منقبت

منقبت :دل بے نور کو اب پرضیا اختر رضا کردیں

رشحات قلم : محمد نثار نظامی مہراج گنج

غلاموں پر کرم اتنا شہا اختر رضا کردیں
دل بے نور کواب پرضیا اختر رضا کردیں

قحط سالی پڑی ہے مزرع فکروتخیل میں
مرے کشت تخیل کو ہرا اختر رضا کردیں

مٹاکر دہر سے کفروضلالت کے دیے سارے
فروزاں دہر میں شمع ہدی اختر رضا کردیں

پڑی ہے پاؤں میں میرے غم و آلام کی بیڑی
غموں کی قید سے مجھ کو رہا اختر رضا کردیں

مجھے بھی خواب میں دیدار کا موقع میسر ہو
مرے بھی دل کا پورا مدعا اختررضا کردیں

تمہارے گلستان علم کا ہوں خوشہ چیں میں بھی
مجھے بھی خوش کلامی اب عطا اختر رضا کردیں

تغزل کی زمیں کو نعت کے پانی سے سیچوں گا
عطا مجھ کو بھی وہ فکر رسا اختر رضا کردیں

پرندہ فکر کا میرے ثریا تک پہنچ جائے
دبستاں لفظوں کا مجھ کو عطا اختر رضا کردیں

نظامی تیری قسمت کا ستارہ اوج پر ہوگا
اگر قبر منور سے دعا اختر رضا کردیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے