متفرقات

سنی علما سدھارتھ نگر بورڈ کی ایک کامیاب میٹنگ کا پس منظر اور خلاصہ

نوگڑھ/سدھارتھ نگر: 6اپریل، ہماری آواز(پریس ریلیز)

آج بروز منگل بتاریخ 6/ اپریل کو ملی ، دینی اور سماجی تقاضوں کو محسوس کرتے ہوئے صاحبزادہ انجم العلماء پیر طریقت حضرت مولانا محمد شمیم اشرف الجیلانی سجادہ نشین خانقاہ عثمانیہ بگولہواشہرت گڑھ ضلع سدھارتھ نگر یوپی کی سرپرستی ، محقق عصر حضرت علامہ مفتی عبدالحکیم صاحب قبلہ نوری بھونیا پوری کی صدارت میں ، جامعہ اشرفیہ ضیاء الاسلام بلسڑ میں ، جماعت علما اہل سنت کی ایک میٹنگ رکھی گئی ۔

جس میں درج ذیل موضوعات پر مبصرین اور مفکرین نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار فرمایا ۔
( 1)ملعون وسیم رضوی کا قرآن عظیم کے بارے میں گستاخانہ کردار ،
(2)اور نرسنہا نند سرسوتی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں حالیہ گستاخی پر تبصرے ، اس قسم کی حرکتوں کا موجودہ تکنیکی پلیٹ فارم کی رو سے ، سد باب کیسے کیا جائے؟

(3)مساجد میں آذان مائک سے دینے پر حکومت کی طرف سے روک اور عائد پابندی کے خلاف ہمارا اقدام عمل کیا ؟ اور کیسا ہونا چاہیے؟

(4) مسلم بچیوں میں ارتداد پیدا ہونے کی اصل سبب کیا ہے؟

(5)شادیوں میں قائم غیر اسلامی رسم و رواج کا خاتمہ کیسے ، اور کیونکر ممکن ہے؟

(6)سماج اور منتظمین مدارس کے تئیں سنی علما کے پریشانیوں کے ازالہ کی کب اور کیا صورتیں پیدا کرنا ضروری ہیں؟

مندرجہ بالا مسائل پر ضلع کے گوشے گوشے سے تشریف لائے ہوئے ارباب صحافت دانشواران علماء مفکرین نے اپنے اپنے تئیں خیالات کا اظہار فرمایا ۔
جس میں پہلے دو مندرجہ موضوعات پر مبصرین و مفکرین کی باتوں کا قریب تر قریب ماخذ یہی رہا کہ وسیم رضوی کو جہاں پھانسی دی جائے وہیں پر امت مسلمہ کے ہر فرد پر یہ ضروری ہے کہ قرآن مجید اور احکام شرع اور دینی اقوال و فرمودات کو ایک منظم طریقے سے تکنیکی پلیٹ فارم پر مختلف زبانوں میں شائع کیا جائے ۔ اور علمائے کرام کی ایک خاصی جماعت کو ذرائع ابلاغ و ترسیل یعنی گوگل ، فیسبک ، ٹیوٹر ، واٹسپ ، میسنجر وغیرھم کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ وہ اپنی ساری ایکٹیویٹی اسلام مخالف عناصر کے اعتراضات کا جواب دینے اور فسطائی طاقتوں کو لا زوال کرنے کے لیے خرچ کریں ۔
اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے لیے فنڈنگ پاس کرکے اسلامک ترجمان پر فکر آمیز پروگرام کا منعقد کرانا ، جس سے جہاں ہمارے پڑھنے والے بچوں کی فکروں میں ارتداد نہیں پنپے گا وہیں پر غیروں کی ایک لابی جماعت ہماری فکروں کو پڑھ کر متاثر ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔
جس کو نا کرنے کی کمی ، آج پوری قوم بھگت رہی ہے ۔
آج آپ اندازہ لگائیں! مدارس اور اہل مدارس علما کرام کے اصل ہدف کے متعلق کہ، جہاں میں تعلیم قرآن عام ہوجائے ۔ اس کی حفاظت کے لیے مضبوط لائحہ عمل کے ساتھ کمر بستہ ، جانباز قائدین پیدا کیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
لیکن گورنمنٹ مدارس اور گورنمنٹ اساتذہ الا ماشاء اس زاویے پر کوئی کھرا اتر رہا ہو ورنہ سارے کے ساروں کو اپنی نان شبانہ کی فکر ستا رہی ہے۔

افسوس؛ عمارتیں ہماری تھیں ، منصوبے ہمارے تھے ، دین ہمارا تھا اور ان قائم مدارس کی بنیادوں میں ہمارے باب داداؤں کے لہو میں نعرہ تکبیر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پرچم اور ناموس کی حفاظت کی فکر قائم تھی۔
لیکن افسوس؛ آج ہم ، حکومت کے چند پیسوں اور ٹکوں پر اس کے قصیدہ خواں بن بیٹھے ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت پر پہرہ دینے کے بجائے گاندھی کا جنم ، 26/ جنوری ، شہدا کی برسی ، یوم نظافت اور حکومتی رول ریگولیش کے قائد بن بیٹھے۔
علامہ اقبال علیہ رحمہ فرماتے ہیں کہ

خودی سے اس طلسم رنگ و بو کو توڑ سکتے ہیں
یہی توحید تھی جس کو نہ تو سمجھا نہ میں سمجھا ۔

(میٹینگ میں مقررين کی تقریروں کا خلاصہ)

انہی سارے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس کے اسباب و حل پر غور و خوض کیا گیا جس میں جامعہ کے سارے اسٹاف اور بورڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا عبد اللہ عارف صدیقی صاحب قبلہ ، کنویز حضرت مولانا صاحب علی چترویدی بندیشر پور ، سیاح ایران حضرت مولانا قیصر رضا صاحب قبلہ ، حضرت مولانا صدام حسین برکاتی مصباحی صاحب سابق امام ڈربن ، ساوتھ افریقہ ، حضرت مولانا عابد رضا ازہری ، صاحب قبلہ حضرت محمد داؤد علیمی صاحب قبلہ ، حضرت مولانا بدرالدين احمد قادری مصباحی ، حضرت مولانا جہانگیر نعیمی سرسیا ، حضرت مولانا احمد حسین علیمی صاحب قبلہ، قاری عبد الرشید صاحب قبلہ، اور حافظ رمضان علی صاحب قبلہ و مجاھد دوراں حضرت علامہ ذاکر حسین چودھری بانی فاطمۃ الزھرا بان گنگا بیراج شہرت گڑھ اور حضرت علامہ الحاج برکت علی اشرفی بانی وسربراہ اعلی جامعہ اشرفیہ ضیاء الاسلام بلسڑ سمیت علاقے کے کثیر التعداد علما کرام نے شرکت کیں ۔
بالآخر یہ میٹنگ صلاة و سلام حضرت مولانا سید سہیل احمد صاحب قبلہ اشرف الجیلانی ، کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔

رپورٹ: شاہ خالد مصباحی، سدھارتھ نگر
فون نمبر : 9554633547

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے