ہجوِ گستاخِ رضا معتزلئِ ہند انتساب قدیری

ہِند کے ایک سُوَر نے ہے کیا دعوئ پِیریلاحقہ نام کے ساتھ اپنے لگاتا ہے قدیریانتساب آج تری ہجو لکھوں گا ایسیپڑھ کے حیران جسے ہوں گے بدیل اور نظیری ازقلم: میرزا امجد رازی اے سگِ خارش زدہ اے نطفۂ ناپاک آببَول نوشِ کوزۂ ابلیس نقشِ نجسِ ناب اے خمیرِ خونِ حیض اے رشحۂ فرجِ … Read more

کب تک کہے گا ہائے گیلیکسی کا نوٹ ایٹ

از : میرزا امجد رازیٓ مٹی بھرے گی حضرتِ انسان تیرا پیٹبہتر ہے بند کر لے تو اب خواہشوں کا گیٹ کشتی کو چھوڑ دے تو رضاے خدا پہ بسمت کر کسی بھی خضرِ تحائف کا آج ویٹ بازارِ مصر سمجھا ہے تو بزمِ دوستاںاپنی محبتوں کا لگاتا ہے کیوں تو ریٹ بنتا تو ہے … Read more