یہ خفا وپوشیدگی اس حد تک نہیں ہے کہ اس میں شبہہ اور دلیل کے درمیان فرق ممکن نہ ہو۔

اقول:دراصل مرتدین وضالین نے شبہات باطلہ کو دلیل سمجھ لیا اور دلیل وشبہہ کے درمیان فرق نہ کرسکے اور کفر ووضلالت میں مبتلا ہوئے۔جس طرح قطعی بالمعنی الاخص (ضروریات دین)میں احتمالات باطلہ کے سبب اختلاف کر نے والا کافر ہے۔اسی طرح قطعی بالمعنی الاعم (ضروریات اہل سنت)میں اختلاف کرنے والا گمراہ ہے۔

مسئلہ حدوث عالم اور اس کے امثال ونظائر قطعی بالمعنی الاخص ہیں۔مسئلہ رویت باری تعالیٰ اور اس کے امثال ونظائر قطعی بالمعنی الاعم ہیں۔

ضروری دینی کے قطعی بالمعنی الاخص انکار کا نام کفر کلامی ہے۔ضروری دینی کے قطعی بالمعنی الاعم انکار کا نام کفرفقہی قطعی ہے۔ ان دونوں میں اختلاف کی گنجائش نہیں۔کافر کلامی کومومن ماننے والا کافر کلامی اور کافرفقہی قطعی کو مومن ماننے والا کافر فقہی قطعی ہے۔

کفرفقہی ظنی لزومی میں اختلاف ہوتا ہے، کیوں کہ وہ اجتہادیات میں سے ہے۔ کسی امرمیں بعض فقہاکے یہاں کفر ثابت ہوتا ہے،بعض کے یہاں ثابت نہیں ہوتا۔

بشرمریسی معتزلی کا مذہب:

قال الغزالی:(مسألۃ إثم المجتہد فی الفروع:
ذہب بشر المریسی إلی أن الإثم غیر محطوط عن المجتہدین فی الفروع بل فیہا حق معین وعلیہ دلیل قاطع فمن أخطأہ فہو آثم کما فی العقلیات لکن المخطیء قد یکفر کما فی أصل الإلہیۃ والنبوۃ وقد یفسق کما فی مسألۃ الرؤیۃ وخلق القرآن ونظائرہا وقد یقتصر علی مجرد التأثیم کما فی الفقہیات۔

وتابعہ علی ہذا من القائلین بالقیاس ابن علیۃ وأبو بکر الأصم ووافقہ جمیع نفاۃ القیاس-ومنہم الإمامیۃ وقالوا:لا مجال للظن فی الأحکام،لکن العقل قاض بالنفی الأصلی فی جمیع الأحکام إلا ما استثناہ دلیل سمعی قاطع فما أثبتہ قاطع سمعی فہو ثابت بدلیل قاطع-وما لم یثبتہ فہو باق علی النفی الأصلی قطعا ولا مجال للظن فیہ۔

وإنما استقام ہذا لہم لإنکارہم القیاس وخبر الواحد وربما أنکروا أیضا القول بالعموم والظاہر المحتمل حتی یستقیم لہم ہذا المذہب۔

وما ذکروہ ہو اللازم علٰی قول من قال:المصیب واحد۔
ویلزمہم علیہ منع المقلد من استفتاء المخالفین۔

وقد رکب بعض معتزلۃ بغداد رأسہ فی الوفاء بہذا القیاس
وقال:یجب علی العامی النظر وطلب الدلیل
وقال بعضہم:یقلد العالم أصاب المقلد أم أخطأ
ویدل علٰی فساد ہذا المذہب دلیلان:

الأول: ما سنذکرہ فی تصویب المجتہدین ونبین أن ہذہ المسائل لیس فیہا دلیل قاطع ولا فیہا حکم معین-والأدلۃ الظنیۃ لا تدل لذاتہا وتختلف بالإضافۃ فتکلیف الإصابۃ لما لم ینصب علیہ دلیل قاطع تکلیف ما لا یطاق وإذا بطل الإیجاب بطل التأثیم-فانتفاء الدلیل القاطع ینتج نفی التکلیف ینتج نفی الإثم۔

ولذلک یستدل تارۃ بنفی الإثم علی نفی التکلیف کما یستدل فی مسألۃ التصویب-ویستدل فی ہذہ المسألۃ بانتفاء التکلیف علٰی انتفاء الإثم-فإن النتیجۃ تدل علی المنتج کما یدل المنتج علی النتیجۃ

الدلیل الثانی:إجماع الصحابۃ علٰی ترک النکیر علی المختلفین فی الجد والأخوۃ ومسألۃ العول ومسألۃ الحرام وسائر ما اختلفوا فیہ من الفرائض وغیرہا فکانوا یتشاورون ویتفرقون مختلفین ولا یعترض بعضہم علٰی بعض ولایمنعہ من فتوی العامۃ ولا یمنع العامۃ من تقلیدہ ولا یمنعہ من الحکم باجتہادہ-وہذا متواتر تواترًا لا شک فیہ۔

وقد بالغوا فی تخطءۃ الخوارج وما نعی الزکاۃ ومن نصب إمامًا من غیر قریش أو رأی نصب إمامین-بل لو أنکر منکر وجوب الصلاۃ والصوم وتحریم السرقۃ والزنا لبالغوا فی التأثیم والتشدید-لأن فیہا أدلۃ قاطعۃ فلو کان سائر المجتہدات کذلک لأثموا وأنکروا۔

فإن قیل: لہم لعلہم أثموا ولم ینقل إلینا أو أضمروا التأثیم ولم یظہروا خوف الفتنۃ والہرج
قلنا:العادۃ تحیل اندراس التأثیم والإنکار لکثرۃ الاختلاف والوقائع بل لو وقع لتوفرت الدواعی علی النقل کما نقلوا الإنکار علی مانعی الزکاۃ ومن استباح الدار وعلی الخوارج فی تکفیر علی وعثمان وعلی قاتلی عثمان۔

ولو جاز أن یتوہم إندراس مثل ہذا لجاز أن یدعی أن بعضہم نقض حکم بعض وأنہم اقتتلوا فی المجتہدات ومنعوا العوام من التقلید للمخالفین أو للعلماء أو أوجبوا علی العوام النظر أو اتباع إمام معین معصوم۔

ثم نقول:تواتر إلینا تعظیم بعضہم بعضًا مع کثرۃ الاختلافات إذ کان توقیرہم وتسلیمہم للمجتہد العمل باجتہادہ وتقریرہ علیہ أعظم من التوقیر والمجاملۃ والتسلیم فی زماننا ومن علمائنا ولو اعتقد بعضہم فی البعض التعصیۃ والتأثیم بالاختلاف لتہاجروا ولتقاطعوا وارتفعت المجاملۃ وامتنع التوقیر والتعظیم۔

فأما امتناعہم من التأثیم للفتنۃ فمحال فإنہم حیث اعتقدوا ذلک لم تأخذہم فی اللّٰہ لومۃ لائم ولا منعہم ثوران الفتنۃ وہیجان القتال حتی جری فی قتال مانعی الزکاۃ وفی واقعۃ علی وعثمان والخوارج ما جری فہذا توہم محال۔

فإن قیل:فقد نقل الإنکار والتشدید والتأثیم حتی قال ابن عباس ألا یتقی اللّٰہ زید بن ثابت یجعل ابن الابن ابنا ولا یجعل أبا الأب أبا؟ وقال أیضا:من شاء باہلتہ أن اللّٰہ لم یجعل فی المال النصف والثلثین۔

وقالت عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا:أخبروا زید بن أرقم أنہ أحبط جہادہ مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إن لم یتب۔
قلنا:ما تواتر إلینا من تعظیم بعضہم بعضًا وتسلیمہم لکل مجتہد أن یحکم ویفتی-ولکل عامی أن یقلد من شاء،جاوز حدا لا یشک فیہ فلا یعارضہ أخبار آحاد لا یوثق بہا۔

ثم نقول:من ظن بمخالفہ أنہ خالف دلیلا قاطعا فعلیہ التأثیم والإنکار-وإنما نقل إلینا فی مسائل معدودۃ ظن أصحابہا أن أدلتہا قاطعۃ فظن ابن عباس أن الحساب مقطوع بہ فلا یکون فی المال نصف وثلثان۔

وظنت عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا أن حسم الذرائع مقطوع بہ فمنعت مسألۃ العینۃ-وقد أخطأوا فی ہذا الظن فہذہ المسائل أیضا ظنیۃ ولا یجب عصمتہا عن مثل ہذا الغلط-أما عصمۃ جملۃ الصحابۃ عن العصیان بتعظیم المخالفین وترک تأثیمہم لو أثموا فواجب)
(المستصفٰی جلددوم:ص408-مؤسسۃ الرسالہ بیروت)

توضیح:امام غزالی نے بشر مریسی کے مذہب کا مفصل رد کیا۔تشریحات درج ذیل ہیں۔

قال الغزالی:ذہب بشر المریسی إلی أن الإثم غیر محطوط:الخ
بشر مریسی کا مذہب ہے کہ فروعی مسائل میں خطا کرنے والے مجتہدکا گناہ معاف نہیں ہے، بلکہ ظنیات میں بھی ایک معین حق ہے،اور اس پر قطعی دلیل ہے،پس جس سے خطا ہو جائے تووہ گنہ گار ہے،جیسا کہ عقلیات میں ہے۔

خطا وار کی کبھی تکفیر کی جاتی ہے،جیسا کہ الٰہیات ونبوات کے اصولی مسائل میں خطا پر تکفیر ہوتی ہے،اور خطا وار کی کبھی تضلیل ہوتی ہے،جیسا کہ مسئلہ رویت باری تعالیٰ،مسئلہ خلق قرآن اور اس کے امثال ونظائر میں خطاوار کی تضلیل وتفسیق ہوتی ہے۔ خطا وار کو کبھی صرف گنہ گار قرار دیا جاتا ہے،جیسے فقہی مسائل میں خطا وار کو گنہ گار سمجھا جاتا ہے۔

امام غزالی نے فرمایا کہ قائلین قیاس میں سے ابن علیہ اور ابوبکر اصم نے بشر مریسی کی پیروی کی،اور قیاس کے تمام منکرین نے بشرمریسی کی موافقت کی۔انہیں میں سے امامیہ ہیں۔

فرقہ امامیہ نے کہاکہ احکام میں ظن کا کوئی اعتبار نہیں،اور عقل تمام احکام میں نفی اصلی کا فیصلہ کرتی ہے،مگر جس کو دلیل سمعی قطعی نے مستثنیٰ کردیا ہے،پس جس کو دلیل قطعی سمعی نے ثابت کردیا ہو، وہ دلیل قطعی سمعی سے ثابت ہوگا،اور جس کو دلیل سمعی قطعی نے ثابت نہ کیا ہو، وہ نفی اصلی پر یقینی طورپرباقی رہے گا۔اس میں ظن کی کوئی گنجائش نہیں۔

اسی وجہ سے ان لوگوں نے قیاس اورخبرواحد پر عمل سے انکار کیا۔بسااوقات یہ لوگ عموم کے قول اور ظاہرمحتمل کا بھی انکار کرتے ہیں،یعنی سمعیات میں سے صرف قطعی دلیل کو اختیار کرتے ہیں،تاکہ ان کا یہ مذہب مستحکم ہوجائے کہ احکام میں ظن کا کوئی دخل نہیں۔

قال الغزالی:ویدل علٰی فساد ہذا المذہب دلیلان:الخ
امام غزالی نے بشر مریسی کے مذہب کا بطلان دو دلیلوں سے کیا۔

دلیل اول:فروعی مسائل کے بارے میں قطعی دلائل نہیں اور نہ ہی اس میں معین حکم ہے،اورظنی دلائل لذاتہ کسی حکم پر دلالت نہیں کرتے(بلکہ قول نبوی ہونے کے سبب حکم کو بتاتے ہیں،گرچہ قلت روات کے سبب روایت ظنی ہوگئی) اور نسبت واضافت کے سبب ظنی احکام بدل جاتے ہیں کہ کسی کے لیے کوئی امر جائز اورکسی کے لیے ناجائز ہوتاہے۔
پس جن امور میں قطعی دلائل موجود نہیں،ان میں اصابت حق کا مکلف بنایا جانا تکلیف مالا یطاق ہے،اور جب ایسا مکلف بنایا جانا باطل ہے توعدم اصابت حق کے سبب گناہ گار ہونا بھی باطل ہوگیا،پس قطعی دلیل کا نہ ہونا نفی تکلیف کا نتیجہ دے گا اور نفی تکلیف،نفی تاثیم کا نتیجہ دے گی کہ جب بندہ اصابت حق کا مکلف نہیں تو عدم اصابت حق کے سبب گناہ بھی نہیں ہوگا۔اسی لیے کبھی نفی اثم سے نفی تکلیف پر استدلال کیا جاتا ہے،جیسا کہ مسئلہ تصویب مجتہدین میں استدلال کیا جاتا ہے کہ جب مجتہدین،اصابت حق کے مکلف نہیں تو ہر مجتہد اپنے اجتہادمیں صحیح ہیں،اور مسئلہ مذکورہ میں نفی تکلیف سے نفی اثم پر استدلال ہے۔

دراصل نتیجہ اپنے منتج بالکسر پر دلالت کرتا ہے،جیسا کہ منتج نتیجہ پردلالت کرتا ہے۔

قال الغزالی:الدلیل الثانی:إجماع الصحابۃ علٰی ترک النکیر:الخ
دلیل دوم:حضرات صحابہ کرام کا اس پر اجماع ہے کہ وہ فروعی مسائل میں اختلاف کرنے والوں کو غلط نہیں کہتے تھے،نہ ہی بعض حضرات بعض دوسروں پر اعتراض کرتے،نہ ہی ان کو عوام کو فتویٰ دینے سے روکتے،نہ ہی عام مسلمین کو ان کی تقلید سے منع فرماتے، نہ ہی اس مجتہدکو اجتہاد سے روکتے۔یہ متواتر ہے۔اس میں کوئی شک نہیں۔

جب کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے خوارج،مانعین زکات، غیر قریشی خلیفہ کی تقرری کی تجویزدینے والوں یا دوخلیفہ مقررکرنے کے جواز کے قائلین کو خطا کار ٹھہرانے میں زوروشو ر کے ساتھ آواز بلند کی،بلکہ اگر کوئی نمازو روزہ کی فرضیت کا انکار کیا،یاچوری و زناکاری کی حرمت کا انکار کیا تو اس کو گنہ گار وکافرقراردیا اور اس پر بہت سختی کی، کیوں کہ ان امو ر کے بار ے میں قطعی دلائل موجود ہیں۔

پس اگر تمام اجتہادی مسائل میں قطعی دلائل ہوتے تو خطاوار مجتہدین کو گنہ گار قرار دیتے اور ان کے مذاہب کا انکار کرتے،لیکن ایسا نہیں۔
اقول: قطعیات وظنیات کے احکام جدا گانہ ہیں۔

ہاں،عہدحاضر میں نادانی کے سبب بعض لوگ قطعیات کو بھی اجتہادیات کی طرح سمجھ بیٹھے ہیں۔

اگر اسلاف کرام سے بطور لغزش کچھ صادرہوگیا ہوتو اسے دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔

اسی طرح مناظراتی مباحث کو بھی عقیدہ نہیں بنایا جا سکتا۔اگر مناظراتی مباحث اصول وضوابط اورعقائد کے خلاف ہوں تو ان کو بحث ومناظرہ پر محمول کیا جائے گا۔

عہد حاضر میں ایک عیب یہ پیدا ہوچکا ہے کہ علم کلام سے علما نے مشغولیت بہت کم کر دی ہے،اور جب کلامی مسائل میں تحقیق کی ضرورت ہوتو مفسر،محدث، فقیہ،ادیب،منطقی، فلسفی، صرفی،نحوی،ہرطبقہ کے علمامیدان میں اتر پڑتے ہیں۔یہ بات بالکل واضح ہے کہ جس کوجس فن میں مہارت او ر مزاولت وممارست نہ ہو،وہ لغزش وخطا کا شکار ہوسکتا ہے۔
دوسرا عیب یہ بھی پیداہوچکا ہے کہ آج کے مسلمان، حضرات ائمہ مجتہدین کے بارے میں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان سے اجتہادی خطا ہوسکتی ہے،لیکن عہد حاضرکے علما، مشائخ،پیران طریقت وغیرہم کو لغزش وخطا سے بالا تر سمجھتے ہیں۔

ان شاء اللہ تعالیٰ میں حتی الامکان اس نظریہ باطل کا بطلان کرتارہوں گا اور کلامی مسائل سے متعلق لغزش وخطا پر تنبیہ بھی کرتا رہوں گا،نیزان شاء اللہ تعالیٰ مسلمانان عالم بوقت ضرورت مجھے اپنی لغزش وخطا سے بھی رجوع کرنے والا پائیں گے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

زکوٰۃ کے چند مسائل

ازقلم:  عبدالرشید امجدی اشرفی دیناجپوری حضور نبئ اکرم صلی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔