مذہبی مضامین

غیبت، چغلخوری اور بدگوئی

ازقلم: جمال احمد صدیقی اشرفی القادری

ہمارے معاشرے میں غیبت ۔ چغلخوری اور بدگوئی بھی ایک محبوب مشغلہ بن گیا ہے ۔ جہاں دو چار افراد اکٹھا ہوئے کہ بس ایک دوسرے کی برائی شروع ہوگئی اور ذرہ برابر احساس نہیں ہوتا کہ زبان کی اس برق رفتاری اور شعلہ افشانی پر کوئی باز پرس بھی کرنے والا ہے یا نہیں !
غیبت کی مزمت کرتے ہوئے اللّٰہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا ۔
ولایغتب بعضکم بعضا ایحب احدکم ان یاکل لحم اخیہ میتا فکرھتموہ ۔
اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے ۔ تو یہ تمہیں گوارہ نہ ہوگا ۔
اور ارشادِ نبوی ﷺ ہے
عن ابی ھریرة قال قیل یارسول اللّٰہ ماالغیبة قال ذکرک اخاک مایکرہ ارایت ان کان فیہ مااقول قال ان کان فیہ ماتقول فقد اغتبتہ وان لم یکن فیہ ماتقول فقد بھتہ ۔
حضرتِ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ غیبت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا تیرا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہے ۔ اچھا یارسول اللّٰہ ﷺ آپ اس کا حکم فرمائیں کہ اگر وہ باتیں اس کے اندر ہوں جو میں کہہ رہا ہوں ۔ آپ نے فرمایا اگر تم وہی کہہ رہے ہو جو اس کے اندر ہے تب ہی تو تم غیبت کرنے والے ہو اور اگر اس کے اندر نہ ہو تب تو تم بہتان لگانے والے ہو ۔
نیز آپ نے فرمایا =
اپنے آپ کو غیبت سے بچاؤ کیونکہ غیبت زنا سے بدتر ہے ۔ کیونکہ زانی گناہ کےبعد توبہ کرتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ قبول کرلیتا ہے مگر غیبت کا گناہ اس وقت تک معاف نہیں ہوتا جب تک کہ جس کی غیبت کی جائے وہ معاف نہ کردے ۔ آپ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ اپنے آپ کو غیبت سے بچاؤ کیونکہ اس میں تین مصیبتیں ہیں ۔ غیبت کرنے والے کی دعا قبول نہیں ہوتی ۔ اس کی نیکیاں نامقبول ہوتی ہیں ۔ اور اس پر گناہوں کی یورش ہوتی ہے ۔
چغلخور جو ادھر کی بات ادھر اور ادھر کی بات ادھر بیان کرتا ہے نمک مرچ لگاکر اس کی شکایت اس کے اور اس کی اس کے پاس کیا کرتا ہے جس سے آپس میں نااتفاقی ۔ ناچاقی ۔ بدگمانی ۔ تفرقہ ۔ خلفشار ۔ انتشار ۔ اور عداوت ودشمنی پیدا ہوتی ہے ۔ کبھی کبھی چھوٹی چھوٹی بات غم وغصہ کا آتش فشاں پہاڑ بن جاتی ہے جس کی لپیٹ میں آکر نہ جانے کتنے لوگ خاکستر ہوجاتے ہیں ۔ معاشرہ قتل وخونریزی کا اڈہ بن جاتا ہے ۔ ہنستا کھیلتا ماحول کرب والم اور دردوکسک کے ماحول میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ غرضیکہ اس قبیح حرکت سے چشمِ زدن میں معاشرہ کا رنگ بدل جاتا ہے اسی لئے نبی رحمت ﷺ نے ایسے شخص کے لئے بہت سخت وعید سنائی ہے ۔
قال حذیفة سمعت رسول اللہ ﷺ یقول لایدخل الجنة قتان ۔
حضرتِ حذیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی رحمت ﷺ سے سنا کہ چغلخور جنت میں نہ داخل ہوگا ۔
حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن بدترین آدمی دوچہروں والا چغلخور ہوگا جو آپ کے پاس اور چہرہ لیکر آتا ہے ۔ دوسرے کے پاس اور چہرہ لیکر جاتا ہے ۔ اور فرمایا جو دنیا میں چغلخوری کرتا ہے قیامت کے دن اس کے منہ سے آگ کی دو زبانیں نظر آئیں گی ۔
آج کل کچھ لوگ اپنے دشمن کی عداوت میں اتنے اندھے ہوجاتے ہیں کہ اٹھتے بیٹھتے اس کی بدگوئی کرتے پھرتے ہیں ۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ظاہراً دوستی کرتے ہیں اور جب دوسرے لوگوں کے پاس بیٹھتے ہیں تو بدگوئی شروع کردیتے ہیں ۔ یہ بات انسانیت اور شرافت سے گری ہوئی ہے ۔ رسول اللّٰہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ۔
ماکان الفحش فی شیء الا شانہٗ وماکان الحیاء فی شیئ الازانہ ۔
جس چیز میں برائی ہو وہ اسے بری بنادیتی ہے اور جس چیز میں حیاء ہو وہ اس میں زینت بخش دیتی ہے ۔
ان آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ مبارکہ کے پیشِ نظر ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے اندر سے ان نامشروع اور ناپسندیدہ خصلتوں کو دور کریں کیونکہ ان عادات سے جہاں رب تبارک وتعالیٰ کی ناراضی اور رسول گرامی وقار ﷺ کی بیزاری کا طوق گلے میں پڑتا ہے وہیں لوگوں کے درمیان ذلّت ورسوائی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔ لہٰذا ایک پراعتماد اور باوقار زندگی گزارنے کے لئے ان نازیبا حرکتوں سے بچنا لازمی اور ضروری ہے ۔
رب العالمین ہمیں اور آپ سب کو ان بد خصلتوں سے بچنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے ۔ آمین یارب العالمین بحرمت سیدالمرسلین وعلی آلہ وصحبہ واھلبیتہ اجمعین ۔

طالب خیر ۔ جمال احمد صدیقی اشرفی القادری دارالعلوم مخدوم سمنانی شل پھاٹا ممبرا ۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے