علما و مشائخ

مولانا قمرالزماں قمر کی نعت نگاری!

تحریر: محمد سلمان رضا غوثی مصباحی
بٹلہ ہاؤس،دھلی
رابطہ نمبر۔7838498933

مولانا محمدقمرالزماں مصباحی قمرمظفرپوری خالص علمی مزاج کے حامل،سنجیدہ،دیدہ وراورمعزز عالم دین ہیں۔محبت ان کا پیشہ اورا خلاق ان کا شیوہ ہے ۔شخص اورشخصیت بہ ہرنوع ان کی مقبولیت کاگراف اونچا ہےاپنی شرافت، سادگی،اخلاص اورمتانت کی وجہ سے بڑے چھوٹے کے درمیان محترم سمجھے جاتے ہیں ان کی مذہبی اور تدریسی خدمات کا دائرہ تین دہائیوں پرمحیط ہے اپنے اصلاحی بیانات،قوت فکر،زورتکلم،نکات آفریں گفتگو اوردلگیر خطاب سے لوگوں کےنہاں خانہ روح تک پہنچنے کاہنرخوب رکھتے ہیں جلسہ،کانفرنس یامحفل میلاد شریف ہو ہر جگہ سماجی برائیوں کاخاتمہ،ایمان و عقیدہ کی اصلاح،بامقصدمعاشرہ کی تعمیر اور نئی نسلوں کے اندر جوش عمل،ولولہ عشق ،خوف خدااورایمانی چمک پیداکرنا ان کی گفتگوکا اصل مرکزی کردار ہوتا ہے ان کی محفل میں بہت ساری آنکھوں کو ساون بھادو کی طرح برستے اور ظلمتِ نفس کو آنسوؤں کے ذریعہ بہتے دیکھا ہے۔

10جنوری 1965عیسوی کو موجودہ ضلع شیوہرکےایک غیرمعروف گاؤں”کمھرار” میں مولانا کی پیدائش ہوئی پورا خاندان قرآن وسنت اور دین وشریعت پرعامل ۔آپ کے والدگرامی ڈاکٹر محمداسمعیل صاحب مرحوم ایک ماہر ڈاکٹر کے ساتھ ایک اچھے انسان بھی تھے قدرت نے دست شفا سے خوب خوب نوازا تھا نہایت نیک طبیعت،صوم وصلوة کےپابنداورتہجدگزارآدمی تھے اور شاعری کا مذاق بھی بڑا ستھراپایاتھا غزل کے ساتھ نعت پڑھنا اور نعت کہنا آپ کابڑا محمود اور پسندیدہ عمل تھااور اسی عشقِ رسول نے دیار حبیب تک پہونچا دیا مزید نبی کا کرم یہ کہ گنبدِ خضریٰ کی چھاؤں میں بیٹھ کر نعت خوانی کی سعادتیں نصیب ہوئیں پوکھریرا کے طرحی نعتیہ مشاعرہ میں تقریباً 35سالوں تک شرکت فرمائی۔ کلام میں بلندی،فکرمیں سلاست ،خیالات میں ترفع،لہجےمیں تقدس اور آواز میں بڑی حلاوت تھی آپ جب نغمہ سرا ہوتے تو پوری فضا کیف وسرورمیں شرابور ہو جاتی۔
مولانا محمدقمرالزماں قمرمظفرپوری نے ملک کی مرکزی درسگاہ الجامعہ الاشرفیہ مبارک پور سے سند فضیلت حاصل کی اشرفیہ کے جید فاضل اور نامور فرزند میں آپ کا نام آتا ہے فراغت کے بعد درس و تدریس،اصلاح وتذکیر اور دعوت وتبلیغ کواپنی زندگی کا اصل مشن بنایا کہنے کو تو خالص اسلامی درسگاہ کے پروردہ ہیں مگرفکروقلم اور زبان و ادب سے بھی گہرا رشتہ ہے ملک کے مذھبی اور ادبی رسائل میں مختلف موضوعات پرمضامین اور درجن بھر تالیف وتصانیف آپ کی تحریری بصیرت اور سعادت لوح و قلم کا روشن ثبوت ہےآپ جہاں اچھے نثر نگار ہیں شعری ذوق بھی ورثے میں ہاتھ آیا ہے آپ کی شاعری عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس منور فضا میں پروان چڑھی ہے جہاں ہر طرف گلابوں کی مانند افکار رضا کی خوشبوئیں بکھر ہوئی تھیں مولاناجملہ اصناف سخن میں نعت نگاری کو زیادہ محبوب رکھتے ہیں چونکہ نعت کہنا حضرت حسان کی سنت اور نعت سننا مصطفی جان رحمت کی سنت ہے جو آخرت کا سرمایہ اورشفاعت کا ذریعہ ہےاگر ایمان و عقیدے کی ڈوری مدینے سے بندھی ہو۔نعت نگاری کی تاریخ بہت قدیم ہے اور اس کا بنیادی مآخذ کلام الہی ہے جہاں سے محبت رسول اور اس بارگاہ کے آداب کا شعور ملتا ہے گویا عشق،عقیدت اور اپنے نبی سے محبت قرآنی نصاب کے اہم عناوین ہیں مولانا قمر شعری صلاحیتوں کے ساتھ شریعت کا علم بھی رکھتے ہیں اس لئے وہ اس نکتہ سے بخوبی واقف ہیں کہ نعت گوئی پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے جہاں قدم قدم پر حسن شعر کے ساتھ پاس شرع بھی ضروری ہے ورنہ شان الوہیت اور مقام نبوت میں بے احتیاطی کی ایک ہلکی سی چنگاری ایمان و عقیدے کی فصل گل کو خاکستر کر نے کے لئے کافی ہے۔
سچ پوچھئے تو شاعری فیضان الہی کا نتیجہ ہے اور ریاضت و کسب بعد کی چیزیں ہیں فکرمیں تقدس اور تخیل میں بلندی کے لئے لازم ہے کہ جن سےعشق کررہے ہیں وہ عشق سچا ہو تو فن کی معراج کے ساتھ ہر شعر دل کے دروازے تک دستک دے گا اور نور میں بھیگی ہوئی رات مدینہ کی یاد دلائے گی اس تناظر میں قمر کی نعتیہ شاعری کا مطالعہ کریں تو معنی آفرینی اور عشق کی لالہ کاری دونوں کی بہاریں ایک ساتھ گلے مل رہی ہیں مولانا قمر طہارت فکر کو جمالیاتی عشق اور جمالیاتی عشق کو طہارت فکر سے الگ نہیں ہونے دیتے۔آپ کی شاعری میں پرشکوہ زبان،قوت تخیل،استعارہ کی ندرت،خوبصورت تشبیہات،صداقت کی بہار اور پاکیزہ جذبے کی آنچ بہت زیادہ پائیں گے گویا ایک خوش نوا فقیر کی حیثیت سے انہوں نے شاعری پر ایک خوش گوار اثرات مرتب کیے ہیں پہلے ان کی دعائیہ حمد کے چند اشعار ملاحظہ کریں۔

مری زبان کو صدق مقال دے اللہ
نبی کے فیض کا ساغر اچھال دے اللہ

میں کیا کروںگا زمانے کی شوکتیں لےکر
غم حبیب کو جھولی میں ڈال دے اللہ

زباں قمرکی ہو اور مدحت پیمبر ہو
نگار شعر کو حسن خیال دے اللہ

اب آئیے ان کے کلام سے چند اشعار قارئیں کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

غبارِ کوئے جاناں میں اٹا رہنے دو چہرے کو
شفاعت کایہ غازہ ہے اسے پونچھا نہیں جاتا

مکاں سے لامکاں جاکر پلٹنا آن واحد میں
کہ بستر گرم ہے زنجیر کا ہلنا نہیں جاتا

مصطفے دنیا میں آئے نور پھیلا بےحساب
ظلمتوں کو کردیا آقا نے کیسا بے نقاب

سیرتِ سرکار طیبہ پہ چلیں گرصبح وشام
حشر کا پھر خوف کیسا قبر کا کیسا عذاب

مطلعِ انسانیت کی ہیں وہی پہلی کرن
کلک قدرت کا نبی کو اک حسیں شہ کارلکھ

کوثروتسنیم سے تو غسل کرکے اے قلم
عشق میں ڈوبی ہوئی نعت شہ ابرار لکھ

شبنمی لفظوں کی آمد ہورہی ہے ذہن پر
فکرکی محراب پہ روشن ہیں سیرت کے چراغ

ستم کی رات میں لب پہ دعا کے جگنو تھے
بس ایک حسن تبسم میں سب کو ٹال گیا

وفا خلوص محبت کی جل اٹھیں شمعیں
جہاں جہاں سے مرا آمنہ کا لال گیا

دشمنوں کے ہاتھ سے خنجر زمیں پہ گر پڑا
جب لب اعجاز سے پھوٹی دعا کی روشنی

جہان فکر میں خوشبو ہے پھیلی
خیال مصطفیٰ ہے اور میں ہوں

اجالا علم کا پھیلا ہے ہرسو
قمر غار حراء ہے اور میں ہوں

غازہ شفاعت،ستم کی رات، دعاکے جگنو ، لب اعجاز ،شبنمی لفظوں کی آمد،محراب فکراور دعاکی روشنی جیسے شگفتہ الفاظ کا انتخاب اور حسین تراکیب ان کی فنی بصیرتوں کی واضح دلیل ہے جہاں ان اشعار سے پاکیزہ صوت و صدا کی دلآویزی،تخیل کی بلندی اور ادب لطیف کے اجالے پھوٹ رہے ہیں وہیں عشقِ حقیقی کا رنگ بھی صاف جھلکتا دکھائی دے رہا ہے

تری آمد کی برکت سے نظام زندگی بدلا
کلی چٹکی،ہوامہکی،بہارآئی گلستاںمیں

مظالم سہنے والو مسکراؤ پھول برساؤ
پیام امن کا داعی پیمبر آنے والا ہے

تہذیب بے اماں تھی شرافت تھی جاں بلب
سب کو نبی نے جینے کے قابل بنا دیا

ظلمتوں نے منہ چھپائے جہل رخصت ہو گیا
مصطفیٰ پیارے پہ اترا جب صحیفہ نور کا

پھول،شبنم ،تتلیاں ،سرگوشیاں کرنے لگیں
نور کے جھونکے چلے موسم ہے چھایا نورکا

مندرجہ بالا اشعار اپنی تمام تر فکری وسعتوں،فنی نفاستوںاور ادبی لطافتوں کے ساتھ ذہن وروح کو کیفیت عشق سے یکبارگی متاثر کرتے ہیں آپ کی مبارک آمد کے بعد مظلوموں کامسکرانا،ظلم کا خاتمہ،انصاف کی بالادستی،بہاروںکاتبسم ،جہل کی رخصتی،امن کے اجالے،شرافت کے بول بالے اس طرح کی فکر اور حسنِ تراکیب دیکھنے کے بعد مولانا قمر کی شعری بصیرتوں کو دل کھول کر داد دینے کو جی چاہتا ہے مولانا نے عشقِ رسول کے پر نور سائے میں بیٹھ کر نعت کے ساتھ فن کی جن قدروں کو فروغ دیا ہے یہ ان کی فنی صلاحیتوں کا غماز ہے۔

ہمارے نبی کا چمن خوبصورت
سخن خوبصورت دہن خوبصورت

لگایا ہے خاک مزار مدینہ
لگے کیوں نہ میرا کفن خوبصورت

ہیں چھائی تصور میں طیبہ کی گلیاں
جبھی تو ہے میرا یہ من خوبصورت

مولانا کے کلام میں خوبصورت ادب کا لہجہ اور شگفتہ اسلوب پورے طور پرنمایاں ہے جو ایک صحت مندشاعری کی زندہ علامت ہے مولانا نے الفاظ کی بندش اورتخیل کے بانکپن کے ساتھ محبت رسول کوشاعری کا اصل اثاثہ قرار دیا ہے تاکہ فن اورعشق کی ہم آہنگی سےجو کیفیت پیدا ہو اس سے قاری نہ صرف لطف اندوز ہو بلکہ وہ کیفیت قاری کے دل کی دھڑکنوں کی صدا بن کرمدینہ کی دہلیز تک پہونچ جائے اور سننے والا یہ محسوس کرے کہ کلام کے روزن سے شاعر کا عشق جھانک رہا ہے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

ایک تبصرہ

جواب دیں

Back to top button