جہانگیر بادشاہ نے حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مسئلہ دریافت کیا کہ حضور اکرم ﷺ ہر مرنے والے کی قبر میں تشریف لاتے ہیں، مگر ایک ہی وقت میں مرنے والوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہوگی، اور حضور ﷺ کی ایک ذات ہے وہ بیک وقت ہر قبر میں کیسے پہنچ جاتے ہیں اس کی وضاحت فرمائیے، یہ سن کر حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اے بادشاہ آپ دہلی والوں کو حکم دیں کہ وہ میری دعوت کریں، لیکن شرط یہ ہے کہ دعوت ایک ہی دن ایک ہی وقت میں ہو، بادشاہ کے حکم پر بہت سارے لوگوں نے آپؒ کو دعوت دی اور بادشاہ نے بھی اسی دن اسی وقت کی دعوت دی، جب وہ تاریخ وہ وقت آیا تو امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے بادشاہ کی دعوت کھائی اور رات کو وہیں قیام کیا، فجر کے بعد بادشاہ جہانگیر نے دعوت کرنے والوں تمام لوگوں کو بلایا اور پوچھا کہ رات کو امام ربانی ؒ نے تمہارے پاس دعوت کھائی؟ تو سب لوگوں نے اقرار کیا کہ رات حضرت امام ربانی ؒ میرے گھر تشریف فرما تھے، اور آپؒ نے دعوت کھائی یہ ماجرا دیکھ کر بادشاہ حیران ہوا تو امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اے بادشاہ میں تو ان کا ادنیٰ امتی ہوں ہر گھر میں بیک وقت پہنچ سکتا ہوں، تو الله تعالیٰ کے حبیب ﷺ ہر قبر میں کیوں نہیں پہنچ سکتے۔(فیوضات مجددیہ صفحہ 11) سید جاوید علی جیلانی
متعلقہ مضامین
اسرائیل کو ایک اور جھٹکا
گزشتہ سے پیوستہ نیکاراگوا کی نائب صدر روزاریو موریلو نے اسرائیل کے ساتھ اپنے ملک کے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے، نکاراگوا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر رہا ہے، وسطی امریکی قوم نے جمعہ کو اسرائیلی حکومت کو "فاشسٹ” اور "نسل کش” قرار دیا۔ نکاراگوا کی حکومت نے ایک بیان […]
یوپی سرکار کی ایک اور بے تکی پالیسی۔
تحریر : محمد احمد حسن سعدی امجدی حالیہ دنوں اترپردیش میں ایک نئے قانون کے حوالے سے سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر زبردست بحث چل رہی ہے، جس میں یوپی میں تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی کو مستقبل کے لیے خطرہ بتاتے ہوئے آبادی کو کنٹرول کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، […]
کرکٹروں کی بیف پارٹی پر سناٹا کیوں؟
تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمیمدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی آپ کب کیا کھانا چاہتے ہیں یہ آپ کا نجی اور ذاتی معاملہ ہے۔ پوری دنیا میں اسے انسان کا بنیادی حق مانا گیا ہے لیکن ہمارے دیس میں کیا کھانا ہے یہ آپ نہیں حکومت طے کرتی ہے۔حکومت کی اسی نفرتی پالیسی کی وجہ سے گلی […]




