مذہبی مضامین

دہلی پریس کلب آف انڈیا

ازقلم: مجیب الرحمٰن رہبر، رام پور

حال ہی میں خود کو ہندو مذہب کا پیشوا کہلانے والا،یتی نرسنگھا نند سرسوتی کی زیرقیادت” دہلی پریس کلب آف انڈیا” میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی,جس میں یتی نر سنگھا نند سرسوتی کے علاوہ "اکھل بھارت ہندو مہا سبھا "کے ادھیکش, ہندو فورس, کے ادھیکش, اور ریٹائرڈ کرنل تیاگی، نیز کارگل جنگ میں موجود رہے "بابا پروندر رارے, خصوصی اعتبار سے مدعو تھے،اور ساتھ ہی کئی میڈیا چینل والے بھی موجود تھے ,
پریس کانفرنس میں موجود ہر ایک نے اپنے اپنے وچار رکھے اور میڈیاوالوں کے کئی سولات کے جوابات بھی دیے,
میٹنگ کی شروعات نرسنگھا نند نے کی اور مائیک سنبھالتے ہی اسلام کے خلاف توہین آمیز الفاظ کہے اس کے بعد کرنل تیاگی نے اپنی بات رکھی اور جہاد کی آڑ لے کر اسلام اور مسلمانوں کو خوب ٹارگٹ کیا مسلمانوں کو جہادی،قاتل ، لٹیرا اور اس کے علاوہ
(کچھ اسی طرح کے الفاظ یتی نر سنگھا نند سرسوتی نے پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں کہے ہیں)بھی بہت ساری گالیاں دیں ؛ اور ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا کہ 15 دسمبر سے 19 دسمبر تک ہریدوار میں "وشو دھرم سنسد”منعقد ہوگی جس میں پوری دنیا سے غیرمسلم دھرم گروؤں اور دانشوروں کو جمع کیا جائے گا , اس کے بعد ایک دوسرے شخص نے مائک سنبھالا اور فورا مسلمانوں کو دل بھر کر کوسا ،اور صرف کوسا ہی نہیں بلکہ کھلے عام مسلمانوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار ہماری تلوار کے سامنے تو آؤ، اور میں سرکار سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ وہ ہمیں جنگل کا شیر نہ بنائے , اس شخص کے فورا بعد ہی اکھل بھارت ہندو مہا سبھا کے ادھیکش نے مائک سنبھالا اور جے شری رام کے نعرے کی جگہ "جے ہندو راشٹر "کا نعرہ لگایا اس کے بعد اپنی پوری تقریر میں مسلمانوں کو جہاد کی آڑ لے کر دل کھول کر کوسا اور بد نام کیا،اس کے بعد مائک دیپک سنگھ (ہندو فورس) نے سنبھالا اور پہلے والوں کی پیروی کرتے ہوئے اسلام کے خلاف غیر قانونی باتیں کہی اس کے بعد "بابا رارے "نے بھی اسلام اور مسلمانوں کو جم کر کوسا ,
ان کی گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ لبنان ، عراق ، شام میں جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار صرف مسلمان ہیں؛ لہذا ہم ہندوستان میں ایسا نہیں ہونے دیں گے,,

ان سب کے بعد کانفرنس کے اہم اور خاص رکن "یتی نرسنگھا نند سرسوتی "نے اپنی بات رکھی اور اس نے صرف اسلام اور مسلمانوں کو ہی گالیاں نہیں دی بلکہ ساری کائنات کی انسانیت کے مرکز عقیدت، مسلمانوں کی جان سے زیادہ پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ارفع و اعلی میں ایسی شدید تکلیف دہ گستاخیاں کیں کہ جن کو لکھتے ہوئے دل کانپتا ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان الفاظ کو ایک مسلمان برداشت ہی نہیں کر سکتا ,,
کانفرنس کی یہ وہ چند اہم باتیں ہیں جن سے پوری پریس کانفرنس کا مقصد سمجھ میں آ جاتا ہے

پھر بھی میں اس کی مزید وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں !
پریس کانفرنس میں موجود تمام مقررین نے ایک خاص مذہب ، مذہب اسلام کو بالکل کھلے عام ٹارگیٹ کیا جس کی اجازت ہمارے ملک کا قانون قطعی طور پر نہیں دیتا ہے ، نیز بار بار ایک ہی بات دہرائی گئی کہ وشو (دنیا)کو اسلامی جہاد سے بچانا ہے, یہ مسلمان قاتل ہیں، بلاتکاری ہیں، ان سے اس ملک کو بچانا ہے اور اس ملک کو ہندو راشٹر بنانا ہے ؛ ساتھ ہی غیر مسلموں کے دلوں میں یہ ڈر بٹھایا گیا کہ مسلمان ان سب کو قتل کردیں گے ان کی بیٹیوں کا ریپ کریں گے , وغیرہ وغیرہ,,,
اس لئے ہم 15 دسمبر سے 19 دسمبر تک ہریدوار میں وشو دھرم سنسد کا انعقاد کریں گے جس میں پوری دنیا کے دھرم گرووں اور دانشوران کو بلایا جائے گا اور ساری انسانیت کو اسلامک جہاد سے بچانے کی کوشش کی جائے گی,,,,,

اس وضاحت کے بعد👇👇👇👇
اب میرا سوال اس ملک کی عدلیہ سے یہ ہے کہ دہلی "پریس کلب آف انڈیا” میں ایسے فسادی شخص کو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟ کیوں ایک خاص مذہب کے ماننے والوں کو کھلے عام قتل کی دھمکی دی گئی ؟ کیوں اس جمہوری ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی بات کہی گئی؟کیا یہ قانونی جرم نہیں ہے؟کیا اگر کوئی مسلمان اس ملک کو اسلامک راشٹر بنانے کی بات کرے گا تب اس کو بھی ایسے ہی ہلکے میں لیا جائے گا؟ ہمیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر اس طرح کی گفتگو کسی مسلمان نے کی ہوتی تو اب تک پورے ملک میں ایک طوفان آچکا ہوتا , شوشل میڈیا سے لے کر پرنٹ میڈیا تک سب آتنکواد کے خلاف آواز بلند کررہے ہوتے,تو کیا اب پریس کانفرنس میں مسلمانوں کو کھلے عام قتل کی دھمکی دینے والوں پر بھی کوئی کاروائی ہوگی یا نہیں ؟
یا انہیں ایسے ہی کھلے عام چھوڑ دیا جائے گا
بغیر ثبوت کے پوری قوم کو لٹیرا ، ڈکیت، اور قاتل و ریپسٹ کہنے کی وجہ سے پریس کانفرنس میں موجود تمام مقررین کے خلاف قانونی ایکشن لیا جائے گا یا نہیں ؟ میں بحیثیت ایک بھارتی مسلم ہونے کےاپنے ملک کے قانون سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ پریس کانفرنس میں موجود تمام لوگوں پر سخت کارروائی کی جائے اور "یتی نر سنگھا نند سرسوتی”اور ان جیسے نفرت کے سوداگروں کو فورا گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے پھینکا جائے تاکہ ملک کا امن و امان برقرار رہے ,,
نیز 15 دسمبر سے 19 دسمبر تک منعقد ہونے والی اس” وشو دھرم سنسد "کو منعقد کرنے کی اجازت کسی حال میں بھی نہ دی جائے کیونکہ ان تمام لوگوں کے ارادوں سے صاف ظاہر ہے کہ یہ ملک میں فساد اور دنگے بھڑکانا چاہتے ہیں اور” وشو دھرم سنسد "اسی لئے منعقد کی جارہی ہے
لہذا ایسے کسی بھی پروگرام یا سبھا کی کسی بھی طور پر قانونی اجازت نہیں دی جانی چاہیے,,,,,

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے