علما و مشائخ

سراج الہند علامہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ

تحریر: محمد سلیم انصاری ادروی

ولادت: سراج الہند علامہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمه شاہ ولی الله محدث دہلوی علیہ الرحمه کے فرزند اکبر اور جانشین تھے۔ آپ کی ولادت ٢۵ رمضان المبارک سنہ ١١۵٩ھ کو دہلی میں ہوئی۔ آپ کا تاریخی نام غلام حلیم تھا۔

تحصیل علم: آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد کے دو ممتاز شاگردوں حضرت خواجہ امین اور حضرت مولانا محمد عاشق پھلتی علیہما الرحمه سے حاصل کی۔ اس کے بعد آپ اپنے والد کے مدرسہ رحیمیہ مہديان میں داخل ہو گئے، آپ نے والد گرامی سے قراءت و سماعت کے ذریعہ پوری تحقیق و درایت سے علم حاصل کیا، جس سے آپ کو اسلامی علوم و فنون میں ملکۂ راسخہ حاصل ہو گیا، آپ نے کتب احادیث میں پورے مؤطا مع مسویٰ اور مشکوة المصابیح اپنے والد سے پڑھیں، حصن حصین اور شمائل ترمذی کی آپ کے درس میں سماعت کی، جب آپ سولہ یا سترہ سال کی عمر کو پہنچے تو آپ کے والد گرامی اس دنیاے فانی سے رخصت ہو گئے، اس لیے آپ نے اپنے والد کے تربیت یافتہ اور محرم راز تلامذہ شیخ نور الله، شیخ محمد امین کشمیری اور مولانا محمد عاشق پھلتی سے اکتساب فیض کیا اور متعدد علوم و فنون میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

بیعت: آپ اپنے والد سے تمام سلاسل میں بیعت تھے۔ والد کے وصال کے بعد سوئم کے دن آپ کی دستار بندی کا جلسہ ہوا، جس میں شاہ ولی الله کے تمام خلفا کی موجودگی میں آپ ہی قائم مقام اور سجادہ نشین بنائے گئے، مولانا شاہ فخر الدین محمد چشتی علیہ الرحمہ نے آپ کے سر پر دستار باندھی اور بطور ہدایت بزرگانہ ارشاد فرمایا: "آپ کے والد سے جو غلطياں ہو گئی ہیں ان کو مٹانے کی کوشش کیجیے گا۔” (تذکرۂ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی/ص: ١۵ ، تذکرہ علمائے اہلسنت/ص: ١۴١)

تدریسی خدمات: شاہ ولی الله کے انتقال کے چند سال بعد آپ نے تعلیم سے فراغت حاصل کی اور مدرسہ رحیمیہ میں مسند درس و طریقۂ ولی اللہی کے سجادۂ ارشاد پر رونق افروز ہوئے اور ساٹھ سال تک عظیم تعلیمی اور روحانی بساط کو آراستہ کرتے رہے۔ روزانہ طلوع آفتاب کے بعد آپ کے نواسے شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی ایک رکوع قرآن پاک کی تلاوت کرتے جس کی آپ تفسیر بیان کرتے، درس قرآن کا یہ سلسلہ شاہ ولی الله نے شروع کیا تھا۔ شاہ عبد العزیز کی دینی و علمی شخصیت اس قدر مقبول تھی کہ لوگ دور دراز مقامات سے سفر کرکے علمی استفادہ کے لیے آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے اور اپنی علمی تشنگی بھجا کر واپس جاتے۔ آپ فضل و کمال اور شہرت و مقبولیت کے اس مقام پر فائز تھے کہ لوگ آپ سے شرف انتساب حاصل کرنے، بلکہ آپ کے تلامذہ سے ادنیٰ سی نسبت پر بھی فخر کیا کرتے تھے۔

تلامذہ: آپ نے ساٹھ سال تک صحاح ستہ اور دوسری کتب احادیث کا درس دیا اور طلبہ میں فہم حدیث کا صحیح ذوق، طبقات رجال کی معرفت اور صحیح و غریب، قوی و ضعیف حدیثوں کی پرکھ کا شعور پیدا کیا اور ایسے کامل محدث پیدا کیے جنہوں نے صرف ہندوستان کے طول و عرض ہی میں نہیں بلکہ بیرون ہند میں بھی اپنا حلقۂ درس قائم کیا اور اپنی اپنی جگہ ایک دبستان علم کی بنا ڈالی اور بے شمار كاملین فن علما پیدا کیے۔ علامہ شاہ عبد العزیز کے چند اہم تلامذہ کے نام درج ذیل ہیں:

● مولانا شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی، ● شاہ غلام علی مجددی دہلوی، ● سید شاہ آل رسول مارہروی، ● علامہ فضل حق خیرآبادی، ● مرزا حسن علی صغیر محدث لکھنوی، ● مولانا حسین احمد محدث ملیح آبادی، ● مفتی صدر الدین آزردہ دہلوی، ● مولانا حیدر علی ٹونکی، ● مولانا سید قطب الہدیٰ رائے بریلوی، ● مولانا امام الدین دہلوی، ● مولانا حیدر علی فیض آبادی، ● مولانا شاہ یعقوب دہلوی، ● مولانا شاہ فضل رحمن گنج مرادآبادی، حافظ غلام علی چریاکوٹی، ● مولانا کرم الله محدث دہلوی۔

تتجدید و اصلاح : تیرہویں ویں صدی ہجری کے پر آشوب دور میں دین و سنت کی دیواریں منہدم ہو رہی تھیں، طرح طرح کے اعتقادی اور عملی فتنے جنم لے رہے تھے، ایسے نازک دور میں شاہ عبد عبدالعزیز محدث دہلوی نے اپنے درس و تدریس، مواعظ اور فتووں کے ذریعے دین حق کی جو نصرت فرمائی اور بڑھتے ہوئے فتنوں کو جس استقلال اور جواں مردی کے ساتھ روکا، لوگوں کی اصلاح ایمان و عمل میں جو سرگرمياں دکھائیں یقیناً وہ آپ کے اہم تجدیدی کارنامے ہیں۔

ملک العلماء علامہ ظفر الدین محدث بہاری رحمه الله (خلیفہ امام احمد رضا محدث بریلوی رحمه الله) تحریر فرماتے ہیں:

حضرت مولانا شاہ عبد العزیز صاحب سنہ ۱۱۵۹ھ تا سنہ ۱۲۳۹ھ میں اس لیے کہ مجدد کی صفات ان میں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے کہ آپ بارہویں صدی کے آخر میں صاحب علم و فضل و زہد و تقویٰ مشہور دیار و اطراف تھے۔ اور تیرہویں صدی کے آغاز میں ان کا طوطی ہندوستان میں بولتا تھا اور ساری عمر دینی خدمت درس و تدریس افتاء و تصنیف وعظ و پند، حمایت دین، نکات مفسدین میں صرف اوقات فرماتے رہے۔ (مجدد اعظم/ص: ۴٢)

خدمت علم حدیث: شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمه نے فارسی زبان میں کتب احادیث کا تعارف اور ان کے مصنفین کے مختصر حالات پر مشتمل کتاب "بستان المحدثین” اور اصول حدیث، داخلی نقد حدیث اور دوسرے اہم حدیثی مسائل پر ایک مفید رسالہ "عجالۂ نافعہ” تصنیف فرمایا۔

تصانیف: آپ کی چند تصانیف کے نام یہ ہیں:

● تفسیر فتح العزیز، ● تحفۂ اثنا عشریہ، ● سر الشہادتین، ● بستان المحدثین، ● عجالۂ نافعہ، ● الاحادیث الموضوعہ، ● حاشیہ القول الجمیل، ● سر الجلیل فی مسئلہ التفضیل، ● وسیلة النجات، ● عزیز الاقتباس فی فضائل اخیار الناس، ● فیض عام، ● اصول مذہب حنفی، ● حاشیہ صدرا، ● حاشیہ میر زاہد رسالہ، ● حاشیہ میر زاہد ملا جلال، ● حاشیہ میر زاہد امور عامہ، ● تحقیق الرویا، ● میزان البلاغہ، ● میزان العقائد، ● حاشیہ علی مقدمة السنیہ، ● فتاویٰ عزیزی، ● ملفوظات عزیزی، ● ایضاح النیرین و ذکر شہادت امام حسین۔

وصال: ٨٠ سال کی عمر میں ٧ شوال المکرم سنہ ١٢٣٩ھ کو علامہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کا وصال ہوا۔ آپ کی تدفین دہلی کے آبائی قبرستان مہديان میں شاہ ولی الله محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے پہلو میں ہوئی۔

(محدثین عظام کی حیات و خدمات/ص: ٦۵۴-٦۵٨ ، مجددین اسلام نمبر /ص: ٣۴۵، ٣۴٦ ، تذکرہ علمائے ہند/ص:٢٦٦ ، تذکرہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی/ص: ١۵-١٩)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے