تحریر: محمد ہاشم اعظمی مصباحی، نوادہ مبارک پور
مکرمی! اس دنیائے فانی میں کسب معاش کی بہت سی صورتیں موجود ہیں ان میں جو بھی جائز صورت ہو ، اسے اختیار کرنے میں مضائقہ نہیں ،لیکن سب سے زیادہ بابرکت ذریعۂ معاش تجارت ہے ۔ اسی لئے رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ : دیانت دارانہ تجارت میں اللہ تعالی کی مدد ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ باوجود یکہ حضورﷺ کی رفاقت سے تھوڑی سی بھی محرومی پسند نہیں کرتے ۔ لیکن پھر بھی آپ کی موجودگی میں بصرہ کا تجارتی سفر کیا اور حضورﷺ کو بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا فراق پسند نہیں تھا ، لیکن آپؐ نے ان کو اس سے منع نہیں فرمایا ۔آپﷺ نے خود تجارت فرمائی ، حضرت ابوبکرؓ ، حضرت عمرؓ ، حضرت عثمان ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اور اکثر مہاجرین کا ذریعہ معاش تجارت ہی تھا ۔ حضرت علیؓ چونکہ حضورﷺ کی خدمت میں مشغول رہتے تھے اس لئے انہیں اس کا موقع کم ملا تاہم گاہے بگاہے انہوں نے بھی تجارت فرمائی ۔سرخیل فقہا امام ابوحنیفہ بڑے تاجروں میں تھے ۔ راس المحدیثیں امام بخاریؒ بھی تجارت کیا کرتے تھے ۔ اسی طرح اکثر سلف صالحین کا ذریعہ معاش تجارت تھا ان کا یہ مشغلہ اس لئے بھی تھا کہ وہ اپنے آپ کو حکومت اور اہل ثروت کے احسان سے بچا کر رکھنا چاہتے تھے۔
صاحبِ کنز العُمال نے ایک حدیث نقل کی ہے: "تسعۃ اعشار الرزق فی التجارۃ ، والعشر فی المواشی”( الفصل الثالث فی انواع الکسب)
"رزق کا نوے (٩۰) حصہ ، تجارت میں اور باقی دس حصہ، مویشی پروری میں ہے”۔ اتحاف الخیرۃ اور جامع صغیر للسیوطی میں بھی یہ حدیث، محدث نعیم بن عبد الرحمن ازدی اور بعض دیگر رواۃ مثلا یحیی بن جابر طائی وغیرہ سے بھی مروی ہے۔
بعض مقامات پر ” والعشر الباقی فی السائمۃ” کے کلمات وارد ہیں۔ البانی اور اس کے حواریوں نے اپنی عادت کے مطابق، اس حدیث کو صرف اس لیے ضعیف قرار دیا ہے کہ یہ روایت، صحاح، مسانید اور معاجم کی مشہور کتب میں مذکور نہیں ۔سند کے اعتبار سے حدیث، ضعیف ہی سہی، مگر تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ تجارت واقعی بے شمار برکتوں کی حامل ہے۔ یہی کیا کم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تجارت فرمائی، اور بکثرت صحابہ، تابعین، اور ائمہ وعلما کا تجارت کرنا، تواتر سے ثابت ہے جب کہ ملازمت کی فضیلت کے بارے میں کوئی ضعیف حدیث پیش کرنا بھی مشکل امر ہے۔اس لیے میں بڑی معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ہمارے علما وائمہ کو چاہیے کہ ملازمت وزراعت کا چکر چھوڑ کر، تجارت کا پیشہ اپنائیں، اور دین کا کام سیٹھوں کی جھڑکیاں کھاکر نہیں، بلکہ اپنی حلال کمائی سے مفت میں کریں۔یاد رہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما تاجروں کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ :یہ زمین میں، اللہ تعالیٰ کے سفیر اور امین ہیں۔اور ترمذی شریف کی حدیث ہے: سچے اور امانت دار تاجر کا حشر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا ۔