مضامین و مقالات

کفرفقہی کے اقسام واحکام (قسط ششم)

تحریر : طارق انور مصباحی

مبادی صفات الٰہی کا انکار

ضروریات دین وہ دینی امور ہیں جو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ مروی ہوں۔تواتر کے ساتھ مروی امور قطعی بالمعنی الاخص ہوتے ہیں۔ان میں احتمال بعید کی بھی گنجائش نہیں ہوتی۔

ضروریات دین کا ثبوت اجماع شرعی سے نہیں ہوتا۔اجماع شرعی یا اجتہاد سے ثابت ہونے والا امر نظری ہوتا ہے۔ضروری وبدیہی نہیں ہوتا۔جب کہ ضروریات دین بدیہی امور ہیں۔

قطعی بالمعنی الاعم امور، ضروریات دین کی قسم دوم ہیں۔ان کو ضروریات اہل سنت کہا جاتا ہے۔ہمارے علم کے مطابق ضروریات اہل سنت میں تین قسم کے امور شامل ہیں:

(۱)وہ دینی امر جس پر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا اجماع منصوص (اجماع قولی،غیر سکوتی)ہو،جیسے حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی خلافت۔

جس امردینی پر حضرات صحابہ کرام کا اجماع منصوص ہو،اس پرکوئی قطعی بالمعنی الاعم دلیل ہو،یا ظنی دلیل ہو، یا قیاس کے ذریعہ کسی امر پر اجماع ہو، تینوں صورتوں میں وہ امر ضروریات اہل سنت میں سے ہے۔یہ صرف اجماع صحابہ کی خصوصیت ہے۔یہ اجماع شرعی ہے۔ضروریات دین میں اجماع متصل ہوتا ہے۔ ماقبل کے مضامین میں تفصیل مرقوم ہے۔

(۲)فرض اعتقادی یعنی وہ قطعی بالمعنی الاعم امردینی جس کی فرضیت پر مجتہدین غیر صحابہ کا اجماع ہو۔فرض قطعی یعنی جو فرض قطعی بالمعنی الاخص ہو، وہ ضروریات دین سے ہے۔

فرض اعتقادی کی دلیل قطعی بالمعنی الاعم ہوتی ہے،اسی لیے وہ ضروریات اہل سنت میں سے ہے۔اگر کسی امر کی دلیل قطعی بالمعنی الاعم نہ ہوتواس کی فر ضیت پر اجماع نہیں ہوگا۔

درحقیقت کسی امر کی فرضیت یاوجوب پر اجماع شرعی دلائل کی روشنی میں ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ حضرات ائمہ مجتہدین اپنی مرضی سے کسی امر کی فرضیت پر اتفاق کرلیتے ہیں۔
فرائض کے اقسام میں سے ایک فرض عملی ہے۔قرائن کے سبب اس کی دلیل کسی مجتہد کی نظر میں قطعی ہوجاتی ہے،پس وہ اسے فرض قرار دیتے ہیں،لیکن چوں کہ دلیل حقیقت میں قطعی بالمعنی الاعم نہیں ہے،بلکہ ظنی ہے تو دیگر مجتہدین اس کی فرضیت سے اختلاف کرتے ہیں،کیوں کہ ظنیات میں اجتہاد جاری ہوتا ہے۔

قطعی بالمعنی الاعم اورقطعی بالمعنی الاخص میں اجتہاد جاری نہیں ہوتا ہے۔ فرض اعتقادی کی دلیل قطعی بالمعنی الاعم ہوتی ہے،پس مجتہدین اس میں اجتہاد نہیں کرتے،بلکہ اس کی فرضیت پر اتفاق کرتے ہیں۔چوں کہ فرض اعتقادی کے تعین میں مجتہدین کے اتفاق کا دخل ہے،اسی لیے اس کی فرضیت حضرات ائمہ مجتہدین کے اجماع کی طرف منسوب ہوتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کی فرضیت پر تمام مجتہدین کا اجماع ہوتا ہے۔

(۳) وہ امر دینی جوحضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے متواتر نہ ہو،لیکن اس کو نہ ماننے سے کسی ضروری دینی کا بطلان لازم آئے،پس ایسا امر ضروریات اہل سنت میں شمار ہوتا ہے۔خواہ ایسے امر کا ثبوت دلیل سمعی سے ہویا نہ ہو۔ ایسے امرکی حقانیت پراہل حق کا اجماع ہوتا ہے۔ایسے اجماعی امور ضروریات اہل سنت میں سے ہیں۔

صفات الٰہی کے مبادیات کا شمار ضروریات اہل سنت میں ہوتا ہے،کیوں کہ مبدا کے انکارسے صفت کا انکار لازم آتا ہے،لیکن اصحاب تاویل مبدا کا انکار کرتے ہیں اور صفت کا اقرار کرتے ہیں۔

چوں کہ مبادی صفات ضروریات اہل سنت میں سے ہیں،اس لیے تاویل کے ساتھ ان کا انکار متکلمین کے یہاں کفر نہیں،بلکہ ضلالت وگمرہی ہے۔

معتزلہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عالم ہے،لیکن صفت علم سے متصف نہیں۔ اس سے اللہ تعالیٰ کے عالم ہونے کا انکار لازم آتا ہے،کیوں کہ جب کوئی صفت علم سے متصف نہ ہو تووہ عالم نہیں،لیکن معتزلہ تاویل فاسد کے سبب ایسا کہتے ہیں۔معتزلہ کا خیال ہے کہ ذات الٰہی بعینہ صفات الٰہی ہے،ورنہ متعددامور کا قدیم ہونا لازم آئے گا،پس معتزلہ نے صفت علم کا من کل الوجوہ انکار نہ کیا،نہ ہی اللہ تعالیٰ کے عالم ہونے کا انکار کیا۔
اہل سنت وجماعت کے یہاں صفات الٰہیہ بھی قدیم ہیں اور ذات الٰہی بھی قدیم، لیکن متعددذات کا قدیم ہونا محال ہے۔ذات قدیم کی صفات قدیم ہوں تو اس سے متعدد ذات کا قدیم ہونا ثابت نہیں ہوتا۔

الحاصل اس قسم کی ضروریات اہل سنت کا انکار کفر لزومی کہلاتا ہے، کیوں کہ اس سے کسی ضروری دینی کا انکار لازم آتا ہے۔

جب اس لزوم کا التزام ہوجائے،تب کفر کلامی کا حکم عائدہوگا،لیکن اصحاب تاویل کسی تاویل کے سبب ضروریات اہل سنت کا انکارکرتے ہیں،وہ کسی ضروری دینی کا صریح انکار نہیں کرتے،اس لیے متکلمین ان پرکفرکا حکم عائدنہیں کرتے،بلکہ ایسے لوگوں کوگمراہ کہتے ہیں۔ فقہائے کرام ایسے امور کے انکار پر کفر فقہی کا حکم نافذکرتے ہیں۔

ضروریات اہل سنت کا انکاراورتضلیل وتکفیر:

(1)قال القاضی:(فَاَمَّا مَن اَثبََتَ الوصف ونفی الصفۃ فقال:اقول عالمٌ ولکن لاعلمَ لَہ ومتکلمٌ ولکن لَا کَلَامَ لَہٗ-وہکذا فی سائرالصفات علٰی مذہب المعتزلۃ-فَمَن قَالَ بالمَاٰلِ لِمَایؤدیہ الیہ قولُہ وَیَسُوقُہ اِلَیہِ مَذہَبُہ کَفَّرَہٗ-لانہ اذا نَفَی العِلمَ انتفی وصفُ عَالِمٍ،اِذ لَا یوصف بعالم الا من لہ عِلمٌ-فَکَاَنَّہُم صَرَّحُوا عندہ بما اَدّٰی اِلَیہِ قَولُہُم وہکذا عند ہذا سَاءِرُفرق اہل التاویل من المشَبِّہَۃِ وَالقَدرِیَّۃِ وغیرہم۔
وَمَن لَم یَرَ اَخذَہُم بِمَاٰلِ قَولِہِم ولا اَلزَمَہُم مُوجَبَ مَذہَبِہِم لَم یَرَ اِکفَارَہُم-قَالَ،لاَِنَّہُم اذا وُقِّفُواعَلٰی ہٰذَا، قالوا:لانقول”لَیسَ بِعَالِمٍ”وَنَحنُ نَنتَفِی من القول بالمَاٰل الذی اَلزَمتُمُوہُ لَنَا ونعتقد نحن وانتم انہ کفر-بل نقول اِنَّ قَولَنَا لَایؤولُ الیہ علٰی مَا اَصَّلنَاہ-فَعَلٰی ہذین الماخذین اختلف الناسُ فی اِکفَارِہِم وَالاِعرَاضِ عن الحتم علیہم بالخُسران)
(کتاب الشفا: جلددوم:ص294)

توضیح: جولوگ تاویل کے ذریعہ ضروریات اہل سنت کا انکار کرتے ہوں،جس انکار کے سبب کسی ضروری دینی کا انکار لازم آتا ہو،لیکن ضروری دینی کاصریح انکار نہ ہو، نہ ہی اہل تاویل صریح انکار کوتسلیم کرتے ہوں،بلکہ ضروری دینی کے انکارکاصریح انکار کرتے ہوں تو متکلمین ایسے لوگوں کو گمراہ کہتے ہیں،اور فقہا ایسے لوگوں کوکافر فقہی قرار دیتے ہیں۔
چوں کہ یہا ں ضروریات اہل سنت میں سے کسی امر ضروری کا انکار ہوتا ہے،اسی لیے متکلمین انہیں گمراہ قرار دیتے ہیں۔جو لوگ ضروریات دین کاصریح انکار کرتے ہیں اور پھر تاویل باطل کرتے ہیں،وہ بالکل ناقابل قبول ہے۔عہدحاضر کے دیابنہ ضروریات دین میں تاویل کرکے کفرکے مرتکب ہوئے۔اب اس خندق میں ہزاروں متبعین بھی گرپڑے۔

(2)قال القاضی:(فَصلٌ فِی تحقیق القول فی اِکفَارِ المتأولین-قد ذکرنا مذہب السلف فی اِکفَارِاَصحَابِ البدع والاہواء المتأولین ممن قال قولًا یؤدیہ مَسَاقُہ الٰی کفر-ہو اِذَا وُقِّفَ عَلَیہ لایقول بما یؤدیہ قولُہ الیہ-وَعَلٰی اختلافہم اختلف الفقہاءُ والمتکلمونَ فی ذلک-فَمِنہُم مَن صَوَّبَ التَّکفیر الذی قال بہ الجمہور من السلف-ومنہم من اَبَاہ وَلَم یَرَ اِخرَاجَہُم مِن سَوَادِ المُومنین وہو قول اکثر الفقہاء والمتکلمین-وَقَالُوا: ہم فُسَّاقٌ عُصَاۃٌ ضُلَّالٌ)(کتاب الشفاء:جلددوم:ص376)

توضیح:منقولہ بالاعبارت کا مفہوم یہ ہے کہ جمہور فقہا اصحاب تاویل کی تکفیر کرتے ہیں اور اکثر فقہا ومتکلمین انہیں گمراہ قراردیتے ہیں۔ اس عبارت کی تشریح مابعدمیں مرقوم ہے۔

(3)علامہ شہاب الدین خفاجی حنفی نے منقولہ بالاعبارت کی تشریح میں رقم فرمایا:
((اختلف الفقہاءُ وَالمتکلمون فی ذلک)ای فی تکفیرہم وعدمہ بناءً عَلٰی مَسءَلَۃٍ اُصُولِیَّۃٍ وَہی اَنَّ لازمَ المذہب ہل ہو مذہب ام لا(فمنہم) ای الفقہاء والمتکلمین(مَن صَوَّبَ) بتشدید الواؤ ای عَدَّہ صَوَابًا صَحِیحًا والتصویب ضد التخطءۃ(التکفیر) ای القول بکفرہم (الذی قال بہ الجمہور من السلف)ای اَکثَرُہُم نَظرًا لِمَا یؤدی الیہ صَونًا لِحَظَاءِرِ القدس وَحِمَایَۃً لِجَانِبِ الربوبیۃ-والتکفیر والاکفار بمعنًی-وَمَن قَالَ: الاول انما ہو من الکفارۃ فَقَد اَخطَاءَ کَمَا فی المغرب وغیرہ من کتب اللغۃ۔

(ومنہم من اَبَاہ)ای مَنَعَ تکفیرہم بمثلہ(وَلَم یَرَ اِخرَاجَہُم)اَی اِخرَاجَ ہٰؤلَاء القائلین بِمَا ذُکِرَ(من سواد المسلمین)وفی نسخ”المومنین“ صَونًالاَِہلِ القبلۃ للاحادیث الواردۃ فی النہی عنہ…………………………
(وہو قول اکثر الفقہاء والمتکلمین)وقد عَلِمتَ انہ بناءً علی الظاہروالاکثر-وَلَیسَ عَلٰی اطلاقٍ -وذلک لانہ بتعلقہ بذلک من مسائل الکلام من وجہٍ ومسائل الفقہ من وجہٍ(وَقَالُوا ہُم)اَی اہل البدع(فُسَّاقٌ)کَکُفَّارٍ جمع فاسق(عُصَاۃٌ)لارتکا بہم کبائرمن فساد العقائد والاعمال(ضلال))(نسیم الریاض جلدچہارم:ص481- دار الکتاب العربی بیروت)

(4)قال القاری:((اختلف الفقہاء والمتکلمون فی ذلک)ای فی تکفیرہم(فمنہم من صَوَّبَ التکفیر الذی قال بہ الجمہور من السلف ومنہم من اَبَاہ)ای التکفیر(ولَم یَرَ اخراجہم من سواد المسلمین)ای عمومہم(وہو قول اکثر الفقہاء)کابی حنیفۃ والشافعی وغیرہما(و المتکلمین)ای اکثرہم من الاشعریۃ والماتریدیۃ)
(شرح الشفا:جلدچہارم:ص481- دار الکتاب العربی بیروت)

ایک شبہہ کا ازالہ:

کتاب الشفا کی منقولہ بالاعبارت میں (فمنہم من صوب التکفیرالذی قال بہ الجمہور من السلف:الخ)میں ”ہم“ ضمیر کا مرجع ”الفقہاء“کو قرار دیا جائے تومفہوم یہ ہوگا کہ فقہا کا ایک طبقہ اصحاب تاویل کی تکفیر کرتا ہے۔

اگر مذکورہ ضمیرکا مرجع ”الفقہا ء والمتکلمون“کے مجموعہ کوبنایا جائے تو مفہوم ہوگا کہ فقہاومتکلمین کا جو حضرات اصحاب تاویل کی تکفیر کرتے ہیں،وہ حضرات تکفیر کریں گے۔

سوال: اصحاب تاویل کے قول سے کسی ضروری دینی کا لزومی انکار ہوتا ہے توبعض متکلمین اصحاب تاویل کی تکفیر کیسے کرسکتے ہیں۔متکلمین التزام کفر کے وقت تکفیر کرتے ہیں؟

جواب: فقہا ومتکلمین میں سے جو حضرات باب تکفیر میں فقہا کے مذہب پر ہیں،وہ حضرات، اصحاب تاویل کی تکفیر کرتے ہیں۔

سوال:کیا بعض متکلمین بھی باب تکفیر میں فقہا کے مذہب پر ہیں؟

جواب:فقیہ اسے کہا جاتا ہے جو فقہ سے مشغولیت رکھتے ہیں۔متکلم اسے کہاجاتا ہے جوعلم کلام سے مشغولیت رکھتے ہیں۔باب تکفیر میں دومذہب ہے۔ ایک مذہب کومذہب متکلمین کہا جاتا ہے اور ایک مذہب کومذہب فقہا کہا جاتا ہے۔ بہت سے فقہا ئے کرام باب تکفیر میں متکلمین کے مذہب پر ہیں اوربعض متکلمین باب تکفیر میں فقہا کے مذہب پر ہیں۔

حضرت امام احمد بن حنبل (241-164ھ)اپنے عہد میں امام المتکلمین تھے۔ آپ باب تکفیر میں اسی مذہب پر تھے جس کو بعد میں مذہب فقہا کے لقب سے شہرت ملی۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ باب تکفیرمیں اس مذہب پر تھے، جس کو بعد میں مذہب متکلمین کہا گیا۔ قاضی عیاض مالکی قدس سرہ العزیز کی کتاب الشفا کی عبارتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی باب تکفیر میں اسی مذہب پر تھے، جوبعد میں مذہب فقہا کے لقب سے مشہور ہوا:واللہ تعالیٰ اعلم

سال ۸۱۲؁ھ سے سال ۲۳۲؁ھ تک یعنی قریباً چودہ (14) سال تک اہل سنت وجماعت کے ساتھ خلفائے بنی عباس کے مظالم کا ایک طویل سلسلہ جاری رہا۔مامون رشید کے عہد سے اہل سنت وجماعت پرظلم وستم کا آغاز ہوا، اور متوکل بن معتصم کے عہد میں یہ مظالم ختم ہوئے۔ اس مدت کواسلامی تاریخ میں ”ایام محنت“کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ سخت آزمائش کازمانہ تھا۔ معتزلہ نے عباسی خلفا کو اپنا ہمنوا بنالیا تھا۔جو حضرات خلق قرآن کے قائل نہ ہوتے،انہیں قتل کردیا جاتا،یا سخت اذیت دی جاتی۔

اس سخت آزمائش کے زمانے میں اہل سنت وجماعت کے قائد اول اور رہبراعظم حضرت امام احمد بن حنبل تھے۔آپ اس زمانے کے سب سے عظیم متکلم تھے۔مجتہد مطلق اور سب سے بڑے محدث تھے۔آ پ کودس لاکھ احادیث مقدسہ زبانی یاد تھیں۔معتزلہ کو آپ نے مناظروں میں ہمیشہ لاجواب کیا۔کئی سال تک آپ قیدخانے میں رہے۔معتزلہ کا خیال تھا کہ آپ خلق قرآن کے قائل ہوگئے تو تمام اہل سنت وجماعت بھی اس عقیدہ کومان لیں گے۔

اسی خلق قرآن کے مسئلہ کے سبب علم کلام کا نام کلام ہوا،یعنی وہ علم جس میں کلام الٰہی کے غیر مخلوق ہونے کی بحث کی جاتی ہے۔الحاصل بعض متکلمین باب تکفیر میں مذہب فقہا پر ہیں کہ وہ ہرقطعی کے انکار پر حکم کفر عائد کرتے ہیں،اوراکثر فقہاباب تکفیر میں مذہب متکلمین پر ہیں۔

قائلین تکفیر کی قلت:

ضروریات اہل سنت کے انکار پر تکفیر کرنے والے قلیل التعداد ہیں۔فقہائے احناف اوران کے مؤیدین تکفیر کرتے ہیں،جب کہ بہت سے فقہائے احناف اورمذاہب اربعہ میں سے دیگرفقہی مذاہب کے بہت سے فقہا اور متکلمین تضلیل کرتے ہیں۔

علامہ فضل رسول بدایونی قدس سرہ العزیزنے رقم فرمایا:
(ان معرفۃ المسائل الاعتقادیۃ فرض عین علی کل مکلف عند جمہور اہل السنۃ والجماعۃ-واتفقوا علی ان ماکان منہا من اصول الدین ضرورۃ یکفر المخالف فیہ-وما لیس من ذلک فذہب جماعۃ الی تکفیر المخالف -والاستاذ ابواسحق الی تکفیر من کفرنا منہم
وجمہور الفقہاء والمتکلمین الی انہ لایحکم بکفر احد من المخالفین فیما لیس من الاصول المعلومۃ ضرورۃ من الدین-ولکن المخالف فیہا یبدع ویفسق بناء علی وجوب اصابۃ الحق فی مواضع الاختلاف فی اصول الدین عینا وعدم تسویغ الاجتہاد فی مقابلتہ بخلاف الفروع التی لم یجمع علیہا) (المعتقد المنتقد:ص10-11-المجمع الاسلامی مبارکپور)

توضیح:تکفیر کے قائلین کاذکر ان لفظوں میں فرمایا:(فذہب جماعۃ الی تکفیر المخالف)
عدم تکفیر کے قائلین کاذکراس طرح فرمایا:(وجمہور الفقہا ء والمتکلمین الی انہ لا یحکم بکفر احدمن المخالفین)۔عدم تکفیر جمہور فقہا ومتکلمین کا مذہب ہے،اور تکفیر ایک جماعت کا مذہب ہے۔وہ جمہور کا مذہب نہیں۔اس سے واضح ہوگیا کہ اکثر اہل سنت وجماعت عدم تکفیر کے قائل ہیں۔جمہور اہل سنت وجماعت عدم تکفیر کے قائلین ہیں۔

لزوم والتزام میں فرق
بہت سے فقہالزوم کفر کے وقت کفر کا حکم نافذکرتے ہیں اور متکلمین اوربہت سے فقہا التزام کفر کے وقت حکم کفر جاری کرتے ہیں۔لزوم والتزام کی تشریح مرقومہ ذیل ہے۔

لزوم کفرکا مفہوم:

معتزلہ کہتے ہیں کہ معدوم شئ ہے۔اس سے بلا تخلیق کے ہیولیٰ کا وجود لازم آتا ہے، نیزاس صورت میں ممکنات کا قدیم ہونااور کسی خالق کا محتاج نہ ہونا لازم آتا ہے،جب کہ ممکنات کے قدیم ہونے کا عقیدہ کفرہے،کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی قدیم نہیں۔
متکلمین اس لزوم کفر کے سبب حکم کفر جاری نہیں کرتے،کیوں کہ معتزلہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے قدیم ہونے کا صریح لفظوں میں انکار کرتے ہیں،گرچہ ان کے کلام سے لزومی طورپر ممکنات کاقدیم ہونا ثابت ہوتا ہے۔عدم التزام کے سبب حکم کفر نہیں۔معتزلہ کی عدم تکفیر کی وضاحت میں قاضی عضدالدین شافعی نے فرمایا کہ لزوم والتزام میں فرق ہے۔

قاضی عضدالدین شافعی نے رقم فرمایا:((وقلنا)ما ذکرتم الزام الکفر علیہم بما ذہبوا الیہ(والالزام غیر الاالتزام-واللزوم غیر القول بہ))
(شرح مواقف: ص727)

قال التفتازانی:(ان من لزمہ الکفر ولم یقل بہ فلیس بکافر)
(شرح مقاصد: جلددوم:ص270)

التزام کفر کا مفہوم:

التزام کفر کا مفہوم یہ ہے کہ ضروریات دین میں سے کسی امرکا مفسریعنی صریح متعین انکار کیا جائے۔گرچہ منکراپنے انکار کی تاویل کرتا ہو۔ضروریات دین میں تاویل کی گنجائش نہیں ہوتی۔متواتر معنی کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔التزام کفر کی توضیح مندرجہ ذیل ہے۔

قال الامام احمد رضا القادری:(نَعَم،اَلرَّاجِحُ عِندَنَا اَنَّ لَا اِکفَارَ اِلَّا بِالاِلتِزَامِ-وَلَا نُرِید بہ ان یلتزم کونہ کافرًا-فان اَحَدًا من عبدۃ الاوثان اَیضًا لَا یَرضٰی لِنَفسِہ بتسمیۃ الکافر-وانما المَعنٰی اَن یَلتَزِمَ اِنکَارَ بَعضِ ما ہو من ضروریات الدین-وَاِن زَعَمَ اَنَّہ من کملاء المسلمین-وَاَنَّ لَہ تَاوِیلًا فی ہذا الانکار المہین-کَمَا بَیَّنتُہ فی ”سُبحٰٰن السبوح“)
(المعتمد المستند: ص213-المجمع الاسلامی مبارک پور)

لزوم والتزام کی تشریح:

اعلیٰ حضرت امام احمد رضاقادری نے تحریرفرمایا:”پھر یہ انکار،جس سے خدا مجھے اور سب مسلمانوں کوپناہ دے،دوطرح ہوتا ہے۔لزومی والتزامی۔ التزامی یہ کہ ضروریات دین میں سے کسی شئ کا تصریحا ً انکارکرے۔یہ قطعاً اجماعاًکفر ہے۔اگرچہ نام کفر سے چڑے، اورکمال اسلام کادعویٰ کرے۔کفر التزامی کے یہی معنی نہیں کہ صاف صاف اپنے کافر ہونے کا اقرار کرتا ہو،جیساکہ بعض جہال سمجھتے ہیں۔یہ اقرار تو بہت طوائف کفار میں بھی نہیں پایا جائے گا۔ہم نے دیکھا ہے،بہتیرے ہندو کافر کہنے سے چڑتے ہیں،بلکہ اس کے یہ معنی کہ جو انکاراس سے صادر ہوا،یاجس بات کا اس نے دعویٰ کیا،وہ بعینہ کفر ومخالف ضروریات دین ہو،جیسے طائفہ تالفہ نیاچرہ کا وجود ملک وجن وشیطان وآسمان ونار وجنان ومعجزات انبیا علیہم افضل الصلوٰۃوالسلام سے ان معانی پر کہ اہل اسلام کے نزدیک حضور ہادی برحق صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے متواتر ہیں،انکار کرنا اوراپنی تاویلات باطلہ وتوہمات عاطلہ کو لے مرنا،نہ ہرگز ہرگز ان تاویلوں کے شوشے انھیں کفر سے بچائیں گے،نہ محبت اسلام وہمدردی قوم کے جھوٹے دعوے کام آئیں گے:قاتلہم اللہ انی یؤفکون

اور لزومی یہ کہ جوبات اس نے کہی،عین کفر نہیں،مگر منجر بکفر ہوتی ہے،یعنی مآل سخن ولازم حکم کوترتیب مقدمات وتمیم تقریبات کرتے چلئے توانجام کار اس سے کسی ضروری دین کا انکار لازم آئے،جیسے روافض کا خلافت حقہ راشدہ خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت جناب صدیق اکبر وامیرالمومنین حضرت جناب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے انکار کرنا کہ تضلیل جمیع صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی طرف مؤدی اوروہ قطعاً کفر،مگر انھوں نے صراحۃً اس لازم کا اقرار نہ کیاتھا،بلکہ اس سے صاف تحاشی کرتے اور بعض صحابہ یعنی حضرات اہل بیت عظام وغیرہم چند اکابرکرام علیٰ مولاہم وعلیہم الصلوٰۃوالسلام کوزبانی دعووں سے اپنا پیشوا بتاتے اورخلافت صدیقی وفاروقی پر ان کے توافق باطنی سے انکاررکھتے ہیں۔اس قسم کے کفر میں علمائے اہل سنت مختلف ہوگئے۔جنہوں نے مآل مقال ولازم سخن کی طرف نظر کی،حکم کفر فرمایا اورتحقیق یہ ہے کہ کفر نہیں،بدعت وبدمذہبی وضلالت وگمرہی ہے“۔(فتاویٰ رضویہ:جلد ششم: ص266-رضا اکیڈمی ممبئ)

اصحاب تاویل کے حکم میں اختلاف کا سبب کیاہے؟

متکلمین لازم مذہب کو مذہب تسلیم نہیں کرتے، کیوں کہ جب ملزمین سے اس کا بارے میں سوال کیا جاتا ہے تووہ لازم مذہب کو تسلیم نہیں کرتے۔لازم مذہب کا صریح انکار کرنے کے سبب لازم مذہب کوان کا مذہب قرار نہیں دیا جاسکتا،پس متکلمین لزوم کفرکے سبب گمرہی کا حکم عائد کرتے ہیں،کیوں کہ صریح انکار کے باوجود لزوم کفر باقی رہتا ہے-

فقہائے کرام لازم مذہب کومذہب مانتے ہیں،اس لیے وہ حکم کفر جاری کرتے ہیں۔ اس باب میں اختلاف کا سبب یہی ہے کہ لازم مذہب،مذہب ہے یانہیں؟ متکلمین لازم مذہب کومذہب تسلیم نہیں کرتے۔فقہا لازم مذہب کومذہب تسلیم کرتے ہیں۔

امام عبد الوہاب شعرانی شافعی (۸۹۸؁ھ-۳۷۹؁ھ)نے تحریر فرمایا:
(قال الشیخ کمال الدین بن ابی شریف:ومن قال منا بان لازم المذہب مذہب،کفر المبتدعۃ الذین یلزم مذہبہم ما ہو کفر فان المجسمۃ مثلًا عبدوا جسما وہو غیر اللّٰہ تعالی بیقین ومن عبد غیر اللّٰہ،کفر-قال:واما المعتزلۃ فانہم وان اعترفوا باحکام الصفات فقد انکروا الصفات ویلزم من انکار الصفات انکار احکامہا فہم کفار بذلک -قال الکمال:والصحیح ان لازم المذہب لیس بمذہب وانہ لا کفر بمجرد اللزوم-لان اللزوم غیر الالتزام)(الیواقیت والجواہر فی بیان عقائد الاکابر ص527-526-داراحیاء التراث العربی بیروت)

قال الہیتمی:(وضابط الاعتقادی اَنَّ مَن نَفٰی اَو اَثبَتَ لَہٗ تَعَالٰی مَا ہُوَصَرِیحٌ فِی النَّقصِ،کَفَرَ-اوما ہو ملزومٌ لِلنَّقصِ،لَم یَکفُر-لِاَنَّ الاَصَحَّ اَنَّ لَازِمَ المَذہَبِ لَیسَ بِمَذہَبٍ)(الفتاوی الحدیثیہ: ص142-دارالفکر بیروت)

وضاحت:ان شاء اللہ تعالیٰ متعددقسطوں میں لزومی انکار، التزامی انکار اور صفات الٰہی کے مبادیات کی توضیح وتشریح مر قوم ہوگی۔غیر ثابت صفات کو رب تعالیٰ کے لیے ثابت کرنے کا حکم بیان ہوگا،اور دیگر ضمنی امور پر بحث ہوگی:وما توفیقی الاباللہ العلی العظیم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے