سُنا تھا ہم نے لوگوں سے
مُحبّت چیز ایسی ہے
چھُپائے چھُپ نہیں سکتی
دبائے دب نہیں سکتی
یہ چہرے سے جھلکتی ہے
یہ لہجے میں مہکتی ہے
یہ آنکھوں میں چمکتی ہے
یہ راتوں کو جگاتی ہے
یہ آنکھوں کو رُلاتی ہے
مگر یہ سب اگر سچ ہے!
تو ہمیں اﷲ سے
بھلا کیسی مُحبّت ہے؟
نہ چہروں سے جھلکتی ہے!
نہ لہجوں میں مہکتی ہے!
نہ آنکھوں کو رُلاتی ہے!
نہ راتوں کو جگاتی ہے!
بتاؤ! یہ ہمیں اﷲ سے
بھلا کیسی مُحبّت ہے؟
بھلا کیسی مُحبّت ہے؟
متعلقہ مضامین
حمد باری تعالیٰ ۔
نتیجہ فکر : محمد شوقین نواز شوقؔ فرید ترے بندے ہیں ہم سب اور سب کا اک خدا تو ہےہمارے دل میں کیا کیا ہے خدایا جانتا تو ہے فقط مشرق ہی مغرب ہی نہیں اے دوجہاں کے ربجہاں میں ہر گھڑی ہر سمت بس جلوہ نما تو ہے پریشاں حال ہوں مشکل بہت ہے […]
ترے کرم کی ہے ساری بہار یا اللہ
نتیجہ فکر: محمد اشرفؔ رضا قادریمدیر اعلیٰ سہ ماہی امین شریعت ترے کرم کی ہے ساری بہار یا اللہکہ تو ہی سب کا ہے پروردگار یا اللہ ترے ہی نام کی پڑھتی ہیں تتلیاں تسبیحہے تجھ سے باغ جہاں عطر بار یا اللہ ہیں تیرے ذکر میں رطب اللسان آٹھوں پہرتمام دشت و چمن کوہسار […]
حمد الہی۔
ازقلم : محمد اشرف رضا قادری حالِ دل کس کو سنائیں یا الہٰ العالمیںکس کو غم اپنا بتائیں یا الہٰ العالمیں اس جہاں میں کون ہے تیرے علاوہ کارسازہم کہاں بگڑی بنائیں یا الہٰ العالمیں تیری رحمت مجرموں کو دے رہی ہے صبح و شامادنُ منی کی صدائیں یا الہٰ العالمیں معصیت کے داغ سے […]
