کیسی وبا یہ پھوٹ پڑی اے مرے خدا !ہر شہر جس نے شہر خموشاں بنا دیا:

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

تحریر : شمیم رضا اویسی امجدی

ایک عجیب سی بے چینی اور اضطرابی کیفیت طاری ہے کہ آخر یہ کیا ہو رہا ہے اتنی کثرت سے اموات، سکستی انسانیت، جید علماء کے قافلے کا برق رفتاری سے منزلِ اصلی کی طرف بڑھنا، ہر وقت دل کو تڑپا رہا ہے، اندر سے چیخیں اٹھ رہی ہیں، زندگی کے سکون پامال ہو رہے ہیں، لبوں کی مسکراہٹ غارت ہو رہی ہے، آنکھیں ندیاں بن کر بہنے لگی ہیں، زبانیں استرجاع کے کلمات پڑھ پڑھ کر تھک گئی ہیں، ابھی گزشتہ سال کی سخت مہاماری سے بے حال انسان پوری طرح سنبھلا بھی نہ تھا کہ کرونا کی دوسری خوفناک لہر نے پورے ہندوستان میں ہاہاکار مچا دی ہے، پوری انسانیت تباہ و برباد ہو رہی ہے ، بساطِ عالم پہ بہت کچھ اُتھل پتھل ہو رہی ہے، اس وبائی مرض نے دوسری جنگِ عظیم کی طرح ایک تاریخی واقعے کی شکل اختیار کر لی ہے، انسانی زندگی کے تمام شعبے متاثر ہیں، پوری دنیا بالخصوص ہندوستان شدید بحران کی لپیٹ میں آ چکا ہے، لاک ڈاؤن اور حکومتی قواعد و ضوابط کی وجہ سے بہت ساری کمپنیاں بند ہونے کی کگار پر ہیں، قومی معیشت بے حال ہے اور اِن ناگفتہ بہ حالات سے سب سے زیادہ معاشرے کے متوسط اور غریب طبقے کے لوگ مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں، مختلف امراض میں مبتلا اسپتالوں کی طرف رجوع کرنے والے ہزاروں مریض سہولیات اور وسائل کی عدمِ دستیابی کی وجہ سے اپنی جانیں گنوا رہے ہیں، ہر طرف آہ و فغاں، ہر طرف روتے بلکتے ہوئے لوگ،

شاید ہندوستان کی تاریخ میں ایسا آشوبناک دور چشمِ فلک نے پہلی بار دیکھا ہوگا، جب قبرستان میں جگہ اس قدر تنگ ہو گئی کہ دو گز زمین ملنا بھی مشکل ہو گیا اور حالت یہ بن گئی کہ ایک ہی قبر میں کئی کئی مردے دفنانے پر لوگ مجبور ہو گئے ، شمشان گھاٹ میں لاشوں کو جلانے کے لیے لکڑیاں کم پڑ گئیں ، میت کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے قبرستان اور شمشان کے باہر گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے ، سہمی ہوئی انسانیت اسطرح سانسوں کے درمیان الجھ گئی ہے کہ پلک جھپکتے ہی کب کس کے مرنے کی خبر آ جائے، کب کون کس حال میں کس موڑ پر ساتھ چھوڑ جائے، کچھ بھی کہا نہیں جا سکتا، اسپتالوں کے اندر مریضوں کی ایک لا تعداد بھیڑ تو اسپتالوں کے باہر دم توڑتے ہوئے مریضوں کی ایک لمبی قطار،

نہ جانے کتنے گھربار تباہ و برباد ہو گئے، نہ جانے کتنے آباد آشیانے اجڑ گئے، نہ جانے کتنے بچے یتیم ہو گئے، نہ جانیں کتنی ماؤں نے اپنے لال کھو دیئے، نہ جانے کتنی بیویوں کے سہاگ لٹ گئے، گویا اس بے بسی اور بے قراری کی صورتحال نے ایک عام ماتمی ماحول پیدا کر دیا ہے،

لہٰذا آج ہمیں ان حالات سے سبق لینے کی ضرورت ہے اِس طور پر کہ ہم سب اپنے خالقِ حقیقی کی طرف لَو لگائیں، سچے دل سے توبہ کریں، اُسکی مرضی اور اُسکے اشاروں کو سمجھنے کی کوشش کریں، ساتھ ہی ہم سنجیدگی اختیار کریں کہ یہ وقت إلى ربك فارغب کی صدا بلند کرنے کا ہے، یہ موقع ففروا إلى الله، إني لكم منه نذير مبين کی دعوت زور و شور سے اٹھانے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا ہے،

دعا ہے رب قدیر امت مسلمہ پر اپنا رحم و کرم فرمائے، جو مسلمان اس وبا کی زد میں آکر اپنی زندگی کی بازی ہار گئے انکی مغفرت فرمائے اور جو باحیات ہیں انہیں سلامتی کے ساتھ عمر دراز عطا فرمائے : آمین

٢٠/ رمضان المبارک ١٤٤٢ھ
3/ مئی 2021 ء
بروز سوموار

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

کپڑے ہی سب کچھ نہیں ہوتے !!

ازقلم: غلام مصطفےٰ نعیمیروشن مستقبل دہلی یادش بخیر!زمانہ طالب علمی تھا، ہمارے عزیز دوست مولانا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔