غزل

غزل: حیراں ہوں ان کا مجھے شوقِ زیارت بھی نہیں

خیال آرائی: ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج۔بارہ بنکی، یوپی۔بھارت


حیراں ہوں ان کا مجھے شوقِ زیارت بھی نہیں
اور آنکھوں میں کوئی دوسری صورت بھی نہیں

بھر لوں مٹھی میں ستارے مجھے خواہش بھی ہے
کیا کروں میری چھلانگوں میں یہ رفعت بھی نہیں

حوروں کے قرب کی امید بھی رکھتا ہوں بہت
اور اعمال کی تقدیر میں جنت بھی نہیں

ان کے بن زندگی کٹ بھی نہیں سکتی میری
سوچوں تو ان سے کوئی خاص محبت بھی نہیں

اس کی ہمراہی مری زیست کا حاصل بھی ہے
اس کو پا جانے کی دل میں مرے حسرت بھی نہیں

اس کے ہی وصل کا ہر وقت ہے نشہ رہتا
اس کی مدت سے میسر مجھے قربت بھی نہیں

ہو جو تشخیص تو نکلے نہ مرض بھی کوئی
جانے کیا بات ہے دل کو مرے راحت بھی نہیں

کیا عجب ہے کہ جسے ڈھونڈتا رہتا ہوں میں
اس کی ہی مجھ کو "ذکی” کوئی ضرورت بھی نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے