چھ دسمبر 1992 کا دن بھارت کی تاریخ میں ایک بد نما داغ بن کر آیا۔ہزاروں لوگوں کی بھیڑ نے بابری مسجد کی بوسیدہ دیواروں پر اپنی "بہادری” کے جوہر دکھائے۔دن کے اجالے میں مسجد شہید کرکے مورتیاں نصب کر دی گئیں۔اس طرح قانون کو جوتے کی نوک پر رکھ کر مسجد کو جبراً مندر بنا لیا گیا۔
مندر تو بابری مسجد کو اس وقت ہی بنا لیا گیا تھا جب دسمبر 1949 کی رات سازشاً مورتیاں رکھی گئی تھیں۔اگلے ہی دن ضلع جج نے نمازوں پر پابندی اور پوجا کی قانونی اجازت دے دی۔لیکن دسمبر 1992 کو مسجد کی ظاہری عمارت کو بھی شہید کر دیا گیا۔27 سال کی طویل قانونی لڑائی لڑنے اور تمام تر شواہد پیش کرنے کے باوجود محض "ہندو آستھا” کی بنیاد پر نو نومبر 2019 کو قانونی طور پر بابری مسجد کو رام مندر ڈکلئر کر دیا گیا۔اس فیصلے پر مسلمانوں کی غیر ضروری خاموشی نے شدت پسندوں کو ایک نیا نسخہ دے دیا۔وہ نسخہ تھا بغیر بدنامی و محنت کیے کورٹ کے ذریعے مساجد کو مندر میں بدلنا یا مساجد کو شہید کرنا۔اب اسی پالیسی پر چلتے ہوئے مسجدوں کو مندروں میں تبدیل کیا جا رہا ہے یا انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے شہید کیا جا رہا ہے۔
🔹پچیس ستمبر 2025 کو سنبھل کے رانواں بزرگ نامی گاؤں میں مسجد غوث الوریٰ کو شہید کیا گیا۔اس کے علاوہ اسی گاؤں میں ایک مدرسہ بھی غیر قانونی بتا کر شہید کیا گیا۔
🔸تین جنوری 2026 کو ضلع سنبھل کے حاجی پور میں ایک مسجد اور مدرسے کو شہید کیا گیا۔
🔹_پندرہ مئی 2026 کو مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع کمال مولی مسجد کو ایم پی ہائی کورٹ نے واگ دیوی مندر ڈکلئر کر دیا۔اس طرح سات سو سالہ قدیم مسجد ایک جھٹکے میں بت خانہ میں تبدیل ہوگئی۔ہائی کورٹ کے جج صاحبان اس قدر جلدی میں تھے کہ فیصلہ سناتے ہوئے مسلمانوں کے نماز پڑھنے پر فی الفور پابندی بھی لگا دی تاکہ سپریم کورٹ سے اسٹے ملنے کے باوجود پوجا جاری رہ سکے۔
🔸پانچ اپریل 2026 کو سنبھل کے ہی مبارک پور بند گاؤں میں ایک مسجد کو شہید کیا گیا۔
🔹گیارہ مئی کو پونا شہر کے کُدل واڑی علاقے میں مدینہ مسجد اور ابو بکر مسجد کو شہید کیا گیا۔
🔸اکیس مئی 2026 کو ممبئی کے باندرہ ایسٹ میں مسجد فیضان مصطفیٰ، مسجد غریب نواز اور مسجد انعام کو شہید کیا گیا۔
🔹دو جون کو دہرادون کے تھانوں علاقے میں واقع جامع مسجد کو نقشہ نہ ہونے کی بات پر سیل کر دیا گیا۔مسجد 1979 سے قائم ہے۔پانچوں وقت نماز ہوتی آئی ہے لیکن اب بغیر کسی نوٹس مسجد کو قانونی طور پر بند کر دیا گیا۔
🔸چھ جون 2026 کو سنبھل ہی کسیروا گاؤں میں ایک دو منزلہ مسجد کو قانونی آرڈر کے نام پر شہید کر دیا گیا۔طرفہ تماشا یہ کہ مسجد میں موجود اسلامی جھنڈے کو پاکستانی جھنڈا، اور آئی لو محمد لکھے پوسٹر کو متنازع مواد مان کر متولی سمیت آٹھ دس لوگوں کے خلاف مقدمہ بھی درج کرا دیا۔
🔹__نو جون کو پونا شہر کے کُدل واڑی علاقے میں ایک ہی رات میں پانچ مسجدیں، چشتیہ مسجد، ابوہریرہ مسجد ، مسجد نعیم، مسجد علی اور مسجد خدیجہ کو شہید کر دیا گیا۔ابھی اس علاقے میں مزید گیارہ مسجدیں بھی انہدامی کاروائی کی زد میں ہیں۔
🔸_نو جون ہی کو راجستھان کی راجدھانی جے پور میں چار منزلہ نورانی مسجد کو تمام تر درست کاغذات ہونے کے باوجود شہید کر دیا گیا۔
یہ فہرست مشتے نمونہ از خروارے کی قبیل سے ہے، وگرنہ اصل صورت حال اس سے کہیں زیادہ ابتر ہے۔اسی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس وقت مساجد پوری طرح حکومت و انتظامیہ کے نشانے پر ہیں۔
ہمارے کرنے کے کام
مساجد کا انہدام اگرچہ بے حد تکلیف دہ ہے لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا ہے۔روئے زمین ہمارے لیے مسجد بنائی گئی ہے۔اللہ کی زمین اتنی تنگ نہیں ہے کہ ہمیں سجدے کے لیے جگہ نہ مل سکے، لیکن ہمیں کچھ چیزوں پر قدرے سنجیدگی اور سمجھ داری برتنے کی ضرورت ہے۔
1۔مسجد بناتے وقت حتی الوسع کچی اور غیر ملکیتی زمینوں سے پرہیز کریں۔اگرچہ دوسروں کی عبادت گاہیں کتنی ہی بنی ہوں۔
2۔تعمیرات سے متعلق ضابطوں کا خصوصی خیال رکھیں۔آپ کی ذرا سی بے توجہی ان کے لیے انہدام کی بنیادی وجہ بن جاتی ہے۔
3۔اندرونی تنازع کی بنیاد پر مساجد و مدارس کی کسی بھی طرح کی شکایت نہ کریں۔بہت سی مساجد اندرونی اختلافات کی نذر ہوئی ہیں۔
4۔قدیم مساجد سے متعلق تاریخی دستاویز تلاشے جائیں۔مسجد سے متعلق اہم اطلاعات/معاملات اور تذکروں کی فائل بنا کر رکھی جائے تاکہ بوقت ضرورت کام آئے۔بہت ساری تاریخی مسجدیں اپنے آپ میں مکمل تاریخ ہونے کے باوجود کاغذی طور پر کمزور پڑ گئیں۔
میرے عزیز!
مومن حالات سے مایوس ہوتا ہے نہ بد دل! مصیبت بڑھتی ہے تو رجوع الی اللہ کرتا ہے۔اپنی خامیوں کو درست کرتا ہے۔فہم و فراست کو اختیار کرتا ہے۔
آئیے اپنے رب کو راضی کریں۔مومنانہ صفات اختیار کریں۔اپنی خامیوں کو خوبیوں میں تبدیل کریں۔حوصلہ بلند رکھیں۔فہم و فراست سے کام لیں۔مایوس ہوں، نہ ہونے دیں۔حق و صداقت کو کردار کا حصہ بنائیں۔سچائی کے علم. بردار بنیں۔کردار کے دھنی بنیں۔زبان پکی نیت سچی اور کوشش اچھی رکھیں۔ان شاء اللہ بہت جلد مشکلوں کے بادل چھٹ جائیں گے اور امن و انصاف کا سورج ایک بار پھر بلند ہوگا۔
تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی ہاشمی
روشن مستقبل دہلی
24 ذوالحجہ 1447ھ
11 جون 2026 بروز جمعرات