سماج و معاشرہمذہبی مضامین

ویلنٹائن ڈے تاریخ اور حقائق کے تناظر میں

از:سرفراز عالم ابو طلحہ ندوی، بابوآن ارریہ بہار

گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں ذرائع ابلاغ کی تیز رفتاری ،ترقی نے ایک دنیا کو گاوں میں تبدیل کر دیا ہے۔اس ترقی سے معلومات کے فوری تبادلے، حالات سے آگاہی اور باہمی رابطوں کے فوائد تو ضرور حاصل ہوئے ہیں ،لیکن اس کے باوجود بدیسی تہذیب و ثقافت و کلچرز اور درآمدی ثقافت نے ہماری معاشرتی اقدار و نظام اور اخلاقیات کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے، معاشرہ میں نت نئی بے حیائی و اخلاقی انحطاط و لسانی فسادات کا پیدا ہوتے جارہے ہیں، انہی برائیوں میں ایک ناقابل انکار برائی ویلنٹائن ڈے کی تاریخ یعنی 14 فروری کی ہے،جس کو” یوم اظہار محبت و عقیدت” کا دن سمجھا جاتا ہے ،جس دن لوگ خوب موج مستی کرتے اور طرح طرح کی مھٹایئوں اور طرح طرح کے گلدستوں سے اپنی محبوبہ سے اظہار محبت و عقیدت پیش کرتے ہیں ۔

ویلنٹائن ڈے کی تاریخ
کوئی بھی چیز خواہ کتنی ہی مشہور و معروف ہو جب اس کا چلن معاشرہ میں ہونے لگے،تو سب سے پہلے ہم اس کی تاریخ پر نظرڈالیں اور یہ معلوم کریں کہ اس کے موجد کیسا ہے آیا وہ دیندار ہے یا غیر اسلامی روایات کو فروغ دے رہے ہیں ،اسی کے پیش نظر آج ہم اپنی نگاہ کو اس ویلنٹائن ڈے کی تاریخ پر دوڑائے تاکہ حقائق ابھر کر سامنے آجائیں اور اس سے آگہی ہوجائیں "ویلنٹائن ڈے یہ تیسری صدی کے ایک غیر مہذب” ویلنٹائن ” نامی شخص نے وجود میں لایا جوکہ کلیسائے روم میں رہا کرتے تھے، اور وہ یہاں کے پادری تھے ،جس نے ایک خوب صورت راہبہ پر فریفتہ ویوانہ ہو گیا تھا،چونکہ عیسائی تعلیمات کے مطابق پادریوں اور راہبات کے لئے تادم مرگ شادی حرام تھی ،اس لئے "ویلنٹائن "پادری کے لئے اس راہبہ سے جسمانی تعلقات قائم کر ناممکن تھا ،پھر بد تہذیب و بد اخلاق ویلنٹائن نامی پادری نے اپنی محبوبہ راہبہ کو بہلا پھسلا کر یہ کہا کہ میں نے ایک خواب دیکھا کہ کوئی بھی شخص اگر اپنی محبوبہ سے 14 فروری کے دن تعلقات قائم کریں تو کوئی گناہ نہیں ہوگا، اور ان پر کوئی زنا کی تہمت نہیں لگے گی، اور یہ راہبہ جوش محبت و عقیدت میں آکر ان سے غیر مرئی امور کو انجام دیکر 14 فروری کو اظہار محبت و عقیدت اور جسمانی تعلقات قائم کی ،پھر اس پادری اور راہبہ کی اسی مقررہ تاریخ کو یعنی 14 فروری کی یاد میں باقاعدہ ویلنٹائن ڈے منانے لگے ،اور یہ مغربی ممالک میں بڑے گرم جوشی سے منانے لگے” انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا ” کے مطابق اس تہوار کا تعلق رومی دیوتا لوپرکالیا(loper calia) سے ہے۔قدیم رومن مرد اس تہوار کواپنی آستینوں پر محبوباوں کے نام لگا کر نکلتے تھے ، بعض اوقات یہ جوڑے تحائف کا تبادلہ بھی کیا کرتے تھے، یہ مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ "سان فرانسسکو "میں ویلنٹائن ڈے پر ہم نوجوان جنس پرست جوڑے سرعام برہنہ جلوس نکالتے ہیں ،اور اس میں جنسی نمائش میں اتنے آگے نکل چکے ہیں کہ وہ اپنی محبوبہ کے نام کے سٹیکر اور پینٹنگ کرکے نمائش کرتے ہیں ( بحوالہ ویلنٹائن ڈے تاریخ اور حقائق اور اسلام نظر میں صفحہ23۔24)

ویلنٹائن ڈے منانا کیسا ہے
ویلنٹائن ڈے منانا یہ خالص عیسائی اور بت پرستوں کا عقیدہ رہا ہے جو کہ ایک کافر نصرانی شخصیت کی یاد میں منائی جاتی ہے،اور اس کے آڑ میں فاسد عقائد الحاد بے دینی، اباحت ،اور اخلاقی باختگی ،فسق وفجور کی ترویج ہوتی ہے۔
لہذا اسے منانا اللہ کے دشمنوں کی مشابہت اختیار کرنا لازم آتا ہے، جس کی تردید اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کردی ہے ترجمہ ۔جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے( رواہ ابو داود کتاب اللباس 3512)
ویلنٹائن ڈے ہر اعتبار سے مسلم و غیر مسلم معاشرہ کے لئے یوم اوباشی و یوم عیاشی ہے، اس کا اصل مقصد مرد و زن کا اختلاط ہے، جس سے بے حیائی کو فروغ ملتا ہے،آج ہمارے معاشرے میں اس کا چلن بڑے آب و تاب کے ساتھ ہونے لگا ہے جس نہ تو ہندو مذاہب میں کوئی تاریخ ہے، اور نا اسلامی تعلیمات اصول و ضوابط کے مطابق ہے ،یہ ایک بے بنیاد حقائق ہیں، جس پر نہ تو صحابہ کرام اور سلف کا عمل رہا ہے ، یہ ناسور برائی مسلم معاشرہ کو بھی دستک دے چکی ہے کہ گزشتہ کئی سال پہلے "ویلنٹائن ڈے” کے موقع پر بعض اسلامی ممالک میں اجتماعی شادی کی تقریبات منعقد کی گئی جو کہ یہ نامسعود تقریبات ہیں جو کہ کسی بھی طرح اسلامی قوانین و ضوابط پر کھرا نہیں اتر رہا ہے، اور یہ بھیانک شکل و صورت اختیار کرتا جارہا ہے ،اس کی قلع قمع کرنے کے لئے ہمارے صالح فکر مند دانشوروں کا اہم فریضہ ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے "ویلنٹائن ڈے” کی حقیقت کو بیان کریں اور اس خاص دن سے لوگوں کو روکیں۔

ویلنٹائن ڈے اسلام کی نظر میں
اسلامی تہذیب و تمدن وثقافت میں خوشیاں منانا بھی عبادت کا اولین حصہ رہا ہے، خوشیوں کا اہمتام کرنا ،خود خوش رہنا دوسروں کو خوش رکھا ،ایک دوسرے سے ہم دردی و محبت و عقیدت رکھنا یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات رہی ہیں، جس سے کسی باشعور و باغیرت انسان کو انکار نہیں ہے، لیکن اس کے برعکس اس محبت و عقیدت کو پروان چڑھانے کے لئے ایک دن مقرر کر لینا یہ گمراہی ہے اور ہر گمراہی بدعت اور ہر بدعت جہنم کی طرف لیئے جانے والی ہے ،اور یہ بدعات و خرافات کی شکلیں ہیں جس کی ممانعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے کر دی تھی، حدیث میں آپ نے بتایا کہ جو دین کے اندر نئی نئی ایجادات کریں وہ ہم سے نہیں ہے ،یعنی وہ ہمارے طریق پر چلنے والا نہیں ہے۔

ویلنٹائن ڈے کا فروغ اور میڈیا کا کردار
کسی بھی نیکی یا بدی کے پھیلنے میں پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کا اہم کردار ہوتا ہے، عوام الناس چونکہ اس سے براہ راست منسلک ہوتے ہیں، اس کے لئے ہر وہ چیز نشر ہوتی ہے ،ان کے ذہن و دماغ میں اثر کرتی ہے جو کہ میڈیا کے ذریعے تشہیر پاتی ہے، ویلنٹائن ڈے کے فروغ میں مغربی میڈیا کے ساتھ ساتھ مشرقی میڈیا اور بالخصوص ہندوستانی میڈیا نے خوب کردار رہا ہے، یہ چند سالوں میں میڈیا نے یوم محبت کو اتنا عام کر دیا ہے کہ اب مسلم معاشرہ بھی اس کے چپیٹ میں آچکے ہیں ،اور معاشرہ میں اختبارات و لٹریچر نے یوم محبت کو خوب فروغ دیا جس سے یہ برائی عام ہوتی جارہی ہے ،اخبارات اور اس جڑے ہوئے لوگوں سے اپیل ہے کہ ویلنٹائن ڈے کے حقائق کو لوگوں کے سامنے اجاگر کیا جائیں،اور صحیح و ثابت شدہ چیزوں ہی کی تشہیر کی جائیں ، دین اور شریعت کی صحیح ترجمانی کی جائیں ،
اللہ تعالی ہمیں ان ناسور یوم محبت سے بچائیں اور دینی حمیئت و محبت کی ترویج و اشاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین ۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button