علما و مشائخ

حیاتِ خلیل العلماء قدس سرہ کے انمول گوشے

تحریر: نازش مدنی مرادآبادی
خادم التدریس جامعۃ المدینہ آن لائن باسنی ناگور (راجستھان)
+918320346510

یوں تو دیار مرشد کی ہر شخصیت یقیناََ ہمارے لیے قابل احترام اور لائق صدتحسین و تبریک ہے مگر یادگار اسلاف سید المدرسین استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا خلیل مدنی قدس سرہ ایسی نابغہ روزگار اور فقید المثال شخصیت ہے جس کے ہزاروں فیض یافتگان نا صرف پاکستان بلکہ ہند ونیپال اور بنگلہ دیش میں دین متین کی خدمات کے سلسلے میں مختلف شعبہ جات میں مصروف عمل ہیں آپ علیہ الرحمہ کے اگر تمام فضائل و محاسن کا احاطہ کیا جائے تو باضابطہ مستقل ایک کتاب معرض وجود میں آ سکتی ہے مگر ذیل میں آپ علیہ الرحمہ کی حیات مبارکہ کے ان چند مخصوص گوشوں پر کلام کیا جاتا ہے جو انتہائی اہم ہیں نیز یہ وہ روایات ہیں جن کو بندہ ناچیز نے یا تو بنفس نفیس ملاحظہ کیا یا پھر دیگر احباب نے بندہ ناچیز کو بیان کیا

میدان تدریس: آپ کا زمانہ تدریس 20 سالوں سے زائد عرصے کو محیط ہے اس درمیان آپ نے لاہور پاکستان کے مختلف جامعات المدینہ میں تدریس ونظامت کے فرائض انجام دیئے پھر اسکے بعد 4 سے 5 سال کا عرصہ ملک نیپال کے شہر نیپال گنج میں جامعۃ المدینہ کےشیخ الحدیث کے منصبِ عظیمہ پر قائم رہتے ہوئے تدریسی خدمات انجام دیے اگر یوں کہوں تو مبالغہ نہ ہوگا کہ جامعۃ المدینہ نیپال کو اوج ثریا پر پہنچانے میں قبلہ استاد گرامی کا ایک خاص کردار رہا ہے قدیم فارغین بتاتے ہیں کہ جس وقت آپ کی جامعۃ المدینہ نیپال گنج آمد ہوئی تو اس وقت نہ کوئی معقول رہائش کا اہتمام تھا اور نہ ہی کوئی خاطر خواہ کھانے کا نظم وضبط مگر قربان جاؤں اس مرد مجاہد پر کہ کسی قسم کی شکوہ و شکایت کے بغیر ایسے خستہ حالات کے باوجود طلبہ کی شخصیت کو نکھارنے کی تگ ودو میں لگا رہا
آپ کا انداز تدریس انتہائی سلیس اور عام فہم ہوا کرتا تھا کہ کمزور سے کمزور طالب علم بھی بات کو بخوبی سمجھ جاتا ۔ آپ کے درجہ میں کوئی طالب علم بھی بوریت محسوس نہیں کرتا سبق پڑھنے سے پہلے طلبہ سے عبارت خوانی آپ لازمی کراتے پھر اس پر کچھ صرفی نحوی تحقیق لازمی کراتے اور بخاری شریف پڑھانے سے پہلے تو یہ خاص عمل روزانہ لازمی کرتے کہ قصیدہ بردہ شریف سے درس کا آغاز کراتے بارہا دورہ حدیث کے درجہ کے سامنے سے گزرتے ہوئے بندہ ناچیز نے خود دیکھا کہ قبلہ درس بخاری سے قبل انکھیں بند کیے قصیدہ بردہ سماعت فرما رہے ہیں

نمازوں سے محبت: نماز جو کہ دین اسلام کا اہم ترین فریضہ ہے اور ہر مسلمان عاقل و بالغ پر فرض ہے اور ایک کامل مسلمان ہوتا ہی وہ ہے جو فرائض دینیہ کو بروقت ادا کرے اس تناظر میں جب ہم سیدی استاد گرامی علیہ الرحمہ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ علیہ الرحمہ نمازباجماعت کا چاہے سفر ہو یا حضر ہر حال میں بہت اہتمام فرماتے اور طلباء کو بھی اس کی تاکید فرماتے
جامعۃ المدینہ نیپال میں میں نے بارہا دیکھا کہ جیسے ہی فیضان مدینہ میں اذان شروع ہوتی آپ فوراً اپنے حجرے سے نکلتے اور طلباء کو نماز کی دعوت دیتے ہوئے فیضان مدینہ کا رخ فرماتے
ملک مرشد کے حضرت کے ایک شاگرد نے بندہ ناچیز کو یہ واقعہ بتایا کہ جس زمانہ میں آپ علیہ الرحمہ جامعۃ المدینہ کاہنہ نو لاہور میں نظامت کے فرائض انجام دے رہے تھے آپ کا معمول یہ ہوتا کہ جو بھی طالب علم نماز باجماعت ترک کر دیتا آپ علیہ الرحمہ اسکو بعد نماز پچھلی صف میں ہاتھ اونچا کروا کے کھڑا کردیتے ۔ اچانک ایک دن ایسا ہواکہ استاد گرامی کی خود کسی سبب سے جماعت چھوٹ گئی تو آپ علیہ الرحمہ نے بعد نماز اسی طریقہِ سزا کو اختیار کیا جو طلبہ کے لیے منتخب کیا ہوا تھا یعنی جس طرح بچوں کو ہاتھ کھڑے کروا کر سزا دیتے تھے ویسے ہی خود اوپر ہاتھ کھڑے کر کے کھڑے ہو گیے تمام طلبہ پریشان ہیں مگر استاد صاحب فرمانے لگے ترغیب کے لیے بیٹا سراپا ترغیب بن نا پڑتا ہے اس لیے ترک جماعت پر جو سزا آپ کے لیے ہے وہی میری لیے بھی ہے

عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم: عشق رسالت تو آپ علیہ الرحمہ کی رگ و پے میں رچا بسا تھا اور کیوں نا ہو کہ یہی تو انسان کی اصل پونچی ہے جیسا کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
جان ہے عشق مصطفٰی روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزہ ناز دوا اٹھائے کیوں

آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے عشق رسول کی چھلک ان چند اقتباسات سے ملاحظہ کی جا سکتی ہے
جیسا اوپر گزرا کہ آپ علیہ الرحمہ روزانہ بلاناغہ درس بخاری سے قبل قصیدہ بردہ شریف کے چند اشعار لازمی سنتے تھے پھر درس کا آغاز کرتے یہ آپ کے عشق رسول کا منہ بولتا ثبوت ہے
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ربیع النور شریف کا مبارک مہینہ رواں دواں تھا روزانہ بعد نماز مغرب فیضان مدینہ سے جامعۃ المدینہ کو تمام طلبہ مرحبا یا مصطفٰی کے ساتھ جلوس کی شکل میں آتے ایک بار اچانک کیا ہوا کہ استاد گرامی بھی جلوس میں شریک ہو گئے جیسے ہی فیضان مدینہ سے جلوس جامعۃ المدینہ کے گراونڈ میں داخل ہوا اور نعرہ بلند ہوئے۔ دیکھا گیا کہ استاد گرامی پر اچانک نعروں کی گونج میں وجد کی کیفیت طاری ہو گئی سنبھالے سے نہیں سنبھل رہے کافی دیر کے بعد آپ علیہ الرحمہ پر سکون ہوئے یعنی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد اس قدر مگن ہوئے کہ اپنی ہی خبر نہیں اس واقعہ سے سیدی اعلیٰ حضرت کا وہ شعر یاد آگیا جس میں فرماتے ہیں
ایسا گما دے انکی ولا میں خدا ہمیں
ڈھونڈا کریں پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو

خوف خدا: خشیت الٰہی یہ علماء ربانیین کا حصہ ہے جیسا کہ خود اللہ جل شانہ فرماتا ہے
إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ [فاطر:28] یعنی اللہ کے بندوں میں علماء ہی اللہ سے ڈرتے ہیں
خشیت الہی کے حوالہ سے جب ہم استاد گرامی کی سیرت مبارکہ کے پہلوؤں پر نظر کرتے ہیں تو آپ علیہ الرحمہ خشیت الہی سے آپ کا دل چور چور تھا جس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے
میرے ہم سبق مولانا ظفر مدنی ناظم جامعۃ المدینہ گورکھپور کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں رات کو تہجد کے لیے اٹھا وضو کرکے جب فیضان مدینہ میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک کونے سے گریہ وزاری کی آواز آ رہی ہیں اور کوئی اللہ رب العزت کی بارگاہ سے لو لگائے گڑگڑا رہا ہے جب فجر کا وقت ہوا موذن نے لائٹ آن کی تو دیکھا استاد محترم ہیں اور آپ کی داڑھی آنسوؤں سے تربتر ہے اور ایسا لگ رہا جیسا کہ ابھی تازہ وضو کیا ہو یعنی آپ علیہ الرحمہ رات کے آخری پہر میں اس قدر گریہ وزاری فرماتے کہ آپ کی داڑھی مبارک بھی تر ہو جاتی۔
خوف خدا کی ایک نظیر اور ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔
مولانا عمران مدنی (پٹنہ بہار) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ استاد گرامی درس گاہ میں پڑھانے کے بعد فرمانے لگے کہ بیٹا ہم آپ کو پڑھاتے ہیں مگر ہمیں اس پر دنیا میں کسی بدلہ کی امید نہیں البتہ اتنی امید ضرور ہے کہ بروز قیامت آپ تمام نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں میری شفاعت ضرور کروا دینا یہ فرماکر آپ علیہ الرحمہ زارو قطار رونے لگے پھر اس کے بعد آپ درجہ کے باہر تشریف لے گیے
اسی طرح جب بھی آپ نیپال سے اپنے وطن واپس ہوتے تو ہر درجہ میں جا جاکر تمام طلبہ سے معافی مانگتے اور اگر خاص کسی طالب علم کو سزا دی ہوئی ہوتی تو اس سے خصوصی طور پر معافی مانگتے
یعنی آپ علیہ الرحمہ حقوق العباد کی تلافی کی سلسلہ میں نہایت ہی حساس تھے

عاجزی و سادگی: عجز و انکساری کسی بھی شخصیت کے مقبول و محبوب الانام ہونے میں ایک ایسا خاص وصف ہے جو اسکو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور علم وہی نفع مند ہے جو بندہ کے اندر کے اندر عجز و انکساری پیدا کرے
بات ہو رہی تھی علامہ خلیل مدنی علیہ الرحمہ کی اوصاف و کمالات کی۔ آپ کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ باہر سے آنے والے لوگ آپ سے ہی پوچھ لیا کرتے تھے کہ شیخ الحدیث علامہ خلیل مدنی کون ہیں ان سے ملاقات کرنی؟ پھر بعد میں پتا چلتا تھا کہ جو سائل کا مخاطب ہے وہی علامہ خلیل مدنی ہیں آپ کا قیام چونکہ نیپال میں فیملی کے ساتھ تھا اس لیے بارہا دیکھا گیا آپ گھر کا سامان خود بازار جاکر خریدتے حالانکہ آپ چاہتے تو آپ کے تلامذہ سامان گھر پہنچا سکتے تھے مگر آپ ہر گز یہ پسند نہیں کرتے اور اپنا کام خود ہی کرتے۔ کئی مرتبہ تو یہ بھی دیکھا گیا کہ جب طلبہ تعلیمی حلقوں میں تکرار کر رہے ہوتے تو آپ علیہ الرحمہ طلبہ کے پاس نیچے ہی زمین پر ہی بیٹھ جایا کرتے اور طلبہ کا تعلیمی جائزہ لیتے۔
مولانا شفیق مدنی حضرت کی انکساری بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :
استادِ محترم علامہ خلیل مدنی علیہ رحمۃ اللہ القوی عاجزی و انکساری فرمانے والے تھے۔مین نے انہیں دیکھا کہ جب کلاس کے علاوہ ہمارے روم میں تشریف لاتے تو زمین پر ہی تشریف فرما ہو جاتے اور ہماری تربیت فرماتے۔
اسی طرح وضو کے لیے طلبہ کے وضو خانہ پر ہی انتظار میں کھڑے ہو جاتے یعنی آپ کی طبیعت میں یہ چیز نہیں تھی کہ کوئی مجھے پروٹوکول دے بلکہ آپ کسی بھی قول و فعل سے کسی نے یہ محسوس تک نہ کیا ہوگا

طلبہ کرام پر شفقتیں: جیسا کہ فرمایا گیا کہ استاد ایک روحانی باپ ہوتا ہے اس لیے کہ باپ تو اولاد کی دنیا کوبہتر کرتا ہے مگر استاد وہ عظیم ہستی ہے جو طلبہ کی آخرت کو سنھالتا اور حقیقی معنوں میں اسکو انسان بنا دیتا ہے
جیسا کہ کسی دانا نے کہا
علم وہنر سے پاتی ہے انسانیت عروج
انسان زندہ لاش ہے تعلیم کے بغیر

آپ علیہ الرحمہ کبھی کسی طالب علم کا دل نہیں ٹوڑتے بلکہ جو طلبہ امتحان میں فیل ہو جاتے انہیں دلاسا دلاتے اور مزید ان پر خصوصی توجہ فرماتے ایسے موقعہ پر آپ یہ جملہ ارشاد فرماتے ناکام ہوئے تو کیا ہوا ناکامی ہی تو کامیابی کا زینہ ہے اگر بندہ ناکام نہ ہوتو کامیاب کیسے ہوگا
اب آئیے سیدی استاد گرامی کی ذرہ نوایوں کو ملاحظہ کرتے
مولانا شاہد خاکی مدنی مکرانوی بیان کرتے ہیں:
ایک مرتبہ استاد گرامی کو وطن واپس جانا تھا ویزا ختم ہو چکا تھا اور آئندہ سال بھی واپس آنے کی امید نہیں تھی جانے سے دو دن قبل استاد گرامی ہمارے درجہ میں تشریف لائے گفتگو کا سلسلہ جاری تھا دریں اثناء ایک طالب علم نے پوچھ لیا کہ حضور آپ جا رہے ہیں ہماری تعلیم کا کیا ہوگا تو اس پر استاد صاحب نے فرمایا بیٹا میں اس پہ کہاں خوش ہوں مجھے تو خود میرے بچوں( آپ لوگوں) کی فکر ہے یہ فرما کر آپ رونے لگے اور روتے روتے اٹھ کر درجہ سے باہر تشریف لے گئے یعنی آپ علیہ الرحمہ طلبہ کی تعلیم کے کس قدر فکر مند تھے کہ آپ رونے لگے ورنہ ہوتا یہ کوئی بھی شخص اگر پردیس میں ہو پھر اسکو اچانک خبر ملے کہ تمہیں گھر جانا ہے تو وہ کتنا خوش ہوتا ہے مگر قربان جاؤں سیدی پر کہ آپ گھر جانے پر خوش نہیں ہوئے بلکہ غمزدہ تھے غمزدہ بھی اتنے کہ بیان کرتے ہوئے آنسوں کا سیلاب امڑ آیا
اسی طرح ایک واقعہ
مولانا عمران مدنی (پٹنہ بہار ) بیان کرتے ہیں:
ایک بار میں نے ہفتہ وار اجتماع میں استاد کے ادب کے عنوان پر بیان کیا اسکے بعد اگلے دن میں راستہ سے گزر رہا تھا تو استاد صاحب نے مجھے پاس بلایا اور فرمانے لگے ماشاء اللہ عمران بیٹا رات بہت اچھا بیان کیا تھپکی دی اور جیب سے پانچ سے روپہ عطا فرمائے
اسی طرح کا ایک واقعہ بندہ ناچیز کے ساتھ ہوا
ہوا کچھ یوں کہ جس سال بندہ ناچیز جامعۃ المدینہ احمد آباد میں درجہ ثالثہ کا طالب علم تھا اس سال جب نیپال میں سالانہ اجتماع تھا میں بھی اجتماع میں شریک ہوا تو استاد محترم سے ملاقات ہوئی کافی گفتگو رہی جب میں واپس ہونے لگا تو استاد صاحب سے مصافحہ کیا اور رونے لگا تو استاد صاحب نے تھپکی دی اور فرمانے لگے بیٹا پڑھو محنت سے پڑھنا پھر جیب سے1000 روپے نیپالی نکال کر مجھے دیے اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔
اسی طرح کی ایک نظیر بیان کرتے ہوئے مولاناشفیق خان عطاری مدنی رقمطراز ہیں:
استادِ محترم علامہ خلیل مدنی علیہ رحمۃ اللہ القوی طلباء پر بڑے مہربان اور شفقت فرمانے والے تھے۔ایک بار میری طبیعت خراب ہو گئی تو مجھے 100 روپے نیپالی عطا فرمائے۔اور فرمایا کہ پھل وغیرہ کھا لینا۔میں نے روپے تو وصول کر لئے۔پھر خیال آیا کہ اگر اس رقم سے پھل نہ کھایا تو حکم کی تعمیل نہیں ہو گی لہذا میں نے عرض کیا کہ حضور مجھے کلی اختیار دے دیجئے۔پس آپ مسکراتے ہوئے اجازت مرحمت فرما دی۔
یہ تو چند واقعات بطور مثال تھے ورنہ اس طرح کے کئی واقعات ہونگے جو دیگر طلبہ کے ساتھ بھی رونما ہوئے ہوں گے

مرشد گرامی اور شہر مرشد سے الفت ومحبت کا انوکھا انداز: آپ علیہ الرحمہ اپنے مرشد گرامی سیدی و مرشدی امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ سے انتہاء درجہ کی محبت فرماتے اور ایک مرید کامل ہوتا ہی وہ ہے جو اپنے مرشد کی ذات میں فنا ہو
اس محبت کی ایک مثال دیتے ہوئے مولانا غلام فاروق مدنی گویا ہیں :
جس وقت میں جامعۃ المدینہ کاہنہ نو لاہور میں درجہ اولی کا طالب علم تھا اس وقت کی بات ہے کہ استاد گرامی جب درجہ میں تشریف لاتے تو ہم سب کو کھڑا کرکے فرماتے کہ دیار مرشد کراچی کی طرف رخ کرکے منقبت پڑھو یعنی اس آپ علیہ الرحمہ کو اپنے مرشد کے دیار سے اس حد تک لگاو تھا کہ منقبت بھی در مرشد کی طرف رخ کرکے سنتے اسی طرح آپ رحمۃ اللہ علیہ مدنی مذاکرہ پر مداومت فرماتے اور دیدار مرشد سے مستفید و مستفیض ہوتے
یہ آپ علیہ الرحمہ کی حیات کے چند گوشے تھے اگر موقعہ ملا تو بعد میں بھی دیگر عناوین پر گفتگو کروں گا دعا ہے اللہ جل شانہ سیدی استاد گرامی کی قبر انور پر رحمت و نور کی بارشیں نازل فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے