منقبت

منقبت :دل بے نور کو اب پرضیا اختر رضا کردیں

رشحات قلم : محمد نثار نظامی مہراج گنج

غلاموں پر کرم اتنا شہا اختر رضا کردیں
دل بے نور کواب پرضیا اختر رضا کردیں

قحط سالی پڑی ہے مزرع فکروتخیل میں
مرے کشت تخیل کو ہرا اختر رضا کردیں

مٹاکر دہر سے کفروضلالت کے دیے سارے
فروزاں دہر میں شمع ہدی اختر رضا کردیں

پڑی ہے پاؤں میں میرے غم و آلام کی بیڑی
غموں کی قید سے مجھ کو رہا اختر رضا کردیں

مجھے بھی خواب میں دیدار کا موقع میسر ہو
مرے بھی دل کا پورا مدعا اختررضا کردیں

تمہارے گلستان علم کا ہوں خوشہ چیں میں بھی
مجھے بھی خوش کلامی اب عطا اختر رضا کردیں

تغزل کی زمیں کو نعت کے پانی سے سیچوں گا
عطا مجھ کو بھی وہ فکر رسا اختر رضا کردیں

پرندہ فکر کا میرے ثریا تک پہنچ جائے
دبستاں لفظوں کا مجھ کو عطا اختر رضا کردیں

نظامی تیری قسمت کا ستارہ اوج پر ہوگا
اگر قبر منور سے دعا اختر رضا کردیں

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے