مضامین و مقالات

زندگی کا سفر

تحریر: ابوالمتبسِّم ایاز احمد عطاری، پاکستان

بچہ پیدا ہوتا ہے ابتداء ماں کی گود میں پروان چڑھتا ہے آہستہ آہستہ بڑا ہوتا جاتا ہے ، سمجھ بوجھ آتی جاتی ہے ، پھر تعلیم حاصل کرنے کیلئے اسکول جاتا ہے۔

اسی دوران اس کو اپنی جوانی اور خوبصورتی پہ ناز ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ موج مستی کرنا شروع کردیتا ہے۔ پھر شادی کرتا ہے۔ بال بچے پیدا ہوجاتے ہیں۔

پھر کچھ عرصے کے بعد بدصورتی اور خوبصورتی کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ اپنے زمانے کے حسین ترین انسان کے چہرے پر بھی جھریاں نظر آنے لگتی ہے۔

پھر اس کے بعد بڑے عہدے اور چھوٹے عہدے کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ سر کو ریٹائرمنٹ کے بعد دفتر کا چپڑاسی ، چوکیدار بھی سلام نہیں کرتا۔

پھر اس کے بعد عمر میں چھوٹے گھر اور بڑے گھر کا فرق ختم ہوجاتا ہے۔ گھٹنوں کا درد اور کمر کی تکلیف کی وجہ سے صرف بیٹھنے کی جگہ ہی تو چائیے۔

پھر اس کے بعد پیسے کی قدر و قیمت ختم ہوجاتی ہے۔ اگر اکاونٹ میں کروڑوں اور جیب میں لاکھوں روپے بھی ہوں تو کونسا سکھ خرید لو گے؟

پھر اس کے بعد سونا اور جاگنا ایک برابر ہو جاتا ہے۔ جاگ کر بھی کیا تیر مار لو گے ؟

لہذا اے مسلمانو! آج سے ہی اپنی زندگی کے ایک ایک پل کو اللہ کی رضا میں صَرف کرو اور ہر حال میں اللہ پاک کا شکر ادا کرتے رہو ۔

( فَبِأَيّ اٰلَآءِ رَبِِّّكُمَا تُكَذِِّبَان )
ترجمہ: تو اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے