غزل

غزل: پیار کا حق ادا کیا کس نے

نتیجہ فکر: سراج احمد آرزو حبیبی

پیار کا حق ادا کیا کس نے
زخم دل کر دیا ہرا کس نے

بس اسی فکر میں میں رہتا ہوں
مجھکو آخر دیا دغا کس نے

عشق دل میں ابھی بھی زندہ ہے
یہ خبر عام کر دیا کس نے

ڈال کرپھوٹ دو دلوں کے بیچ
راستے کر دیئے جدا کس نے

میں تو بھٹکا ہوا مسافر تھا
مجھکو اپنا بنا لیا کس نے۔

مجھ سے لاچار کو یہاں صاحب
دے دیا بڑھ کے حوصلہ کس نے

اے حبیبی مجھے بھی کر ڈالا
عشق میں اپنے مبتلا کس نے

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

3 تبصرے

  1. الحَمْد للهْ‎ کلام عطا ہوا
    جاؤں طیبہ نگر نعت پڑھتے ہوئے
    شہرِ خیرالبشر نعت پڑھتے ہوئے
    ان کی یادوں سے دل شاد کرتا رہوں
    گزرے شام و سحر نعت پڑھتے ہوئے
    نعت سنتا رہوں، نعت کہتا رہوں
    طے کروں ہر سفر نعت پڑھتے ہوئے
    ان کی محفل سجائیں گے میلاد پر
    سارا دن ، رات بھر نعت پڑھتے ہوئے
    سارے خوشیاں مناتے ہیں میلاد کی
    وجد میں جھوم کر نعت پڑھتے ہوئے
    پل کا کیا خوف ہو مجھ کو محشر کے دن
    جائوں گا میں گزر نعت پڑھتے ہوئے
    ہے تمنا مری یا نبیؐ، کاش ہو
    عمر ساری بسر نعت پڑھتے ہوئے
    قبر میں ہوگا لائقؔ عجب ہی سماں
    موت آئے اگر نعت پڑھتے ہوئے
    از: سید خورشيد نواز لائق بخاری

  2. نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
    جاؤں طیبہ نگر نعت پڑھتے ہوئے
    شہرِ خیرالبشر نعت پڑھتے ہوئے
    ان کی یادوں سے دل شاد کرتا رہوں
    گزرے شام و سحر نعت پڑھتے ہوئے
    نعت سنتا رہوں، نعت کہتا رہوں
    طے کروں ہر سفر نعت پڑھتے ہوئے
    ان کی محفل سجائیں گے میلاد پر
    سارا دن ، رات بھر نعت پڑھتے ہوئے
    سارے خوشیاں مناتے ہیں میلاد کی
    وجد میں جھوم کر نعت پڑھتے ہوئے
    پل کا کیا خوف ہو مجھ کو محشر کے دن
    جائوں گا میں گزر نعت پڑھتے ہوئے
    ہے تمنا مری یا نبیؐ، کاش ہو
    عمر ساری بسر نعت پڑھتے ہوئے
    قبر میں ہوگا لائقؔ عجب ہی سماں
    موت آئے اگر نعت پڑھتے ہوئے
    از: سید خورشيد نواز لائق بخاری

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button