منقبت

منقبت در شان : خلیفۂ دوم امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ

رشحات قلم :فیض العارفین نوری علیمی شراوستی

پیش ِ نظر اگر ہو کسی کے رہ ِ عمر
محبوب اس کو رکھیں گے بے شک شہ ِعمر

زینہ در ِ حضور ہے بام ِ عروج کا
کہیے اس آستاں کو ترفع گہ ِ عمر

گلزار دیں پہ چھایا ہے نزہت کا جو سماں
لا ریب یہ بہار ہے منت نِہ ِ عمر

ایسی تھی بے قراری فراق حبیب میں
پہلوے یار ہی ہوا راحت دِہ ِ عمر

ہم منکر خلافت حیدر نہیں مگر
عثماں کے بعد آپ ہیں عثماں تہ ِ عمر

ہو گونج ان کے ذکر کی آفاق رفض میں
ہے مطلع ورود پہ نوری مہ ِعمرِ

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے