متفرقات

سردار ولبھ پٹیل کا نفرتی ذہن اور موجودہ سرکار کا لائحہ عمل

تحریر : محمد اکرم طائر پرتاپ گڑھی 

      سردار ولبھ پٹیل آزاد بھارت کی مشہور ترین نفرتی شخصیات میں سے ایک تھے،  کانگریس کے قد آور لیڈر تھے،  ان کی سیاسی زندگی کی بنیاد گاندھی جی کی مرہون منت ہے،  وہ سیاست میں جو کچھ تھے گاندھی ہی کی وجہ سے تھے،  گاندھی کے بغیر وہ کچھ بھی نہیں تھے،  بھارت کی تقسیم میں جو کچھ کردار جناح کا تھا،  اس سے کچھ کم کردار سردار ولبھ پٹیل کا نہیں تھا، سردار ولبھ پٹیل حد درجہ نفرتی و تعصب پرست لیڈر تھے، انھوں نے اپنی سیاسی قوت کا بھرپور استعمال مسلمانوں کے خلاف کیا،  لاکھوں مسلمانوں کا خون سردار ولبھ پٹیل کی گردن پر ہے،  سردار ولبھ پٹیل نے تقسیم ہند کے دوران ہندو گھرانوں میں باقاعدہ ہتھیار بھجوانے کا کام کیا تھا،  تاکہ ہندو قوم زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کر سکے، تقسیم کے بعد بھارت میں ہونے والے منصوبہ بند فسادات جس میں دسیوں لاکھ انسان اپنی جان گنوا بیٹھے تھے اس کے پیچھے سب سے بڑا شیطانی کردار سردار ولبھ پٹیل کا تھا،  جب گاندھی جی و دیگر ذمہ داران نے سردار ولبھ پٹیل سے اس بابت دریافت کیا تو بڑی بے شرمی سے سردار ولبھ پٹیل نے جواب دیا کہ ہتھیار پہلے مسلمانوں نے اکٹھا کیا، ثبوت کے طور پر چند زنگ آلود چھریاں اور گھریلو استعمال کے چمچے اور دیگر استعمال کی چیزیں جو مسلمان گھرانوں سے ضبط کروائی گئیں تھیں اسے لاکر سامنے رکھ دیا گیا،  اور کہا کہ یہ ہتھیار ہیں جسے مسلمانوں نے اکٹھا کر رکھا تھا،  تقسیم سے کچھ قبل جب بہار کے پٹنہ،  پھلواری شریف اور مونگیر میں ہندوؤں کے ذریعے فساد مچایا گیا تو بستی کی بستیاں اجڑ گئیں،  پورے پورے گاؤں میں ایک بھی انسان زندہ سلامت نہیں بچا،  عزتوں کو تار تار کر دیا گیا،  ایک ایک لڑکی کو درجنوں وحشیوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا،  گاؤں دیہاتوں میں سر اس طرح کٹے پڑے تھے،  گویا گاجر مولی کی ترکاریاں کاٹ کر پھینک دی گئیں ہیں،  گھروں کو چاروں طرف سے گھیر کر نذر آتش کر دیا گیا تھا،  عورتوں کے جتھے کے جتھے اپنی عزت کے تحفظ کیلئے کنوؤں میں کود گئے تھے،  مہینوں تک عورتوں کی سڑی گلی لاشیں کنوؤں میں تیرتی رہیں،  غرضیکہ شیطانیت کا ننگا ناچ بھرپور طریقے سے ناچا گیا،  اس پورے فساد کے پیچھے سردار ولبھ پٹیل اور ان جیسے نفرتی لوگوں کا کردار تھا،  

       سردار پٹیل تنگ نظر، نفرتی ذہن،  تعصبی کردار کے آدمی تھی،  گاندھی کے قتل کے پیچھے بھی سردار ولبھ پٹیل کا کردار رہا ہے،  جس زمانے میں گاندھی کا قتل ہوا،  سردار ولبھ پٹیل وزیر داخلہ تھے،  جب ایک عام آدمی کو ذرا سی دھمکی پر  تحفظ کے لئے سیکورٹی کا بندوبست کر دیا جاتا ہے تو گاندھی جی جیسی قومی شخصیت جس پر ایک بار بم پھینکا جا چکا تھا،  ان کے لئے سردار ولبھ پٹیل نے مضبوط بندوبست کیوں نہیں کیا؟ جبکہ ولبھ پٹیل وزیر داخلہ تھے اور گاندھی جی پٹیل کے سب سے بڑے محسن تھے،  لیکن اس بدکردار عیار نے مسلم دشمنی میں اپنے سب سے بڑے محسن کو بھی نہیں بخشا،  

       آج کی موجودہ ہندووادی سرکار سردار ولبھ پٹیل کے طرز عمل پر کام کر رہی ہے،  جس طرح پٹیل نے لاکھوں مسلمانوں کی لاشوں پر اپنی کرسی براجمان کرنا چاہا، اسی طرح موجودہ سرکار بھی مسلمانوں کی لاشوں پر اپنی کرسی ٹکائے ہوئے ہے، سردار پٹیل کانگریس کے سب سے بڑے تنگ نظر تعصب پرست لیڈر تھے، موجودہ لیڈران اور ان کی پوری پارٹی دیش کی سب سے بڑی تعصبی پارٹی ہے، سردار پٹیل نے مسلمانوں کے جمع کردہ ہتھیاروں کے روپ میں گھریلو چاقو اور چمچوں کو پیش کیا تھا،  اسی طرح موجودہ یوپی سرکار نے ایک معاملہ میں گھریلو کوکر  کو کوکر بم کے طور پر پیش کیا ہے،  یہ بات آپ سبھی کے علم میں ہے کہ دنیا کی سب سے اونچی مورتی جو چھتیس ہزار کروڑ روپے میں موجودہ سرکار نے بنائی ہے وہ سردار ولبھ پٹیل کی ہے،  در اصل اس مورتی کے ذریعے حکومت وقت نے مسلمانوں کو ایک پیغام دیا ہے کہ جو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہوگا وہ ہمارا سب سے مہان آدرش ہوگا،  لیکن افسوس تو تب ہوتا ہے جب ہمارے اپنے مقررین و خطباء سردار ولبھ پٹیل جیسے نفرتی و تعصبی لوگوں کو آزادی کے ہیرو کے طور پر پیش کرتے ہیں،  مصیبت یہ ہے کہ ہم لوگ چند رٹی رٹائی اور سنی سنائی افواہوں سے آگے بڑھنے کا خیال بھی دل میں نہیں لاتے ہیں،  تاریخ سے تو جیسے دشمنی ہوگئی ہے،  ہمارے نصابوں میں تاریخ کو بطور سبق نہیں بطور خارجی مطالعہ پڑھایا جا رہا ہے، اگر یہی حال رہا تو نئی نسل  تو آگے چل کر خود کو گاندھی اور نہرو کی مرہون منت سمجھ بیٹھیں گی،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے