مضامین و مقالات

اے آفتابِ محبِ وطن تو کدھر ہے آج!

(ہندوستان کل اور آج ہماری ذمہ داریاں)

از قلم: محمد عمر نظام آبادی

کرہ ارض پر سرزمین ہند وہ منفرد شناخت رکھنے والا اور بےشمار خصوصیات و امتیازات کا حامل ملک ہے جس کی نظیر کسی اور بلاد و دیار میں نظر نہیں آتی، جہاں مختلف مذاہب و متنوع تہذیبوں کے لوگ بود و ماند رکھتے چلے آرہے ہیں؛ بایں طور کہ بودھ مت، جین مت اسی ملک میں پیدا ہوئے، ہندو مت نے بھی یہی فروغ پایا، پارسی مذہب نے بھی ہندوستان کے سایہ میں اپنے آپ کو باقی رکھا، سکھ مت نے بھی ہندوستان ہی میں آنکھیں کھولیں، مسلمان بھی یہیں پروان چڑھے،مختصر یہ کہ یہ ایک جمہوری نظام والا سیکولر ملک ہے، جس کی آزادی کے لئے ہمارے بزرگوں نے وہ بےشمار اور ناقابلِ فراموش قربانیاں پیش کی جن کو جھٹلانا اور مٹانا تاریخ کے ساتھ بدترین سلوک اور انسانیت پر انتہائی درجہ کا ظلم ہے؛ کیوں کہ ہمارے اکابرین اور علماءِ دین متین اور مسلم عوام اور غیرمسلم اہل وطن بھائیوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیکر اپنے وطن عزیز کی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے کئی ایک تحریکیں چلائی اور اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کئے؛ چنانچہ کہیں علماء کرام کی نعشوں کو درختوں پر لٹکائے جانے کی خون چکاں داستان ہے تو کہیں تختہ دار پر پھانسی کے پھندوں کو چوم کر جامِ شہادت نوش کرنے والوں کے دلخراش مناظر ہیں، صرف یہی نہیں؛ بلکہ کئی ہزار علماء کرام کو برہنہ کرکے آگ کے انگاروں پر ڈالا گیا اور اس پر مستزاد یہ کہ دہلی کی چاندی چوک سے خیبر تک کوئی درخت ایسا نہ تھا جس پر کسی عالم دین کی نعش نہ لٹکائی گئی ہو اور لکھنے والوں نے لکھا کہ ان علماء کرام کی تعداد اکاون ہزار سے زائد تھی، اور اسی طرح کالے پانی اور مالٹا کی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتوں کو جھیلا؛ مگر تحریکِ آزادی سے دستبردار ہونے کے لئے ہرگز آمادہ نہیں ہوئے؛ خلاصہ یہ کہ انہوں نے اپنی آنکھوں میں اپنے پیارے ملک کی آزادی کے خواب لیے جان و تن نچھاور کیا، اور تن کے گورے من کے کالے انگریزوں کو راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور کردیا ؛ تاکہ اس ملک کے باشندے غیروں کے ناپاک تسلط سے چھٹکارا پا کر چین و سکون کی سانسیں لے سکے اور ایک ایسا دستور اور آئین بنایا جائے جس میں ہر باشندے کو مذہبی اور شہری مکمل آزادی حاصل ہو، اور اپنے مذہبی شعائر کے اختیار کرنے کا حق ملے‌؛ ہمارے بڑوں اور بزرگوں نے تمام برادرانِ وطن کی آزادی کی خاطر اور ان کے تحفظ، ملک کی سلامتی، تہذیب وتمدن کی بقاء اور انسانی حقوق کی بحالی کے لئے جنگ آزادی میں بےمثال کارنامے سرانجام دیے۔

آزادی کے بعد فرقہ پرستوں کی سازشیں اور آئین کے ساتھ بدترین سلوک
ہندوستان کی آزادی کے لیے ہمارے بڑوں نے اتنی قربانیاں دیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس ملک کو سونے کی چڑیا بنا دیا تھا ؛ لیکن ہماری بدقسمتی کہ آزادی کے بعد فرقہ پرست طاقتوں اور جمہوریت کے دشمنوں نے پورے ملک میں نفرت و عداوت اور اختلاف و انتشار کا ماحول پیدا کرکے اس سونے کی چڑیا کو مٹی کی گڑیا بنا کر رکھ دیا
اس لئے کہ ہمارا ملک ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور ہمارے دستور نے یہاں کے سب باشندوں کو یکساں طور پر حق دیا ہے کہ وہ اپنے مذہب کے سلسلہ میں آزاد ہیں، ان کو ان کے مراسم عبادت ادا کرنے اور اپنے مذہب کے مطابق حلال وحرام چیزوں کے ساتھ معاملہ کرنے کا پورا پورا حق ہے اور اہلِ ہند کے لئے یہ فخر کی بات تھی کہ بہت حد تک یہاں کی حکومتیں اس آئین و قانون کی پابندی کرتی تھیں؛ مگر اب چند سالوں سے بعض جمہوریت کے دشمن عناصر آئین کے ساتھ کھلواڑ کرکے بنیادی قانونی حقوق کو غبن کررہی ہیں، چنانچہ اب نہ تو ہمارے مذہبی معاملات محفوظ ہے اور نہ ہی شہری حقوق، ہائے ہائے اب تو ہمیں غیر ملکی قرار دینے سے بھی دریغ نہیں کیا جارہا ہے؛ کیوں کہ موجودہ وقت میں جمہوریت ہلاکت کے دہانے پر، دم توڑتی معیشت، بے لگام میڈیا، تعلیمی پسماندگی، فرقہ پرستی اور تعصب پسندی، مذہبی و سیاسی عدم برداشت اور حکومت کی ناانصافیاں حد تو یہ ہے کہ ہمارے مذہبی معاملات اور دینی شعائر میں بےجا مداخلت کی ناپاک کوشش کی جارہی ہیں اور یہ سب امور وہی ہیں جنہوں نے اس محبت والی مٹی اور الفت والی فضاء کو نفرت وعداوت سے بدل کر امن و شانتی کا خون کردیا پھر کہیں گاؤرکھشکوں کی طرف سے مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے تو کہیں مسلم نوجوانوں کو نہایت بیدردی سے زدوکوب کیا جارہا ہے، ایک طرف پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے اسٹیج سے اسلامی اصول وقوانین کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو دوسری طرف زعفرانی جماعتوں کی طرف سے مسلمانوں میں منظم طور پر خوف وہراس پیدا کیا جارہا ہے رستہ خیز حالات تسبیح کے دانوں کے گرنے کی طرح تسلسل اور تیز گامی سے مسلمانوں پر آرہے ہیں وطن عزیز میں جہاں ایک طرف مسلمانوں کو دیش بھکتی نہ ہونے کا طعنہ دیا جا رہا ہے،تو وہی ہم سے اس ملک کے شہری اور باشندے ہونے کا ثبوت مانگا جا رہا ہے ،جس کا صاف اور ظاہری مطلب مسلمانوں سے کھلی بغاوت اور دشمنی کا اعلان کرنا ہے ،اور ان کی معیت میں بودوباش اختیار کرنے کو ناپسند کرنا ہے، دشمنان اسلام تو چاہتے ہیں کہ ہم ان کی حرکات و سکنات کی بنا پر پژمردگی اور مایوسی کا شکار ہوکر عزم و حوصلہ جیسی عظیم دولت کو کھو بیٹھے، اور اپنے آپ کو عاجز و ناتواں سمجھنے لگے، یاد رکھیں کہ ہمیں مصائب و مشکلات کے سیاہ بادلوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں؛ بلکہ پوری ثابت قدمی و پامردی سے یہاں کی آب و ہوا میں زندگی گزاریں ،اس لیے کہ اس ملک میں جتنا حق غیروں کا ہے،اتنا ہی ہمارا بھی ہے،ہم اس ملک میں برابر کے حق دار ہیں، کوئی کرائے دار نہیں‌۔

ہماری غفلت و کوتاہی
لیکن تف ہے ہماری غفلت و کوتاہی اور احسان فراموشی پر کہ (جن اکابرین کی بدولت اور ان کی قربانیوں کے نتیجے میں ہمیں آزادی کا انعام ملا ہے) آج ہمیں نہ ان کی قربانیوں کا صحیح علم ہے اور نہ ہی ان کی جانثاری سے واقفیت؛ ستم ظریفی کی انتہاء تو یہ ہے کہ خوشی ان مواقع (١٥‚ اگست، اور ٢٦ جنوری) پر ان بزرگوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ہمارے لبوں پر خاموشی کی مہر لگ جاتی ہیں کیا بڑے کیا چھوٹے ! نہ بڑوں کو تاریخ کا کوئی ذوق ہے نہ چھوٹوں کو کوئی دلچسپی، ہماری اسی غفلت کے سبب فرقہ پرست طاقتوں اور احسان فراموش لوگوں نے تاریخِ آزادی سے ہمارے ناموں کو حرفِ غلط کی طرح مٹا کر تاریخ کو مسخ کردیا پھر اسی غلط تاریخ سے ہماری نئی نسل کی ذہن سازی کی جارہی ہے اور انہیں احساسِ کمتری کا شکار کرکے ان سے وفاداری کا ثبوت مانگا جاتا ہے؛ حالانکہ یہ سب ہماری غفلت کا ثمرہ ہے اور پھر ایسا ہونا یقینی تھا کیوں کہ ہم نے اپنے ماضی کو بھولا دیا اور جس قوم کو اپنے ماضی سے واقفیت نہ ہو تو وہ قوم مستقبل کے روشن خواب کیا دیکھ سکتی ہیں! ماضی سے واقفیت ہی مستقبل کی سربلندی اور کامیابی کے لئے شاہِ کلید ہے؛ لہٰذا اب ضرورت ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو پڑھیں اور خواب غفلت سے بیدار ہوں؛ ورنہ وہ دن بعید نہیں کہ جس دن یہ بات صادق آجائیں
اہلِ باطل سے قیادت نہیں ہوگی اپنی
ان کواڑوں سے حفاظت نہیں ہوگی اپنی
خوابِ غفلت سے اگر اب بھی نہ جاگے ہم لوگ
گھر تو چھوڑو یہاں تربت نہیں ہوگی اپنی

ہماری ذمہ داریاں اور حل
یہ امر بدیہی ہے کہ جس ماحول کی تاریکی کو مٹا کر روشنی لانی ہو تو اسی ماحول میں ایک دیا جلانا ضروری ہوتا ہے اسی طرح ہمیں اپنے اس ملک عزیز کی حفاظت اور اس کے سیکولر کی سلامتی کے لئے آگے بڑھنا ہوگا، اور چند ایک امور کی رعایت ازحد ضروری ہوں گی؛ تاکہ اس ملک کی جمہوریت سلامت رہیں اور امن و امان، محبت و بھائی چارگی کا ماحول بحال ہوجائیں؛ چنانچہ ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ ہم اس ملک کی تاریخ کو پڑھیں، اور اپنے ماضی کو یاد رکھیں اور اپنے قانونی حقوق سے واقفیت حاصل کریں اور اپنی نسلوں کو اپنے بزرگوں کے کارناموں سے روشناس کرائیں؛ تاکہ ہمیں غدار کہنے والے اپنی سازشوں میں ناکام رہیں اور ہم احساس کمتری کا شکار ہونے کے بجائے برتری کے جذبات کے ساتھ زندگی بسر کریں۔
(٢) اسی کے ساتھ ساتھ اپنی نسلوں کو صحیح تاریخ سے باخبر رکھنے کے لئے مختلف مواقع سے مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں، تاریخِ آزادی سے متعلق سوال و جواب کوئز چلائے جائیں، اور جنگِ آزادی کے گمشدہ جیالوں پر مختصر مختصر تقاریر بنا کر یاد دلائیں؛ تاکہ مجاہدین کی تاریخ یاد رہنے سے ان میں عزم و حوصلہ اور جرأت اور استقامت جیسی صفات پیدا ہو۔
(٣) یہاں کے بسنے والے برادرانِ وطن کے مختلف طبقات میں اسلام اور اہلِ اسلام سے متعلق مختلف قسم کے غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ اسلام و اہلِ اسلام سے دور ہیں یا دور رکھے جاتے ہیں تو ایسے حالات میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم غیر مسلم بھائیوں کے سامنے عقائدِ اسلام اور اسلامی تعلیمات کی مناسب و معقول تشریح وتوضیح کریں، نیز لوگوں کو اسلام سے متعارف کرائیں، اس کی آفاقیت و ہمہ گیری اور لسانی، جغرافیائی، مکانی و زمانی حدود سے اس کی بالاتری کو بیان کریں اس کی سچائیاں ان کے سامنے واضح کریں، اس کی تعلیمات کو آشکارا کریں، اور اس کی معقولیت اور زمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت کو سامنے لائیں، کیوں کہ ان حالات کے پیش آنے کا ایک سبب یہ کہ ہم نے غیرمسلم بھائیوں کے سامنے تعارف اسلام پیش کرنے میں بڑی کوتاہی کی، اور اب بھی ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم اس فریضہ کو سرانجام دیں۔
(٤) ایک اہم کام آپسی اتحاد و اتفاق کو فروغ دینا ہے؛ کیوں کہ کسی بھی قوم کی کامیابی وکامرانی اور فتح ونصرت کی تاریخ رقم کرنے میں سب سے کلیدی رول اس قوم کے درمیان پایا جانے والے اتحاد کا ہوتا ہے، تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ قوموں کے عروج و زوال، اقبال مندی و سربلندی، ترقی و ارتقاء ،خوش حالی و فارغ البالی میں اتحاد و اتفاق،باہمی اخوت و ہمدردی اہم ترین سبب ثابت ہوا ہے ،ملت اسلامیہ کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ جب تک فرزندان توحید کے اندراتحاد و اتفاق پایا جاتا رہا تب تک وہ فتح ونصرت اور کامیابی و کامرانی کا علم پوری دنیا میں لہراتے رہے اورجب انہوں نے اتحاد و اتفاق کے دامن کو چھوڑ کر اختلاف و انتشار پھیلانا شروع کیا تو ان کو سخت ترین ہزیمت و شکست اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا؛ لہٰذا ہمیں اس ملک کی سلامتی کے لئے آپسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد و اتفاق کی رسی تھامنا ہوگا؛ ورنہ پھر حالات پر رونے اور پریشانیوں پر ماتم کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔

خلاصۂ تحریر:
١٥ اگست اور ٢٦ جنوری یہ دونوں یادگار دن ہے جو بڑے سرور و شادمانی اور خوشی و مسرت کے ساتھ منائیں جاتے ہیں؛ لیکن حقیقی خوشی اسی وقت ممکن ہے جب کہ زندگی میں جین وسکون ہو، اور ہر طرح کی مکمل آزادی حاصل ہو، چونکہ ہمیں یہ آزادی پھولوں کے گلدستے کی شکل میں ملی ہے تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اکابر کی تاریخ کو اور ان کی قربانیوں کو یاد رکھیںتو اس کے لئے ہمیں اپنے حقوق سے آگاہ ہوں ، اور اپنے غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ رواداری و بھائی چارگی اور اتحاد و اتفاق کا معاملہ کرے ان شاء اللہ کامیابی قدم چومے گی
اللہ تعالیٰ ہمارے اس پیارے ملک کی حفاظت فرمائے اور ہمارے جان مال اور عزت و ایمان کی سلامتی کے فیصلے فرمائے آمین

اے اہل وطن شام و سحر جاگتے رہنا
اغیار ہیں آمادہ شر جاگتے رہنا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے