مذہبی مضامین

کرناٹک میں مشروط اجازت کے ساتھ مساجد کے دروازے کھلے اب قومِ مسلم کی ذمہ داریاں

تحریر: محمد توحید رضا علیمی
امام: مسجدِ رسول اللہ ﷺ
مہتمم دارالعلوم حضرت نظام الدین ،نوری فائونڈیشن بنگلور کرناٹک

ایک وقت تھا جب مساجد کے دروازے کھلے تھے ،دن میں پانچ بار حی علی الصلوۃ حی علی الفلاح کی آوازیں کانوں سے تکراتی تھیں مختصر نمازیوں کے علاوہ سب اپنی اپنی دنیا سجانے کے کوشاں تھے کہاں نماز کی فکر؟ کہاں مساجد کی محبت؟ کہاں اپنوں کو وقت دینے کی فرصت ہروقت کام کام کام
مگر لا ک ڈائون کے بعد مسلمان عبادت گاہوں سے دور، اعتکاف سے دور، طاق راتوں کی عبادت سے دور، اپنے روز مرہ کے کاموں سے دور، گھروں میں عبادت میں وہ لطف نہیں جو مساجد میں عبادت کا لطف حاصل ہوتا ہے۔ امتِ مسلمہ سخت آزمائشوں کے بعد آج ضروری ہدایات کے ساتھ مساجدکے دروازہ کھلے ہیں اب مساجد کو سجدوں سے آباد کرنے نکلو اپنے رب ِ کریم کو راضی کرنے نکلو کہ آخری سانس تک نمازے پنچگانہ تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ باجماعت اداکرسکو مگرمہلک وباء کورونا وائرس ابھی بھی ہمارے درمیان میں موجود ہے اس سے بچنے کے ظاہری تدابیر جو حکومتِ کرناٹک وعلمائے کرام کی جانب سے رہنمائی کی گئی ہے اس پر سختی سے عمل پیرا ہوکر مساجد کو آباد کریں ،مساجد کی فضیلت جو قرآن وسنت سے عیاں ہے ۔مسجدیں اللہ کے گھر ہیں ، اللہ پاک نے جابجا نماز قائم رکھنے کا حکم دیاہے کہ دن میں پنج وقتہ نمازوں سے مسجدوں کو سجدوں سے آباد کرو ، زمین پر سب سے پہلی مسجد کون سی ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کے سوال کے جواب میں سرکارِ مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا زمین پر پہلی مسجد وہ مسجدِ حرام ہے ،زمین پر دوسری مسجد وہ مسجدِ اقصیٰ ہے دونوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے لیکن اللہ پاک نے اس امت پر فضل کیاکہ ساری زمین مسجد بنادی ہے (بخاری ومسلم)
آذان کی صداپر مسجدوں کا رخ کرواس لئے مسجدوں کو آبادکرنے کے مستحق مومنین ہیں ،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ،اللہ تعالیٰ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں (سورہ توبہ ،آیت نمبر 18)
او ر آباد کرنے کے بھی کئی قول ہیں ،ایک تو یہ کہ آباد کرنے سے مسجد کا بنانا ، بلند کرنا ،مرمت کرنا مراد ہے ،دوسرا قول یہ ہے کہ نمازوں سے مساجد آباد کرنامراد ہے ،
اور سر کارِ مصطفی ﷺ کا فرمان ِ عالی شان ہے جو مسجد سے اذیت کی چیز نکالے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا، سرکارِ مصطفی ﷺ نے ارشاد فرما یا ،اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ِالہامی کتابوں میں موجود ہے کہ مسجدیں میرے گھر ہیں اور انکی تعمیر و آبادی میں حصہ لینے والے میرے زائر ہیں تو خوشخبری ہے میرے اس بندے کے لئے جو اپنے گھر میں طہارت حاصل کرکے میرے گھر میں زیارت کو آتا ہے لہٰذا مجھ پر حق ہے کہ میں آنے والے زائر کو عزت و وقار عطاکروں،
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ مسجدوں کو سجدوں سے آباد کرو کہ زمین کا ہر وہ ٹکڑاجس پر نماز اداکی جاتی ہے یا ذکرِ خداکیا جاتاہے وہ ارد گِرد کے تمام قطعات پر فخر کرتاہے اور اوپر سے نیچے ساتوں زمین تک وہ مسرت و شادمانی محسوس کرتا ہے اور جب بندہ کسی پاک زمین پر نماز پڑھتاہے تو وہ زمین اس پر فخر کرتی ہے ،
اے نمازی تیری شان کا یہ عالم ہے تو جس جگہ سجدہ کردے وہ زمین تجھ پر فخر کرے،ہم مسجد کی طرف نکلیں ،اللہ کریم ہرقدم پر دس نیکیاں عطاکرتاہے ،صحابہ کرام مسجدوں کے قریب ہو ں یا دور کبھی بھی انکی نمازیں قضانہ ہوتیں ، مساجدنمازیوں سے پُررہتیں،آج مساجد کی محبت امتِ مسلمہ کے دل میں موجود ہے اس لئے کہ مسجد وں سے محبت کر نا مومن کا حصہ ہے، مسلم شریف میں سرکارِ مصطفی ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ کو سب جگہ سے زیادہ محبوب مسجدیں ہیں اور سب سے زیادہ مبغوض بازار ہیں،
مسجد نماز کی جگہ ہے ،عابدوں کے اعتکاف کا مقام ہے، رحمت ِالٰہی کی جگہ ہے، ایک طرف سے کعبہ سے مشابہ ہے،گزشتہ مذہبوں میں ترکِ دنیا بڑی عبادت تھی یعنی پہاڑکی چوٹیوں یا گوشوں میں بیٹھ کر عبادت کرتے، ہمارے اسلام میں حرام ہے،اس لئے کہ حدیث پاک میں ہے کہ نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھنا ترکِ دنیا ہے کیونکہ اس وقت انسان بال بچوں سے الگ ہو جاتاہے،ہمارے ذہنوں میں ابن ماجہ کی حدیث ہے کی سرکار ِ مدینہ ﷺنے فرمایا مرد کی نماز قبیلے کی مسجد میں پچیس نمازیں اور جامع مسجد میں ایک نما ز،پانچ سو نمازیں اور مسجدِ نبوی میں ایک نماز، پچاس ہزارنمازیں اور مسجدِ حرام میں ایک نماز، ایک لاکھ نمازیں ہیں ،محترم ثوابوں کا فرق ہے ،لیکن تمام مساجد بیت اللہ(اللہ کے گھر) ہیں،اے امتِ مسلمہ،ہماری تاریخ رہی ہے کہ ہمارے اسلاف عبادت کے وقت عبادت، تجارت کے وقت تجارت ،جہاد کے وقت جہاد ، وہ سب شب زندہ دار تھے ،وہ جس جگہ سے گزرجاتے فتح و کامرانی کے پرچم بلند کرتے نظرآتے ، آج مسجدوں عبادت و ریاضت سے دوری کی وجہ سے سخت سے سخت آزمائشوں کا شکار ہورہے ہیں کبھی کورونا وائرس کی شکل میں کبھی سمندری جوش کی شکل میں کبھی زمینی آسمانی وبائوں کی شکل میں کبھی فرعونی صفت حکمرانوں کی شکل میں وغیرہ وغیرہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مساجد کو سجدوں سے آباد کرنے کی کوشش کرنا ہے یاد رکھیں کہ ہمارے کوئی غلط قدم سے اغیار ہماری عبادت گاہوں کی طرف غلط نگاہ نا اٹھاسکیں،لاک ڈائون میں بھی مساجد چند شرطوں سے کھلیں ہیں ان شرطوں پر عمل کریں مساجد باوضو ہوکر اپنا جائے نماز کے ساتھ تشریف لائیں مساجد کے اطراف واکناف اکٹھا جمع ناہوں بزرگ ۶۵ سال بچے ۱۰ سا ل کے داخل ناہوں تین فٹ کی دوری بنائے رکھیں فرض کے فورََا بعد اپنے اپنے گھروں میں سنن ونفل و وتر اداکریں اللہ پاک ہمیں مساجد کا ادب کرنے کی توفیق عطاکرے آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے