مذہبی مضامین

اسماے اہل بدر کے ورد سے مصیبتیں ختم ہوتی ہیں

تاریخ اسلام گواہ ہے کہ 1400 سو سال کی اسلامی تاریخ میں جب کبھی امت مسلمہ پر مصیبت نازل ہوئی، اہل بدر کے اسماء کا ورد کیا گیا، کیونکہ یہ سب محبوبان بارگاہ الٰہی و بارگاہ رسالت ہیں۔حیرت ہے کہ یہ رواج گذشتہ کچھ عرصہ سے بہت حد تک کم ہوگیا ہے، اگر کورونا کا خاتمہ مقصود ہے 17 / رمضان المبارک گھر گھر اہل بدر کے اسماء کا ورد کیا جائے جو مجرب بھی ہے۔

اسلام کے غزوات میں سنہ 2 ہجری 17 رمضان المبارک کو ہونے والاغزوۂ بدر سب سے پہلا اور کفر و شرک میں امتیاز پیدا کرنے والا غزوہ ہے،اس لئے کہ اسلام کی عزت و شوکت کی ابتداء اور کفر و شرک کی ذلت و رسوائی کی ابتداء اسی غزوہ سے ہوئی اور اس غزوہ میں شریک ہونے والے صحابہ کرام کی قرآن و حدیث میں بڑی فضیلت آئی ہے،یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک اہل بدر کی فضیلت مسلم ہے،باتفاق جمیع اہل سنت بدری صحابہ کرام تمام صحابہ سے افضل ترین ہیں، چاروں خلفاء راشدین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ؓ،حضرت سیدنا عمر فاروقؓ،حضرت سیدنا عثمان غنیؓ،مولائے کائنات سیدنا علی المرتضیٰؓ بقیہ چھ حضرات عشرہ مبشرہؓ بھی شاملین غزوۂ بدر ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ان کا جو مقام ہے وہ دوسروں کو نصیب نہیں ہوا،اہل بدر کی خاص فضیلت حضرت رفاعہ بن رافع انصاریؓ کے اس بیان سے بھی ظاہر ہے کہ ایک روز حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم دریافت کیا کہ حضورکے پاس بدری صحابہ کا کیا مرتبہ ہے تو جواب میں حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سب مسلمانوں میں افضل ترین ہیں تب حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ جو فرشتے غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے وہ تمام فرشتوں میں معزز ترین شمار کئے جاتے ہیں۔ان کے فضائل میں سے ان کے اسماء مبارکہ کا ورد حل مہمات اور مشکلات کے دفیعہ میں مجرب ہے۔علماء کرام نے لکھا ہے کہ قرنِ اول سے آج تک اس قسم کی بے شمار کرامات کا تجربہ اصحاب کرام بدر سے توسل کرنے والوں کو حاصل ہوتا رہا اور ان شاء اللہ قیامت تک ان حضرات کرام کے متوسلین ایسے ہی فیض پاتے رہیں گے۔ اکثر مشائخ طریقت حل مہمات اور دفع مشکلات کے لئے اپنے یہاں کے معمولات کے مطابق اسماء گرامی حضرات اہل بدر کا وظیفہ اجابت دعا کے لئے خاص خاص اوقات میں اہل حاجت کو تعلیم و تلقین فرماتے رہے ہیں۔ان محبوبان بارگاہ الٰہی و بارگاہ رسالت کے توسل سے مریضوں نے دیرینہ اور مہلک امراض سے شفا پائی ہے، مفلس غنی ہوگئے، قیدیوں نے قید سے رہائی پائی، نہایت تیزطوفانوں میں جہاز سلامت بچ گئے،بیروزگاروں کو روزی نصیب ہوئی ہے، الغرض ہر قسم کی جائز مرادیں حاصل ہوتی رہیں ہیں،اہم امور میں بعض بزرگوں نے تجربہ کیا ہے کہ اسماء مکرم اصحاب بدر کا پڑھنا یا لکھ کر پاس رکھنا موجب برکات و باعث اجابت دعا ثابت ہو اہے۔مولانا ممشاد پاشاہ نے علماء کرام،مشائخ عظام، ائمہ و خطیب حضرات کے ساتھ مساجد کے انتظامی کمیٹیوں سے بھی خواہش کی ہے کہ 17 رمضان المبارک بروز جمعہ قبل یا بعد نماز جمعہ اسماء اہل بدر کے ورد کا اہتمام کریں۔

از افادات: (مولانا) سید محمد علی قادری الہاشمی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے