غزل

غزل : غم کے منہ میں لگام بنتاہوں ۔

رشحات قلم : سید اولاد رسول قدسی مصباحی

شاخ پر پخته آم بنتا ہوں
گرکے دھرتی پہ خام بنتا ہوں
شدتوں پر حرام بنتا ہوں
سرد آہوں کی شام بنتا ہوں
زر کی فوجیں لہولہان ہوئیں
غربتوں کا نیام بنتا ہوں
گھورتی ہے یہ مد بھری عشرت
حزن کی لَے کا جام بنتا ہوں
عزم محکم کا ہوں میں کوہ گراں
غم کے منہ میں لگام بنتا ہوں
تلخیوں کے اتھاہ ساگر میں
خوش روی کا پیام بنتا ہوں
میں ہوں ٹوٹا ہوا عجب دھاگا
مل کے گرہوں سے تام بنتا ہوں
توڑ کر ساری کشتیاں قدسیؔ
بحر پر تیز گام بنتا ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے