مذہبی مضامین

خدمت خلق کی فضیلت قرآن وحدیث کی روشنی میں

ازقلم: شاہ نواز عالم ازہری، مانکپور

اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جو سراپا خیر و رحمت ہے حسن سلوک خیر خواہی سے عبارت ہے دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ اور مخلوق خدا کی خدمت اس کا طرۂ امتیاز ہے یہی وجہ ہے کہ اس دین کو رحمت اس کے خدا کو رحمن ورحیم اور اس دین کے نبی کو رحمۃ اللعالمین کہا گیا ہے
اسلام میں احترام انسانیت اور خلق خدا کے ساتھ ہمدردی وغمخواری کوبڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے کلام اللہ اور احادیث مبارکہ میں جگہ جگہ خدمت انسانیت کو بہترین اخلاق اور عظیم عبادت قرار دیا ہے چناں چہ قرآن کریم میں خدمت خلق پر ابھارتے ہوئے بہترین انداز میں کہا گیا ہے کہ "لیس البر ان تولو وجوه‍كم قبل الشرق والمغرب ولكن البر من آمن بالله واليوم الآخر والملئكة والكتاب والنبيین وآتي المال على حبه ذوي القربي واليتمي والمسكين وابن السبيل والسائلين وفي الرقاب الخ۔ (البقرہ۔ ١٧٧)
(ترجمہ)اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق کی جانب کرو یا مغرب کی جانب ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتب سماویہ اور پیغمبروں پر اور اللہ کی محبت میں اپنے عزیز رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیروں اور سائلوں کو اور قیدی اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں )(کنزالایمان) ۔
ایک حدیث شریف میں تو مخلوق کو اللہ کا عیال کہا گیا ہے اور ان کے ساتھ بھلائی وہمدردی کو محبت الٰہی کے حصول کا ذریعہ بتایا ہے الخلق عیال اللہ فاحب الخلق الی اللہ من احسن الی عیالہ (مشکوۃ)
ترجمہ : مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال(زیر کفالت) ہے مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب اللہ کے نزدیک وہ شخص ہے جو اللہ کی عیال کے ساتھ بھلائی اور اچھے سلوک کے ساتھ پیش آئے۔
مخلوق پر خرچ کرنا ان تین اعمال میں سے ایک ہے جن کا اجر وثواب مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے اور مرنے والا برابر اس سے منتفع ہوتا رہتا ہے حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”اذامات الانسان انقطع عملہ الا من ثلثۃ صدقۃجاریۃ او علم ینتفع بہ او ولد صالح یدعو لہ (صحیح مسلم) ترجمہ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کے ثواب کا سلسلہ اس سے منقطع ہو جاتا ہے مگر تین چیزوں کے ثواب کا سلسلہ باقی رہتا ہے۔ (١) صدقہ جاریہ (٢) علم جس سے نفع حاصل کیا جائے (٣) نیک اولاد جو مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرے۔”
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی خدمت خلق کا حسین مجسم تھی آپ بے سہاروں یتیموں اور کمزوروں کے والی تھےاور آپ کے صحابہ نے آپ کی پیروی کرتےہوئے آپ کی عملی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی ہے اپنے کردار سے سماجی فلاح و بہبود اور خدمت خلق کا وہ شاندار نقشہ دنیا کے سامنے پیش کیا جس کی نظیر دنیا کا کوئی مذھب پیش نہیں کرسکتا قرآن کریم نے صحابہ کے ان اوصاف کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا "ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا انما نطعمكم لوجه الله لا نريد منكم جزاء ولا شكورا(الدھر۔ 29) ترجمہ اور کھانا کھلاتے ہیں اسکی محبت پر مسکین اور یتیم اور اسیر کو ان سے کہتے ہیں ہم تمہیں خاص اللہ کے لئے کھانا دیتے ہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے) (کنز الایمان)
صحابہ کرام‌ کا ہی یہ امتیازی وصف ہے کہ انہوں نے خود فاقےمیں رہ کر دوسروں کو ترجیح دی مہمانوں کا خیال کرتے ہوئے اپنے معصوم بچوں تک کو بھوکا سلایا قرآن کریم نے صحابہ کے جذبہ ایثار کی تعریف یوں کی ہے "ویوثرون علی انفسھم ولوکان بهم خصاصۃ "(الحشر۔٩) ترجمہ: اور صحابہ ان لوگوں کو اپنی جانوں پر انکو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو) (کنز الایمان)
قرآن مجید نے زندگی کے کسی گوشے کو نظر انداز نہیں کیا اعزاء و اقربا میں کچھ ایسے بھی چہرے ہوتے ہیں جو فقر و محتاجگی سے دوچار ہیں لیکن حیا نے انہیں شکایت کا موقع نہیں دیا قرآن کریم نے ایسے لوگوں کی امداد کے حوالے سے فرمایا وفی أموالهم حق للسائل والمحروم (الذاريات(اور انکے مالوں میں حق ہے منگتا اور بے نصیب کا)کنز الایمان)۔١٩) دوسری جگہ فرمایا والذين فى أموالهم حق معلوم، للسائل والمحروم (المعارج۔٢٥،٢٤) اور وہ جن کے مال میں ایک معلوم حق ہے اسکے لئے جو مانگے اور جو محروم رہے) (صراط الجنان ) ۔
بعض مواقع پر تو انسانی خدمت کے عمل کو حقوق اللہ پر فوقیت حاصل ہے ہمسایوں اور پڑوسیوں کے حقوق کے سلسلے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک کی نصیحت کیا کرتے تھے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ پڑوسی کووارث بنا دیں گے۔
الغرض ان مذکورہ تمام آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کی روشنی میں یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ اسلام ہمیں احترام انسانیت اور خلق خدا کے ساتھ ہمدردی کی تعلیم دیتا ہے بیواؤں مزدوروں یتیموں غریبوں مزدوروں اور بے کسوں کے ساتھ غمخواری اور اظہار ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے خصوصاً آج کے اس ماحول میں عالمی وباء سے کئی زندگیاں اجیرن بن چکی ہیں مزدور کسان اور بہت سے لوگوں کی زندگی بری طرح متاثر ہوچکی ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے محض انسانیت کی بنیاد پر ذات پات رنگ ونسل کا لحاظ کیے بغیر پریشان حال لوگوں کا تعاون کریں ہمدردی مساوات اور رواداری کا نمونہ پیش کریں۔اللہ ہم سب کو خدمت خلق کی توفیق عطا فرمائے ۔۔آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے