وہ شمع بجھی جس کی لو قیامت تھی

ماہر لسان و قلم، فخر صحافت، ادیب عصر حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی علیہ الرحمۃ (مدیر: ماہنامہ اشرفیہ، مبارکپور) نے اپنی علمی، فکری اور قلمی کاوشوں کے ذریعے ایک عہد کو سیراب فرمایا۔
آج وہی افق علم کا تابندہ ستارہ غروب ہوگیا، کاروان فکر و دانش کا وہ معتبر راہبر رخصت ہوگیا، اور بزمِ ادب و صحافت اپنے ایک شفیق مربی اور مہربان سرپرست سے محروم ہوگئی ـــــــــــــــ
یقیناً مصباحی صاحب علمی و قلمی دنیا میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ کا قلم محض الفاظ کی ترتیب کا نام نہ تھا بلکہ فکر و شعور کی آبیاری، علم و تحقیق کی ترویج اور حقائق و معارف کی ترجمانی کا ایک مؤثر وسیلہ تھا۔ آپ کی تحریروں میں عمیق فکر و دانش کی پختگی، اسلوب کی شگفتگی اور اظہار کی دل نشینی یکجا نظر آتی تھی۔
آپ نے اپنی نگارشات کے ذریعے نہ صرف قارئین کی علمی پیاس بجھائی بلکہ ایک نسل کی فکری رہنمائی کا فریضہ بھی انجام دیا۔ صحافت و دینی ادب کے میدان میں آپ کی خدمات ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہیں، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا ــــــــــــــ
ہزاروں مصروفیات کے باوجود آپ نوآموز اور اصاغر قلم کاروں کی سرپرستی کو اپنا علمی فریضہ سمجھتے تھے۔ ان کی خبر گیری، حوصلہ افزائی اور مسلسل یہ تلقین فرماتے کہ قلم کی جولانی برقرار رکھو اور میدانِ تحریر سے کنارہ کش نہ ہو۔ کسی تحریر میں کوئی کمی محسوس کرتے تو نہایت شفقت کے ساتھ اس کی اصلاح فرماتے اور بہتر اسلوب کی رہنمائی بھی عطا کرتے۔۔۔
موت ایک مسلمہ حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں۔ حضرت مصباحی صاحب اگرچہ آج ظاہری طور پر ہم سے جدا ہوگئے، لیکن اپنی دینی، علمی اور قلمی خدمات کے باعث اہلِ علم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ــــــــــــــــ

رب تعالیٰ اپنے حبیبِ پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صدقے مصباحی صاحب کے درجات بلند فرمائے، ان کی بخشش ومغفرت فرمائے، لواحقین کو صبر جمیل اور اجر جزیل عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید الانبیاء والمرسلین صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

ابرِ رحمت ان کے مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شانِ کریمی ناز برداری کرے۔۔۔

شریکِ غم:
محمد اشفاق عالم امجدی علیمی
استاذ و مفتی: جامعہ مصباح العلوم کدمتلی

Leave a Comment