مذہبی مضامین

موجودہ وقت میں زکوٰۃ کے نصاب کا اجمالی خاکہ

ترتیب :محمد ہاشم اعظمی مصباحی
نوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یوپی انڈیا

مکرمی : رسولِ اکرم ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا ، حج ادا کرنا اوررمضان کے روزے رکھنا۔(بخاری کتاب الایمان،ج۱،ص۱۴) اس روایت سے معلوم ہوا کہ زکوٰۃ اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآنِ حکیم میں نماز اور زکوٰۃ کا ذکر ایک ساتھ 32 مقامات پر آیا ہے (ردالمحتار،کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۰۲)زکوٰۃ کے لغوی معنی پاک ہونا، بڑھنا اور نشوونما پانا ہیں۔ زکوٰۃ مالی عبادت ہے جو محض ناداروں کی کفالت اور دولت کی تقسیم کا موزوں ترین عمل ہی نہیں ہے بلکہ ایسی عبادت ہے جو قلب و ررُوح سے میل کچیل بھی صاف کرتی ہے۔ انسان کو اللہ کا مخلص بندہ بناتی ہے دارین کی سعادتوں سے مالا مال کرتی ہے نظام صلوٰۃ اور نظام زکوٰۃ کا قیام اسلام کے بنیادی مقاصد میں سے یہ ہےکہ ایک سے انسان کی روحانی ضرورتوں کی تکمیل ہوتی ہے تو دوسرے سے اس کی مادی ضرورتوں کی کفالت کی ضمانت میسر آتی ہے۔ ایک اسلامی معاشرہ افراد کی روحانی اور مادی تقاضوں کی تکمیل کے بعد ہی جنم لیتا ہے جس کے نتیجے میں نیکیوں اور اچھائیوں کو فروغ ملتا ہے اور اس کے اندر پائی جانے والی برائیوں کا قلع قمع ہوجاتا ہے۔ زکوٰۃ دینا تکمیل ِ ایمان کا ذریعہ ہے جیسا کہ رسول پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:” تمہارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے کہ تم اپنے مالوں کی زکات ادا کرو۔”(الترغیب والترھیب ،کتاب الصدقات ، ج۱، ص۳۰۱ ) ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ”جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو اسے لازم ہے کہ اپنے مال کی زکات ادا کرے ۔”(المعجم الکبیر ج۱۲،ص۳۲۴) جوشخص مسلمان، عاقل و بالغ ،آزاد ہو، نصاب کے برابر مال رکھتا ہو، ما ل ضروریات اصلیہ سے زائد ہو اور اس مال پر پورا سال گذر جائے تو اس پر زکوٰة فرض ہے، نصاب سے مراد ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہے. موجودہ وقت میں فی کلوگرام سونے کی قیمت۔ 4909000 روپئے ہے اور چاندی کی فی کلوگرام قیمت 70800 روپئے ہے. جدید تحقیق کے مطابق شرعاً ایک تولہ کا وزن،12 گرام 441 ملی گرام ہے. سونے میں زکوٰۃ کی شرعی مقدار ساڑھے سات تولہ ہے جو جدید پیمانے کے مطابق 93گرام312ملی گرام ہوگا جس کی قیمت اپریل 2022 میں : 4 لاکھ 58 ہزار 68 روپے 60 پیسے ہوتی ہے اور چاندی میں زکات کی شرعی مقدار ساڑےباون تولہ ہے جو جدید پیمانے کے مطابق،653گرام184ملی گرام ہوگی جس کی قیمت *اپریل 2022 میں : 46 ہزار 245 روپے 42 پیسے* ہوتی ہے.
اگر سونا/چاندی مذکورہ مقدار میں آپ کے پاس ہوں تو آپ صاحبِ نصاب ہیں یا دونوں چیزیں تھوڑی تھوڑی مقدار میں ہوں جن کی قیمت نصابِ چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے تو بھی آپ صاحب نصاب ہیں. اگرتجارت کا سامان چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے یا نقدی روپے ،چاندی کی قیمت کے برابر ہوں، یا سونا، چاندی، تجارت کا سامان اور نقدی روپے، یہ سب مل کر نصاب چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائیں تو آپ صاحبِ نصاب ہیں ایک سال گذر جانے پر %2.50 زکات نکال کر مستحقین تک پہنچانا لازم ہے۔
واضح رہےکہ زکات صرف ساڑھے سات تولہ (یعنی:93 گرام 312 ملی گرام ) سونے پراس وقت ہے کہ جب کسی اور جنس( چاندی،مال تجارت،اور نقدی روپے) میں سے کچھ پاس نہ ہو، لیکن اگر سونے کے ساتھ ساتھ کچھ اور مالیت بھی ہےتوپھرزکات کی فرضیت کا مدار ساڑھے باون تولہ (یعنی:653 گرام 184 ملی گرام) چاندی پرہوگا۔اور یہ بھی واضح رہے کہ سونے ،چاندی میں  وزن کا اعتبار ہوگا،یعنی 653.184 گرام چاندی اور 93.312 گرام سونا ہو، اور مال تجارت میں مالیت کا اعتبار ہوگا،یعنی 653.184 گرام چاندی کے برابر مال تجارت ہونا چاہیے۔