علما و مشائخ

حضور صدر الشریعہ کا کمال تقوی

ازقلم: محمد سیف علی فیضی
خادم مدرسہ اہلسنت مدینۃ الرسول احمد نگر گورکھپور یوپی

یہ حقیقت ہے کہ خوش عقیدہ اور باعمل علماء ہی صحیح معنوں میں وارثین انبیاء ہیں۔ انہیں علمائے حق کے سروں پر وراثت نبوت کا زرین تاج رکھا گیا ہے،
عالم وہ ہے جو عملی شریعت ہو، جس کی بلندی ادائے محبوب پروردگار کی ترجمانی ہوں عالم ہوتا ہے جو صرف قول کا ظاہری لبادہ پوش نہ ہو بلکہ عمل صالح اور اتباع شریعت کا حسین لباس زیب تن کئے ہو۔ ظاہر کے ساتھ ساتھ جس کا باطن بھی خشیت ربانی کی دولت سے مالا مال ہو۔

تمہیدات مذکورہ کے آئینہ میں ہم حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ فقیہ اعظم ہند علامہ الحاج الشاہ مفتی محمد امجد علی اعظمی قادری علیہ الرحمہ الباری ستودہ صفات کو دیکھتے ہیں
تو آپ کا تقوی آفتاب نیم روز کی طرح ہم پر روشن ہو جاتا ہے ۔ آپ اپنی دیگر صفات کے ساتھ اس وصف میں بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔آپ کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرنے والوں پر یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہےکہ اتباع سنت صدر الشریعہ کی کتاب زندگی کاروشن باب اور تقویٰ و طہارت ان کے صاف و شفاف اوراق ہیں۔
آپ نے تاحیات قوم و ملت کو سنت اور اتباع سنت کا درس دیا اور عملی طور پر اپنی زندگی میں اس پرعمل کرکے بھی دکھایا۔
چنانچہ حضور حافظ ملت علیہ الرحمۃ کا بیان ہے
میں دس سال حضرت کی کفش برداری میں رہا پوری مدت میں آپ کو متبع سنت پایا
حضور صدر الشریعہ زہد و تقوی کے اس مرتبہ بلند پر فائز تھے کی سخت سے سخت مشکل اور سدید بیماری میں بھی آپ کا قدم حدشرع سےباہر نہ جاتا نماز سے غیر معمولی شغف تھا اگر کبھی قضا ہو جاتی تو رنج و الم میں ڈوب کر اظہار افسوس کرتے ۔
حضور شارح بخاری رقمطراز ہیں
سفر ہو یاحضرکبھی نماز قضا نہ فرماتے۔ شدید سے شدید بیماری میں بھی نماز ادا فرماتے۔ اجمیرشریف میں ایک بار شدید بخار میں مبتلا ہوگئےیہاں تک کہ غشی طاری ہوگئی دوپہر سے پہلے غشی طاری ہوئی اور عصر کے وقت تک رہی ہیں حافظ ملت خدمت کے لیے حاضر تھے حضور صدر الشریعہ کو جب ہوش آیا تو سب سے پہلے یہ دریافت فرمایا کیا وقت ہے؟ ظہر کا وقت ہے یا نہیں ؟ حافظ ملت نے عرض کیا اتنے بج گئے ہیں اب ظہر کا وقت نہیں ہے یہ سنتے ہی کتنی اذیت پہنچی کی آنکھ سے آنسو جاری ہوگئے۔
حافظ ملت نےدریافت کیا کہ حضور کو کہیں درد ہے کہیں تکلیف ہے حضور صدر الشریعہ نے فرمایا تکلیف ہے ظہر کی نماز قضا ہوگی حافظ ملت نے عرض کیا حضور بے ہوش تھے ۔
بے ہوشی کے عالم میں نماز قضا ہونے پر کوئی مواخذہ نہیں آپ نے فرمایا
آپ مواخذہ کی بات کررہے ہیں وقت مقررہ پر ایک حاضری سے تو محروم رہا ۔
حضور صدر الشریعہ کا کمال تقوی ہی تھا کہ فرائض و واجبات کے علاوہ سنن و مستحبات اور اسلامی آداب کا خیال بھی حددرجہ ملحوظ خاطر رہا کرتا ۔عام طور سے مشاہدہ ہے کہ لوگ بیماریوں یا سفر میں شرعی آداب کا اس قدر اہتمام نہیں کرپاتے مگر یہاں ایسا نہیں کی شریعت کے آداب کی یہ پابندی صحت وقیام کے ساتھ متعلق ہو بلکہ سفر و حضر تندرستی اور بیماری سبھی حالات میں ایک قدم بھی شریعت کے خلاف نہ اٹھتا۔
رب قدیر کی بارگاہ میں دعا ہے کہ حضور صدر الشریعہ کے فیوض وبرکات سے ہم سب کو ملا مال فرمائیں اور انکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیے۔

ابر رحمت ان کے مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی نازبرداری کرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے