افسانہ

افسانہ: زندگی کے رنگ

افسانہ نگار: ارشاد انصاری
سعادت گنج، بارہ بنکی یو۔پی۔ انڈیا

آسمان پر کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھی۔موسم کے آثار بتا رہے تھے کہ آج جو بارش ہوگی تو جلدی رکنے والی نہیں ۔مجھے ابھی بوریولی سے چرچ گیٹ ٹرین پکڑنی تھی اور ابھی بس سے بوریولی جانا تھا۔اسی بات کی ٹینشن میں چھوٹا بیٹا جو پیروں سے لپٹ رہا تھا اسے جھڑک دیا ۔بیوی جو بجلی کا بل کی آخری تاریخ بتا رہی تھی۔اس کو دو باتیں سنا دی تھی اور قسمت کو کوستے ہوئے بس اسٹاپ پر پہنچا تھا کہ دیکھا ایک ٢٠ – ٢١ سال کی ایک لڑکی تھی ۔بے حد خوبصورت اور معصوم تھی ۔اس کی آنکھیں نیلی اور گہری تھی لیکن قسمت کی ستم ظریفی ان آنکھوں کے چراغوں میں روشنی نہیں تھی۔میں جو جلد سے جلد گھر پہنچنا چاہتا تھا۔اب بت بنا اس معصوم لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔ حالانکہ میری عادت دوسرں مردوں سے مختلف تھی ۔کیونکہ میں راہ چلتی لڑکیوں کو دیکھنا معیوب سمجھتا تھا۔لیکن اس لڑکی سے نذر ہٹ نہیں رہی تھی اور اس کے لبوں پر پھیلی مسکراہٹ ایسی تھی جیسے اس سے زیادہ خوش نصیب کوئی ہے ہی نہیں۔اس کے اطمینان نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا کہ جس نے زندگی میں کوئی رنگ ہی نہ دیکھا ہو۔ جو کالے رنگ کے علاوہ کسی بھی رنگ سے واقف ہی نہیں ہے ۔جس کی زندگی میں کہیں کوئی روشنی نہیں ہے پھر بھی یہ لڑکی اپنی زندگی اور قسمت سے مطمئن ہے تو ہم کیوں نہیں اور کہتے ہیں نہ آگہی کے لئے ایک لمحہ کافی ہے اور میں جو ہمیشہ زندگی میں آیی چھوٹی چھوٹی سی پریشانیوں میں الجھ جاتا تھا اور ہمیشہ شکوے ہی لب پر رہتے تھے۔تب مجھے احساس ہوا کہ ہم جو ملا نہیں اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے جو پاس ہے اس کا شکر کبھی ادا نہیں کرتے۔اسی لئے ان نعمتوں کی قدر نہ کرکے ان کی کشش سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اور یہ جو زندگی اس میں کئی رنگ ہیں۔اکثر ہم ان حقیقی رنگوں کو نظر انداز کر کے اندیکھے رنگوں کے پیچھے دوڑتے ہیں اور آخرکار سفید رنگ کا کفن اور کالے رنگ کی مٹی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے