غزل: حیراں ہوں ان کا مجھے شوقِ زیارت بھی نہیں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

خیال آرائی: ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج۔بارہ بنکی، یوپی۔بھارت


حیراں ہوں ان کا مجھے شوقِ زیارت بھی نہیں
اور آنکھوں میں کوئی دوسری صورت بھی نہیں

بھر لوں مٹھی میں ستارے مجھے خواہش بھی ہے
کیا کروں میری چھلانگوں میں یہ رفعت بھی نہیں

حوروں کے قرب کی امید بھی رکھتا ہوں بہت
اور اعمال کی تقدیر میں جنت بھی نہیں

ان کے بن زندگی کٹ بھی نہیں سکتی میری
سوچوں تو ان سے کوئی خاص محبت بھی نہیں

اس کی ہمراہی مری زیست کا حاصل بھی ہے
اس کو پا جانے کی دل میں مرے حسرت بھی نہیں

اس کے ہی وصل کا ہر وقت ہے نشہ رہتا
اس کی مدت سے میسر مجھے قربت بھی نہیں

ہو جو تشخیص تو نکلے نہ مرض بھی کوئی
جانے کیا بات ہے دل کو مرے راحت بھی نہیں

کیا عجب ہے کہ جسے ڈھونڈتا رہتا ہوں میں
اس کی ہی مجھ کو "ذکی” کوئی ضرورت بھی نہیں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

یہ آئی بہار عید کے دن

ہے کانپور میں یہ آئی بہار عید کے دنخوشی سے چہروں پہ آیا نکھار عید …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔